دیوبند : قصبہ ناگل کے بھارٹ کھیڑی روڑ پر واقع ایک میٹنگ ہال میں بھارتیہ کسان یونین کی جانب سے ایک پریس کانفریس منعقد کرکے تنظیم کو مزید وسعت دینے کا اعلان دیا گیا ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے قومی صدر وکاس سنگھ سینی نے کہا کہ ان کی تنظیم غیر سیاسی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم ایک درجن سے زائد صوبوں میں کسانوں کے حقوق کے لئے مسلسل جد وجد کررہی ہے اور دن رات کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔انہوں نے کسانوں کے نام پر تشکیل دی جانے والی تنظیموں پر کسانوں کے استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں کسانوں کی حالت نہایت قابل رحم ہے ۔وکاس سنگھ سینی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کا کسان اس وقت آکسیجن کے ذریعہ زندہ ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے قرضوں کو معاف کیا جائے اور ان کے بجلی کے بلوں کو 50؍فیصد کم کردیا جائے ۔اس کے علاوہ انہوں نے یکساں تعلیم کے نصاب کو نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔وکاس سنگھ سینی نے نہایت سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں پر ظلم وزیادتی اور ان کا استحصال قطعی طور پر داشت نہیں کیا جائے گا۔صوبائی صدر ڈاکٹر سریندر سنگھ مننوال نے ملک کے چوتھے ستون میڈیا سے کہا کہ وہ کسانوں ،فوجی جوانوں اور پہلوانوں کی تکلیفوں اور ان کے خاص مسائل کر ترجیحی طور پر اجازت دیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں اور مزدوروں کے لئے ایم ایس پی قانون بنایا جائے اور وزیر اعظم کسان سمان ندھی کوبڑھا کر کسانوں کے حق میں مناسب کاموں کو انجام دینے کا بھی مطالبہ کیا ۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ آئندہ گیارہ جون کو ہری دوار میں ایک کسان ریلی آیوجت کی جائے گی ۔بعد ازاں قومی نائب صدر ونود پرجا پتی قومی کنوینر مکیش کام بوج قومی جنرل سکیٹری اور پرمود شرما اور فخر عالم نیز قومی ترجمان توفیق احمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر تنظیم کو وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے موہت چودھری کو تنظیم کا ضلع صدر مقرر کیا گیا ۔موہت چودھری نے ضلع صدر مقر رہونے پر اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے پورا کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے تنظیم کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا ۔












