بہار میں ذاتی مردم شماری کے لیے بہار ودھان سبھا میں آرڈیننس لاکرحزب اقتدار اور حزب مخالف کے متفقہ فیصلہ اور پالیسی سے دوسیشن میں ذاتی مردم شماری کا شیڈول بنایا گیاتھا، پہلا سیشن سردی کے موسم میں مکانوں اور مکینوں کی گنتی ہوئ دوسرے سیشن میں مکینوں کی ذاتی تفصیلات کی معیت میں دیگر جان کاری بھی جمع کی گئی، تعلیم گاہوں کے تعلیمی نظام کو متاثر کرکے ذات پر مبنی مردم شماری کے معمول کو ترجیح دی گئ، مگرگزشتہ دنوں پٹنہ ہائ کورٹ کاآدیش” عبوری روک” نے سب پر بریک لگا دیا،کروڑوں روپےصرف ہوں، ملک کے نونہالان کا تعلیمی نقصان ہوااور ان گنت نقصانات ہوں آخر ان سب کی بھرپائی اب کون کرے گا؟حالیہ اس عبوری روک پر عدالت کے احترام میں ہنگامی اور اجتماعی دنیا پرضرور لب اور قلم خاموش ہیں مگر انفرادی طورپر ضرور کوئ شکوہ بلب ہے تو کوئ فریاد کناں ہے،حکومت بھی چاروناچار عدالت کے فیصلے پرخاموش مگرحکومت کے ماتحت بھی حکومت پر”غبار آلود موقف”جیساالزام لگانے سے بھی پیچھےنظر نہیں آرہے ہیں،ذاتی مردم شماری پر عبوری روک سے ایک طبقہ تو خوشیوں کی بلندی کی طرف پابہ رکاب ہی نہیں ہوا ہے بل کہ درشت لہجہ،آتش نواروپ دھارن کر چکا ہے،بہار میں ذاتی مردم شماری کے فیصلے کو حکومت کا ژولیدہ اعلان تک کہا گیا،سرکاری پیسوں کے ضیاع کا نام دیا گیا،لاحاصل اور فضول اسکیم گردانا گیا،حکمراں کے پیٹ میں دانت اور دماغ کو عقل سے خالی بتایا گیا، ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل ظاہری طور پر حکومت اور ذاتی مردم شماری کے خلاف ایسا ہنگامہ دیکھنے کو نہیں ملاتھا مگر عبوری روک کےفیصلے سے ایسا محسوس ہواکہ سارے زہریلے سانپ اپنے اپنے بلوں اور آستینوں سے باہر آگئے ہوں ،یہ فیصلہ ان ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے لیے شاید دردکادرماں ثابت ہواہو،وہ طبقہ جن کا وجود پانچ فیصد سے کم ہے مگر سرکاری مراعات کے صد فیصد حصہ پران کا قبضہ ہے ان کے لیے توموجودہ فیصلہ ’’نورعلی نور‘‘ ثابت ہوا،ان کے اکابر واصاغر کوانواع واقسام کے ثمرات تو دستیاب ہیں ہی اگراب اس ذاتی مردم شماری پر روک نہ لگے تو ان کے مراعات کی بازیابی پر بریک اور قدغن لگ جائے گی، جب کہ بہار سرکار کا مقصد ذات پر مبنی مردم شماری سے ترقیاتی اہداف کا دائرہ وسیع کرنا ہے،ہرایک خاندان کی تعلیمی، سیاسی، اقتصادی،سماجی اورمعاشرتی پہلؤوں کو اکٹھا کرنا ہے، تاکہ منصوبہ بندی بہ سہولت ہوسکے،کس خاندان کے کتنے لوگ اندرون ریاست اور بیرون ریاست اقامت پذیرہیں ان کی ڈیٹا محفوظ ہوسکے،کس خاندان کے کتنے فیصد سرکاری اسکیموں اور یوجناؤں سے فائدہ لے رہے ہیں اس کا محاسبہ کیا جاسکتا۔
مگر ایسے بھی بے مغز صاحب کھوپڑی ہیں جو بے دماغ ہو کرفتنہ و فساد کے ہجوم کی پیشوائ فرما رہے ہیں،ہتھیار بردار زبان و قلم سے شکتی پردرشن کررہے ہیں،یہ سچ ہے کہ ملک گیر سطح پر ذاتی مردم شماری سے مرکزی حکومت کنارہ کشی کررہی ہے مگر یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ’’منموہن سنگھ‘‘ سرکار میں مردم شماری کا کام ہوا ہے، گرچہ رپورٹ سے بعد کی سرکار نے چھیڑ چھاڑ کی ہے،
بہار میں ذاتی مردم شماری کی آواز کافی قدیم ہے،لالو جی نے بھی اپنے دور اقتدار میں اس کو اہم مدعا بنا کر پیش کیا تھا،خود موجودہ وزیر اعلی نتیش کمار نے اپنی حلیف دس پارٹیوں کے زمہ داران کے ساتھ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور ذاتی مردم شماری کے ایجنڈے کو رکھا تھا، آج کے حریف اُس وقت کے رفیق بھی ساتھ تھے مگر افسوس آج پرانے ساتھی مخالفت کے کمان کو سنبھالے ہوئے ہیں،سبھی وعدے، ارادے کونسیا منسیا کر کے جارحانہ اور انتقامانہ رول اختیار کئے ہوئے ہیں، استثناؤں سے قطع نظر اس ذاتی مردم شماری کو نیم جاں نہیں بل کہ بے جان کرنے پر تلے ہوئے ہیں، خوف، سراسیمگی اور دل خراشی کے ہنگامہ خیز مناظر سے ماحول کو زہر آلود بنانے کی ناکام سعی کررہے ہیں، میرےاعصاب شکن احساسات نے اس عبوری روک کوایک ہمالیائ نقصان سے اوپر تصور کیا ہے، بہارسرکار اپنے موقف کوپہلے ہی واضح کرچکی ہے، انھیں چاہیے کہ اس عبوری روک کو ہٹانے کے لیے وہ اپنی طاقت اور پاور کو مکمل جھونک دے تاکہ ریاست کے ہرہرفردکو ان کا حق مل سکے۔












