کرناٹک میں اسمبلی انتخاب ،منی پور میں نسلی فساد ،کشمیر میں ایک بار پھر دہشت گردی کے پھیلتے سائے کے درمیان گوا میں چین کی جانب سے منعقد کئے جانے والے ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی شمولیت نے سب کو حیران کر دیا ہے ۔حیرت اس پر بھی ہے کہ آخر انتخابی موسم میں ہندوستان نے پاکستان کی شمولیت کو قبول ہی کیوں کیا۔حالانکہ اس کانفرنس میں ہندوستان نے کسی بھی ملک کے نمائندے کے ساتھ الگ سے کوئی بات نہیں کی لیکن پاکستانی نمائندے کے ساتھ خاص طور پر نہ صرف نہایت سرد رویہ رہا بلکہ وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے نہایت سفاکانہ لہجے میں کہا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے دہشت گردی کرنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھا کرتے ۔ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ایس جئے شنکر نے اس اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں کیا جس پر میڈیا میں تبصرہ بھی کیا گیا اور پاکستان کی میڈیا نے اس کو پاکستان کی بے عزتی بھی قرار دیا ۔ہندوستان اور دیگر کئی ممالک کی میڈیا نے بھی اس کا نوٹس لیا اور ایس جئے شنکر سے جب اس پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کو فروغ دینے والے، اس کا جواز دینے والے اور، معذرت کے ساتھ، دہشت گردی کی صنعت کے ترجمان ملک پاکستان کو اس کی پوزیشن کا جواب دیا گیا ہے۔جے شنکر کے مطابق ’دہشت گردی سے متاثرہ خود کا دفاع کرتے ہیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہیں، یہی ہو رہا ہے۔‘
جے شنکر کو بلاول بھٹو کے بیان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا ’ان کا یہاں آ کر ایسے منافقانہ بیان دینا کہ جیسے ہم ایک کشتی کے سوار ہیں۔ وہ خود دہشت گردی کر رہے ہیں انہیں دہشت گردی کے حوالے سے موقف واضح رکھنا چاہئے۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ چین پاکستان کی راہداری کے حوالے سے ایس سی او اجلاس میں واضح کیا گیا کہ رابطے ترقی کے لیے اچھے ہیں لیکن رابطے علاقائی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘جے شنکر کے مطابق سی پیک انڈیا کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔پانچ مئی کی صبح دونوں رہنما کیمرے کے سامنے نظر آئےلیکن سرد انداز برقرار رہا۔ وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کا استقبال کرتے ہوئے جے شنکر نے ’نمستے‘یعنی ہاتھ جوڑ کر انڈیا کے ایک روایتی انداز سے بلاول بھٹو کا استقبال کیا، اور انھوں نے بھی دوسرے وزرائے خارجہ کی طرح اسی انداز میں جواب دیا۔ اس کے بعد دونوں لیڈر بنا مصافحہ کئے کچھ دوری پر خاموشی سے کھڑے ہو گئے۔حالانکہ جے شنکر نے دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بھی مصافحہ نہیں کیا تھا لیکن فوٹوز کلک ہونے کے چند سیکنڈ بعد جے شنکر مسکراتے ہوئے بھٹو سے کچھ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسرے لیڈروں کی طرح انھیں بھی جانے کا اشارہ کرتے ہیں۔ بھٹو اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔اس میں خاص بات یہ ہے کہ دونوں لیڈر جب تک کیمرے پر تھے تب تک ایک دوسرے سے بالکل بات کرتے نظر نہیں آئے، جب کہ جے شنکر اسٹیج پر آنے والے دیگر لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
بعد میں وزرائے خارجہ کے گروپ فوٹو میں جے شنکر، میزبان کے طور پر درمیان میں کھڑے ہیں، اور بلاول اور روسی وزیر خارجہ لاوروف ایک ساتھ جے شنکر سے ایک فرد دور کھڑے ہیں۔
حالانکہ دونوں رہنماؤں نے مبینہ طور پر چار مئی کو ایس سی او ڈنر میں مصافحہ کیا تھا لیکن اس پروگرام میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں تھی اور بعد میں بھی کوئی تصویر یا متعلقہ معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
عام طور پر مبصرین کا کہنا بھی یہی ہے کہ ایسے وقت میں جب ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں انتخابی مہم زوروں پر ہے پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کا یہ رویہ فطری ہے کیونکہ ایک طرف پاکستان کی سیاست میں کشمیر کو آزاد کرانا ایک عام نعرہ ہے تو دوسری طرف ہندوستان کا بھی کوئی انتخاب پاکستان کے خلاف بیان بازی کئے بغیر مکمل نہیں ہوتا ۔لیکن ان سب سے الگ ایک بات اور ہے اور وہ یہ کہ کیا پاکستان کے مقابلے چین بھارت کا دوست ہے ؟چین تو آزادی کے بعد لگاتار ہماری زمینوں کو بھی اپنے قبضے میں لے رہا ہے ۔ہمیں پاکستان کے مقابلے چین سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے جنگ میں بھی اور خارجہ پالیسی کی سطح پر بھی ۔پھر بھی اگر ہم چین کے کہنے پر اس کے دوست ممالک کی میٹنگ اپنے ملک میں ہونے دیتے ہیں اور اس میں پاکستان جو چین کا قریبی دوست ہے اس کی شرکت کو روک نہیں سکتے تو پھر کیا یہ حکمت عملی بھی نہیں اپنا سکتے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کا کھلے دل کے ساتھ استقبال کرتے اور اس سے ہاتھ ملانے سے آگے بڑھ کر گلے بھی ملتے تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ہم اپنے پڑوسیوں سمیت عالمی برادری کا استقبال کرنے کی اپنی روایت کا کس قدر احترام کرتے ہیں ۔اور یہ نہ کر کے ہم نے ایک موقع کو ہاتھ سے نکل جانے دیا۔












