بہار کی سیاست میں اچانک ایک زلزلہ سا آگیا ہے اور حکمراں جماعت پر طرح طرح کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ۔بالخصوص نتیش کمار کو نشانہ بنایا جا رہاہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لئے انہوں نے ایک آئی اے ایس آفیسر جی کرشنیا قتل کے سزا یافتہ مجرم آنند موہن سنگھ جنہیں عمر قید کی سزا تھی ان کی رہائی کے لئے حکومت بہار نے جیل ضابطے میں ترمیم کی ہے ۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ حکومت بہار نے آنند موہن سنگھ کے ساتھ ساتھ دیگر 27سزا یافتہ قیدیوں کو بھی نئے جیل ضابطہ ترمیم 2012کے تحت رہائی کا حکم صادر کیا ہے ۔ اس لئے نتیش کمار نے تمام مبینہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا موقف واضح کردیا ہے کہ یہ فیصلہ ریاست کو جو آئینی اختیارات حاصل ہیں اسی دائرے میں رہ کر کیا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ریاست کے چیف سکریٹری جناب عامر سبحانی نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ بھی تمام افواہوں اور حکومت پر الزام تراشی کرنے والوں کو جواب دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کا فیصلہ کسی شخص واحد کے لئے نہیں ہے بلکہ جیل ضابطے کے مطابق جن سزا یافتہ قیدیوں کے عادات واطوار بہتر رہے ہیں اور ان کی رپورٹ ضلع سطح سے حکومت کو حاصل ہوئی تھی ان سبھوں کی رہائی کی گئی ہے ۔ جہاں تک آنند موہن سنگھ کی رہائی کا معاملہ ہے تو وہ تقریباً پندرہ سال کی سزا جیلوں میں کاٹ چکے ہیں اور جیل کے اندر ان کے کردار واعمال قابلِ تحسین رہے ہیں اس کی بنیاد پر ان کی رہائی کا راستہ ہموار ہوا ہے ۔ مگر حزب اختلاف کے بعض لیڈران اب بھی اس رہائی کو سیاسی چشمے سے دیکھ رہے ہیں اور ہر طرف سے حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔
واضح ہو کہ 5؍ دسمبر1994میں گوپال گنج کے ضلع کلکٹر جی کرشنیا ایک سرکاری میٹنگ کے لئے نکلے تھے اور مظفرپور میں ایک ہجومی تشدد کے شکار ہو گئے تھے۔ چوں کہ اس ہجوم کی قیادت بطور سیاسی رہنما سابق ممبر پارلیامنٹ آنند موہن سنگھ کر رہے تھے اس لئے جی کرشنیا کی موت کے بعدآنند موہن کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور ضلع کورٹ نے3؍ اکتوبر2007ء کو آنند موہن کے ساتھ تین دیگر ملزمین کو پھانسی کی سزا سنائی ۔ اس سزا کے خلاف سبھی مجرم 10دسمبر 2008ء کو ہائی کورٹ گئے اور پٹنہ ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا کو عمر قیدمیں تبدیل کردیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آنند موہن 2012میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا لیکن عدالت عظمیٰ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقراررکھا لہذا آنند موہن کو عمر قید کی سزا کاٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں کہ آنند موہن سنگھ ایک تیز طرارسیاسی لیڈر رہے ہیں اور بہار میں ان کی شناخت ایک خاص طبقے راجپوت کے لیڈر کے طورپر ہوتی رہی ہے ۔ اگرچہ وہ شروع سے ہی متنازعہ فیہ شخصیت کے حامل رہے کہ ان پر جرائم کے درجنوں مقدمات درج تھے۔ مگر وہ ایک فعال سیاست داں کے طورپر کبھی اسمبلی اور پارلیمنٹ انتخاب میں کامیاب ہوتے رہے۔ ان کے بعد ان کی اہلیہ لولی آنند بھی اسمبلی اور پارلیامنٹ کے انتخاب میں حصہ لیتی رہیں اور کامیاب بھی ہوئی ہیں اور اس وقت ان کے صاحبزادہ ممبر بہار قانو ن ساز اسمبلی ہیں ۔ غرض کہ آنند موہن سنگھ کے جیل جانے کے بعد بھی بہار کی سیاست میں اثرورسوخ باقی رہا ۔ اب جب کہ جیل سے ان کی رہائی ہوگئی ہے تو ایک بار پھر وہ بہار سیاست میں سرگرم ہوں گے۔ چوں کہ اس وقت جنتا دل متحدہ اور راشٹریہ جنتا دل اتحاد کی حکومت ہے اس لئے حزب اختلاف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس رہائی کو سیاسی نظریے سے دیکھ رہی ہے اور حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ لیڈر سوشیل مودی نے اس رہائی کو سیاسی مفاد کے لئے اٹھایا گیا غیرقانونی قدم بتایا ہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ خود بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے لیڈروں نے آنند موہن کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے ۔دراصل یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں کی رہائی ہوئی ہے ۔ اکثر یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے موقع پر اس طرح کے اعلانات ہوتے رہے ہیں کہ جن قیدیوں کے عادات واطوار قابلِ تحسین رہے ہیں ان کے لئے رہائی کا راستہ ہموار کیا جاتا رہا ہے ۔ ریاست بہار میں گذشتہ چھ برسوں میں 1161سزا یافتہ قیدیوں کی رہائی پر غوروخوض کیا گیا اور ضابطے کے مطابق 698قیدیوں کورہا کیا گیا ہے۔ جہاںتک جیل ضابطے میں ترمیم کا سوال ہے تو وہ صرف اور صرف آنند موہن کی رہائی کے لئے نہیں کیا گیا ہے بلکہ وقت کے تقاضوں کے مدنظر کئی ترمیمات کئے گئے ہیں۔ اس لئے اس رہائی کو بھی اسی نظریے سے دیکھا جانا چاہئے جیسا ماضی میں ہوتی رہی ہے۔ دریں اثناء مقتول آئی اے ایس آفیسر جی کرشنیا کی اہلیہ نے حکومت بہار کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کا رخ کیا ہوتا ہے لیکن ان دنوں آنند موہن کی رہائی کو لے کر بہار کی سیاست کا پارہ قدرے چڑھا ہوا ہے کہ ایک طرف حکومت اپنی دفاع میں لگی ہوئی ہے تو حزب اختلاف اس رہائی کو سیاسی رنگ دے کر حکومت کو زیر کرنے کی کوشش میں لگا ہواہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنند موہن کا جیل سے باہر آنا اور ان کا سرگرم سیاست میں حصہ لینا موجودہ حکمراں اتحاد کے لئے مفید ہو سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ آنند موہن کا تعلق جس راجپوت برادری سے ہے وہ ان کی حمایت میں حکمراں اتحاد کے ساتھ کھڑے ہوں۔ کیوں کہ اس وقت اس برادری کے بیشتر قد آور لیڈر بھاجپا کے ساتھ ہیں اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج سے دو دہائی پہلے بہار کی سیاست میں آنند موہن کا جو رتبہ تھا وہ اب نہیں رہا کہ اس وقت نہ صرف بہار میں بلکہ قومی سیاست کی فضا بھی قدرے تبدیل ہوچکی ہے ۔اس لئے حکمراں جماعت کو بھی اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ آنند موہن کی رہائی کا کوئی خاطر خواہ فائدہ اسے ملنے والا ہے اور حزب اختلاف کو بھی اس خوش فہمی سے دور رہنے کی ضرورت ہے کہ شخص واحد کے حوالے سے نتیش کمار کو نشانہ بنانے سے کوئی بڑا سیاسی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے کیوں کہ آنند موہن کے ساتھ جن دیگر 27سزا یافتہ قیدیوں کی رہائی ہوئی ہے ان کا تعلق مختلف ذات اور برادریوں سے ہے اور وہ سب بھی کسی نہ کسی شکل میں اپنا علاقائی اثر رکھتے ہیں۔












