خبرلگی ہے کہ اب گلشن میں نہیں ہے نکہت
یہ سن کے کتنے ہی گل اب اداس بیٹھے ہیں
ملک کی مشہورومعروف شاعرہ نسیم نکہت کامختصرعلالت کے بعد لکھنئوکے ایرامڈیکل اسپتال میں انتقال ہوگیا،محترمہ نسیم نکہت ترنم میں غزل وگیت پڑھتی تھی، ملک وبیرون میں اپنے شعروشاعری کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی تھی ،سریلی نسوانی آوازسے مشاعرے کوکامیاب کردیتی تھیں،اردوزبان وادب کے چاہنے والے لوگ مشاعرے میں جوق درجوق شریک ہوتے ہیں، راستے کی صعوبتوں اورپریشانیوں کاذرابھی خیال نہیں کرتے یہ ان لوگوں کااردوزبان وادب سے محبت کاثبوت ہے اوریونہی ارردوزبان وادب پروان چڑھتارہے گا۔ڈاکٹرنسیم نکہت کی پیدائش ضلع بارہ بنکی اترپردیش میں ہوئی ،چھوٹی بچہ ہی تھی کہ پھوپی جان نے گودلے لیاتھا،اچھاسے پالاپوساتعلیم وتربیت کی دولت سے آراستہ کیا، پرورش وپرداخت کی پوری ذمہ داری پھوپی کے ہی ذمہ تھا،لکھنئوکی تہذیب وتمدن سے پوری طرح مزین ہوئی ،ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لکھنؤ یونیورسیٹی کے شعبہ اردو سے ایم اے اردواوراردوشاعری میںواقعہ کربلاء کے موضوع پر۱۹۹۳پی ایچ ڈی کی ڈگڑی حاصل کی۔
شعروشاعری کی دنیامیں محترمہ نسیم نکہت نے بہت نام وشہرت کمایاہے،غزل وگیت کے ذریعہ سے اپنی الگ شناخت وپہچان بنائی ہے،کئی کتابیں منظرعام پرآئی اورعوام وخاص میں مقبول ہوئی،ان کی کتابیں مندرجہ ذیل ہیں،دھواں دھواں،خواب دیکھنے والوں،مراانتظارکرنا،مشاعرے دیدہ شنیدہ (مقالہ) مولانا آزاد سنٹرل یونیورسیٹی حیدرآباد میں ان پر ایم فل ہوچکی ہے،جوکہ اپنے آپ میں کسی اعزازسے کم نہیں ہے۔ڈاکٹر نسیم نکہت کی شعروشاعری کی خدمات کے اعتراف میںکئی ایوارڈ مل چکے ہیں،جن میںنوائے میر ایوارڈلکھنئو،یادفراق ایوارڈ،شہرادب سمان غازی آباد،ساہتیہ جواہرایوارڈلکھنئو،پروین شاکر ایوارڈ دہلی،اورسفرکمال کراچی شامل ہے ،ڈاکٹر نسیم نکہت طویل عرصے تک راشٹریہ سہارااردولکھنؤ کی سب میں بھی رہ چکی تھیں۔محترمہ نسیم نکہت کی شعروشاعری کاآغازگھرسے ہوا،پھوپی شعرو شاعری سے ذوق وشوق اور تعلق رکھتی تھیں اورلکھنؤ کے امام باڑے میں مجلس میں پڑھتی تھی، جب نسیم نکہت کی شعروشاعری سے دلچسپی ہونے لگی اوراپنے گھرسے ہی ترنم میں شعرپڑھناشروع کیا،امام باڑے کی مجلس میں ایک دفعہ ترنم سے شعر پڑھنے کاموقع ملااتفاق سے اس مجلس میں ایک شاعربھی موجودتھے جس کونسیم نکہت کی آوازاچھی لگی اوردادوتحسین سے نوازا اورمشاعر ے میں بھی متعارف کرایااورصلاح ومشورہ دیاکہ مشاعرے میں غزل پڑھولوگ پسند کریں گے،نسیم نکہت کے حوصلے بلندہوگئے اس وقت سے نسیم نکہت مشاعرے کی دنیامیں شریک ہونے لگی اوربین الاقوامی شاعرہ کے طورپرمتعارف ہوئی،محترمہ نسیم نکہت کی شادی پندرہ سال کی عمرمیں کردی گئی ،ان کے سسرگوہرلکھنئوی تھے، اس وقت کے مشہورشاعرتھے،انہیں سسرال میں شاعری کی پوری آزادی تھی ،کوئی کسی طرح کی بندش نہیں تھی ،ملک وبیرون ملک میں شریک ہونے کی اجازت تھی ،گھروالوں نے شعروشاعری میں مددکی بلکہ حوصلہ افزائی کی اورپوری طرح سے شدھ بودھ کے ساتھ اپنی شاعری میں احساس وجذبات کابرملااظہارکرتی تھیں،ان کے اشعارکے کچھ نمونے کے طورپرپیش کرتے ہیں۔
اپنے چہرے کوبدلنابہت مشکل ہے
دل بہل جائے گاآئینہ بدل کردیکھو
ڈاکٹرنسیم نکہت کی شاعری میں جذبات واحساسات وکیفیات پایاجاتاہے،ہرشعرسے قاری کوسبق ملتاہے ،نسیم نکہت بہت ہی عام فہم الفاظ میںاپنی بات کوپیش کرنے کاہنرجانتی ہے،اشعارملاحظہ کیجیے
بنجارے ہیں رشتون کی تجارت نہیں کرتے
ہم لوگ دکھاوے کی محبت نہیں کرتے
ملناہے توآجیت لے میدان میں ہم کو
ہم اپنے قبیلے سے بغاوت نہیں کرتے
طوفان سے لڑنے کاسلیقہ ہے ضروری
ہم ڈوبنے والوں کی حمایت نہیں کرتے
نہ تجھے خبرہے میری نہ مجھے خبرہے تیری
تیری داستان سے جیسے میری ذات کٹ گئی ہے
یہ تیرامزاج توبہ یہ تیراغرورتوبہ
تیری بزم میں ہمیشہ مری بات کٹ گئی ہے
ڈاکٹر نسیم نکہت قدیم شاعرات میں شمارہوتی تھی غزل وگیت پرمکمل دسترس حاصل تھا،مشاعروں میں خاتون کی نمائندگی کرتی تھی، نئی نسل کی سماعت کاخیال رکھتی تھی، محترمہ نسیم نکہت کی تدفین عیش باغ قبرستان میں ہوئی ،اللہ سے دعاء کرتاہوں کہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اورپسماندگان کوصبرجمیل دے۔












