نئی دہلی، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ( NCRB) کے چونکا دینے والے اعدادو شمار و رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی آبائی ریاست گجرات سے تقریبا 40,000سے زیادہ خواتین لاپتہ ہوگئی ہیں۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے اتنی بڑی تعداد میں لاپتہ خواتین کی رپورٹ پر صدمے کا اظہار کیا ہے اور بی جے پی کے ریاستی اور مرکزی حکام سے پوچھا ہے کہ ملک کو ان کے ٹھکانے سے آگاہ کریں۔ اس ضمن میں جاری کردہ اخباری بیان میں ایس ڈی پی آئی کی قومی جنرل سکریٹری محترمہ یاسمین فاروقی نے لاپتہ خواتین کے بارے میں گہرے تشویش کا اظہا رکیا ہے۔ ان کا ردعمل نیشنل کرائم ریکارڈز بیوریو (NCRB) کی جانب سے ایک اعداد و شمار شائع کرنے کے بعد آیا ہے ، جس میں بتایا گیا ہے کہ 2016سے2020تک کے پانچ سالوں کے دوران ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی آبائی ریاست گجرات سے 41,621خواتین کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ یاسمین فاروقی نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی پروپگینڈہ فلم دی کیرلا اسٹوری پر بی جے پی کی گندی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جبکہ ملک کی اپنی ایجنسی نے 40,000سے زیادہ خواتین کے لاپتہ ہونے کی چونکا دینے والی رپورٹ سامنے لائی ہے ، سینئر پولیس افسران کے مطابق جن میں سے کچھ کو جسم فروشی میں دکھیل دیا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محترمہ یاسمین فاروقی نے خواتین کے تحفظ میں بی جے پی کی مکمل ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا تو دور کی بات خواتین کو تحفظ دینے میں ہی بی جے پی ناکام ہے۔ ایس ڈی پی آئی لاپتہ خواتین کے مستقبل اور گجرات اور ہندوستان کے دیگر حصوں میں دیگر خواتین کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہے۔












