بھارت کے این ایس اے اجیت ڈوبھال ان دنوں عرب ممالک کے دورے پر ہیں۔یہ دورہ بے حد اہم ہے کیونکہ اسی دوران یہ خبر بھی آرہی ہے کہ بھارت ،امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیروں نے سعودی عرب کے ولیعہد شیخ سلمان سے بھی ملاقات کی ہے ۔اس ملاقات کا مقصد بھارت، امریکا اور متحدہ عرب امارات کو مغربی ممالک کے ریل نیٹ ورک سے جوڑنا ہے ۔جس پر امریکہ کام کرنا چاہتا ہے ۔کیونکہ اسے یہ ڈر ہے کہ چین دنیا کے ان حصوں پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے جہاں اسے لگتا ہے کہ اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ چین کے پاس ٹیکنالوجی ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ کو اپنی جانب راغب کر سکتا ہے ۔اور اس پروجیکٹ پر بھی کام شروع کر سکتا ہے جو نہ تو امریکہ کے مفاد میں ہوگا اور بھارت کے ۔ امریکا اور چین کے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں، بھارت اور چین کے تعلقات بھی خراب دور سے ہی گزر رہے ہیں۔ چین کی چال مشرق وسطیٰ میں اپنے قدم جمانے کی ہے۔ اور وہ اس سلسلے میں کام بھی کر رہا ہے ۔ ابھی حال ہی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا معاہدہ چین کی قیادت میں ہی ہوا ہے ۔ اس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ امریکہ کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔
اب اگر چین ایران اور سعودی عرب کے درمیان اس ریل پروجیکٹ پر بھی معاہدہ ہو جاتا ہے تو اس پورے علاقہ میں ہندوستان کی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ امریکی این ایس اے جیک سلوین، ہندوستان کے این ایس اے اجیت ڈوبھال اور یو اے ای کے این ایس اے شیخ تہنون بن زید النہیان نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بل سلمان سے مل کر یہی کہا ہوگا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ مغربی ایشیا اور مغربی ممالک کو ریل نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے۔ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے۔کیونکہ امریکہ کے پاس ریل نیٹ ورک بچھانے کی ٹیکنالوجی میں مہارت نہیں ہے۔ ریل نیٹ ورکنگ کے معاملے میں ہندوستان بہت آگے ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس میں ہندوستان کی مہارت استعمال کی جائیں۔ کیونکہ وہ چین کو اس پروجیکٹ میں شامل نہیں ہونے دینا چاہتا۔
حالانکہ اس ملاقات کے بارے میں کوئی خاص معلومات سامنے نہیں آئیں ہیں کہ اندر کیا بات چیت ہوئی بھارت کی جانب سے بھی کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔
مغربی ایشیا میں 14 ممالک ہیں۔ ترکی، لبنان، اسرائیل، شام، اردن، سعودی عرب، یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، عراق اور ایران، امریکہ ان ممالک کومشرق وسطی کہتا ہے جسے وہ ریل، سمندر اور سڑکوں کے نیٹ ورک سے جوڑنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس گفتگو کی رپورٹ امریکی نیوز ویب سائٹ ‘Axius’ نے شائع کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکہ کے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔ امریکہ چین کی دور اندیش پالیسی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو منصوبے کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شی جن پنگ نے یہ خواب 2013 میں ہی دیکھا تھا۔ اس میں وہ بھی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا مقصد ایشیا، یورپ اور افریقہ کو سڑک اور سمندر کے ذریعے جوڑنا ہے۔ لیکن امریکہ ریل پروجیکٹ پر کام کر کے چین کے پروجیکٹ کی ہوا نکالنا چاہتا ہے ۔اس ملاقات کے بعد چین کے اس منصوبے کو یقیناً دھچکا لگے گا۔ بھارت نے امریکہ کے اس منصوبے میں کافی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ ہندوستان کے لیے اسٹریٹجک اور سفارتی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے۔ امریکہ کے این ایس اے کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کو امریکہ سے جوڑنا چاہتا ہے۔ اس سے بہت سے فائدے ہوں گے۔ معیشت کے ساتھ سفارت کاری کے لیے بھی یہ بہت کارآمد ثابت ہوں گے۔ اس سے ہندوستان کو بھی کافی فائدہ ہوگا۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر بھارت کو یہ منصوبہ مل جائے تو اس سے بڑا کوئی اور کام نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہندوستان کو ریل نیٹ ورک میں مہارت حاصل ہے۔اور یہ موقع چین کے ہاتھ سے نکل جائے گا ۔اب دیکھنا ہے کہ بھارت اور امریکہ مل کر اس پروجیکٹ کو کس حد تک آگے بڑھاتے ہیں اور سعودی عرب کس حد تک ان کے پلان میں تعاون کرتا ہے ۔کیونکہ ادھر کچھ دنوں میں یہ بڑی تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک امریکہ کی جگہ چین کے قریب ہوئے ہیں جس کے ساتھ روس اور ایران بھی ہے ۔ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرانے میں بھی چین کا اہم رول رہا ہے ۔لیکن چین کے اس بڑھتے اثر و رسوخ کو نہ تو امریکہ پسند کرتا ہے نہ بھارت ۔ڈوبھال کا یہ دورہ اسی لئے بے حد اہم ہو جاتا ہے اور بھارت کے حق میں بھی ۔












