کرناٹک کا انتخاب ہو چکا ،اب نتیجے کا انتظار ہے ۔مختلف ایجنسیوں کے ایکزٹ پول بھی آگئے اور ایسا بتایا جا رہا ہے کہ کرناٹک میں مودی کا جادو عام لوگوں کے سروں پر سوار نہیں ہوا اور کانگریس وہاں سب سے بڑی پارٹی بن کر بی جے پی کو دوسرے پائدان پر دھکیل دےگی ۔حالانکہ اس بیان میں تضاد ہے۔اگر سچ مچ ایکزٹ پول کے اندازے ہی نتائج میں تبدیل ہوکر 13تاریخ کو سامنے آنے والے ہیں تو پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کرناٹک میں سرکار بھی بنا سکتی ہے۔ آپ مجھ پر منفی سوچ کا الزام بھی عائد کر سکتے ہیں لیکن پہلے میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ جب میڈیائی خبروں کے مطابق بی جے پی کے خلاف کرناٹک میں طوفان چل رہا تھا تو پھر اس طوفان میں مودی گروہ کے مذہبی نعرے کو اڑ جانا چاہئے تھا اور کانگریس کو ڈیڑھ سو سے زیادہ سیٹیں انی چاہئے ۔کیونکہ کانگریس نے اس انتخاب میں بی جے پی سرکار کی رشوت خوری اور بدعنوانی کو ہی حرزجاں بنایا ہواتھا ۔اس نے بے روزگاری سمیت پانچ ایسے وعدے بھی عوام سے کئے تھے جس پر عمل کرنے کے لئے اس نے سرکار بنا کر پہلی کیبنٹ میٹنگ تک کی مہلت ہی مانگی تھی ۔لیکن پھر ایسا کیا ہوا کہ مودی کے آزمائے ہوئے جھوٹے وعدوں نے کرناٹک کے لوگوں کو اپنی جانب مائل کر لیا ؟مجھے لگتا ہے کہ عوام کے اس رویہ کو سمجھے بغیر ہمیں کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے ۔ویسے بھی مجھ سمیت جتنے لوگ بھی فی الوقت کرناٹک انتخابات کے نتائج سے پہلے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ان کی بنیاد مفروضوں پر ہی استوار ہے۔
ایک بات اور سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ جسے سارے ملک کے لوگ مودی میجک قرار دیتے ہیں ایسی کوئی چیز نہ تو ہوتی ہے اور نہ ہے ۔ہماری عادت ہے کہ ہم جس چیز کو سمجھ نہیں پاتے یا پھر سمجھنے کی کوشش کے باوجود ناکام رہتے ہیں تو اسے میجک قرار دے دیتے ہیں ۔نریندر مودی نے گجرات میں کوئی میجک نہیں کیا تھا بلکہ ایک بہت بڑا پلان بنا کر گودھرا میں ٹرین جلوایا تھا اور پھر وزیر اعلی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گجرات پولس کی سرپرستی میں اپنے کارکنوں سمیت آر ایس ایس کے شرپسندوں کو مسلمانوں کے قتل عام اور آگ زنی کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا ۔اور اس قتل عام کے نتیجے میں نریندر مودی اس ملک میں مسلمانوں کے دشمن نمبر 1بن کر ابھرے ۔اور ان کے اسی چہرے کی چمک سے ملک کی تقریبا آدھی آبادی متاثر ہوئی ۔ورنہ مودی کی شخصیت کا دوسرا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں ہے جو اسے عوامی لیڈر بنا سکے ۔2014 کے عام انتخابات میں بھی دہلی سے سے کانگریس کو بے دخل کرنے کے لئے آر ایس نے انا ہزارے کا سہارا لیا اور سول سوسائٹی کو ورغلانے کی ساری ذمہ داری نیشنل میڈیا کو دی گئی جس کے لئے ایک بہت بڑا بجٹ مختص کیا گیا ۔اخبارات اور چینلس تک خریدے گئے۔اور یہ سارے پیسے بڑے بڑے کارپوریٹ ہاؤس نے دیئے۔ 2014میں ایک طرف عوام کے درمیان مودی کی مقبولیت کا جھوٹا پرچار بھی کیا جاتا رہا اور دوسری طرف الکٹورل بانڈ کو متعارف کرا کر تمام تجارتی گھرانوں کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ بی جے پے کو ہی فنڈ فراہم کریں ۔جبکہ نوٹ بندی کے ذریعہ تمام سیاسی پارٹیوں کے ریزرو فنڈ کو غیر قانونی بنا دیا گیا ۔مودی کی فرضی مقبولیت کی یہ کہانی اتنی سازشوں کی روداد ہے کہ اسے ایک چھوٹے سے مضمون میں رقم نہیں کیا جاسکتا۔
کرناٹک میں ایک بار پھر مودی نے اپنا وہی چہرہ عوام کو دکھایا ہے۔ بجرنگ بلی کا نعرہ مودی نے یوں ہی نہیں لگایا ہے ۔مودی نام ہے ایک ایسے شخص کا جو ہندوؤں کے مزاج سے واقف ہے اور ہندی ہارٹ لینڈ کی مزاج شناسی میں نریندر مودی کو اتھارٹی ہے ۔کرناٹک میں بھی مودی کا جادو چل سکتا ہے کیونکہ وہاں کی ایک بڑی آبادی مہاراشٹرا کی تاریخ اور تہذیب سے بیگانہ نہیں ۔لنگایت عوام بھلے ہی ہندو نہ ہوں اور اپنے مندروں میں رام اور کرشن کی مورتیاں نہ رکھت ہوں لیکن وہ بھی شنکر کے لنگ کو اپنا ارادھیہ سمجھت ہیں اور اس کی پوجا بھی کرتے ہیں ۔ان کا نام لنگایت بھی شنکر کے لنگ سے ہی منسوب ہے ۔اور بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ہنومان یعنی بجرنگ بلی کو شنکر کا اوتار ہی سجھا جاتا ہے۔ میرے خیال سے اب آپ کو بجرنگ بلی اور بجرنگ دل کے نعرے کا مطلب سمجھ آ گیا ہوگا۔
میری اس پوری گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ نریندر مودی کو اپوزیشن پارٹیاں جو سمجھ رہی ہیں وہ وہ ہیں نہیں ۔لیکن تمام اپوزیشن پارٹیاں مودی کو ان کی کارکردگی کی روشنی میں دیکھ کر اس کے خلاف محاذ آرائی کرتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ ہم نے مودی کو گھیر لیا لیکن وہ دراصل ان کارروائیوں سے الگ ہمدو عوام کو یہ سمجھا رہا ہوتا ہے کہ میرا کام اس ملک میں ہندوتوا کو استھاپت کرنا ہے اگر آپ مجھے اس کام کے لئے ووٹ دوگے تو پھر اس کا نتیجہ آپ کو نظر آئے گا ۔اور یہ کہ کر مودی رام مندر سے لے کر 370،تین طلاق کامن سول کوڈ ،وغیرہ کے ساتھ پورے ملک میں مسلمانوں کے عرصہ حیات تنگ کرنے کے اپنے کارناموں کی فہرست پیش کر دیتا ہے۔ اور لوگ اس کو ووٹ بھی دے دیتے ہیں ۔نریندر مودی اس پورے کھیل کا صرف چہرہ ہے اصل کھلاڑی تو ناگپور میں بیٹھا ہے ۔راہل گاندھی نے اس پورے کھیل کو دوسروں کے مقابلے زیادہ سمجھ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ سیدھا وار آر ایس ایس پر کرتا ہے یا پھر اس فائننسرز پر ۔اس پورے گروہ کی راہل کے خانوادے سے فشمنی کی وجہ بھی یہی ہے ۔یہ مان کر چلنا چاہئے کہ اگر کرناٹک میں کانگریس نے اتنی سیٹیں حاصل کر لیں کہ وہ اپنے دم پر سرکار بنا لے تو پھرنیہ مان لینا چاہئے کہ راہل کی بھارت جوڑو یاترا بھی کامیاب رہی اور اس کی انتھک محنت بھی ۔لیکن اگر ایسا نہیں ہواتو پھر مذہبی منافرت کا یہ عفریت ابھی اور بڑا ہوگا حتی کہ وہ ملک کی جمہوریت کو پوری طرح نگل جائے ۔












