کرناٹک کا انتخابی نتیجہ جو کانگریس کے حق میں آیا ہے اسے ملک کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کانگریس کی کرناٹک میں جیت کے اثرات 2024میں ہونے والے عام انتخابات تک پہنچینگے۔حالانکہ ابھی عام انتخاب کے پہلے کانگریس کو کئی اور ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بھی اپنی کار کردگی ثابت کرنی پڑیگی۔لیکن ان سب کے علاوہ دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا بی جے پی کے سپریمو نریندر مودی کا سحر اب ٹوٹنے لگا ہے ؟کیونکہ کرناٹک اسمبلی انتخاب میں نریندر مودی نے اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کر لی تھیں اور انتخابی مرحلے کے آخری حصے میں انہوں نے اپنا آزمودہ نسخہ یعنی ہندوؤ ں کو پولرائز کرنے کے لئے جئے بجرنگ بلی کا نعرہ بھی لگانا شروع کر دیا۔
لیکن پوری طاقت لگانے کے باوجود کرناٹک میں بی جے پی کیوں ہاری؟ اس کے اور بھی وجوہات ہیں۔کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کو اس کی انتخابی حکمت عملی کی ناکامی تو سمجھا ہی جارہا ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہماچل پردیش کے بعد کرناٹک میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگنا اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر سکتا ہے۔ پچھلے ایک سال کے اندر یہ دوسری ریاست ہے جس کا اقتدار کانگریس نے بی جے پی کے ہاتھ سے چھین لیا ہے۔اور یہ اس وقت ہوا ہے جب بی جے پی کے دوسرے نمبر کے لیڈر اور سیاسی چانکیہ کہے جانے والے امت شاہ نے گجرات میں یہ بیان دیا تھا کہ کانگریس پورے ملک میں دور بین کے ذریعہ ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آئیگی۔یہی وجہ ہے کہ کرناٹک کی اس جیت کا بڑا سیاسی مطلب نکالا جا رہا ہے اور یہ خاص طور پر بی جے پی کے مستقبل کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔
اس سال کرناٹک کے بعد پانچ دیگر ریاستوں میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، میزورم اور تلنگانہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لوک سبھا کے انتخابات اگلے سال یعنی 2024 میں ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد سات ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں۔ مجموعی طور پر لوک سبھا کے ساتھ ساتھ 13 بڑی ریاستوں کے انتخابات اگلے دو سالوں میں ہونے والے ہیں۔ ان میں کئی جنوبی ریاستیں بھی ہیں۔ اسی لیے کرناٹک کی شکست کو بی جے پی کے لیے بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی بی جے پی کی یہ پریشانی کانگریس کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہی ہے۔
کرناٹک انتخابات کے نتائج کی تصویر اسمبلی انتخابات کے دوران ہی کافی حد تک واضح ہو چکی تھی۔ اور یہ دیکھا جا رہا تھا کہ بی جے پی بیک فٹ پر کھیل رہی تھی۔جبکہ کانگریس کافی جارحانہ انداز میں فرنٹ فٹ پر کھیل رہی تھی۔ ایسے میں بی جے پی کی اس شکست کا مطلب واضح ہے۔ فوری طور پر کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے لئے اندرونی اختلافات مصیبت بن گئے۔اور یہ صرف انتخابات کے دوران ہی نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے بی جے پی میں اندرونی خلفشار کی خبریں منظر عام پر آنے لگی تھیں۔ کرناٹک بی جے پی میں کئی دھڑے بن چکے تھے۔ ایک معزول وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کا، دوسرا موجودہ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کا، تیسرا بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش کا اور چوتھا ریاستی لیڈر نلین کمار کٹیل کا۔ ایک پانچواں محاذ بھی تھا جس کی سربراہی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی کر رہے تھے۔اور ان تمام محاذوں میں بی جے پی کے عام کارکنان کچلے جا رہے تھے۔ ہر ایک کے اندر پاور گیم کی جنگ جاری تھی۔اور جب پارٹی اندرونی اختلافات سے لڑ رہی تھی۔ ایسے وقت میں ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ پارٹی کے کئی تجربہ کار لیڈروں کے ٹکٹ کاٹنا بی جے پی کو مہنگا پڑا۔ پارٹی لیڈروں کی بغاوت نے بھی بی جے پی کو کئی سیٹوں پر نقصان پہنچایا۔ ایسی 15 سے زیادہ سیٹیں ہیں، جہاں بی جے پی کے باغی لیڈروں نے مقابلہ کیا اور پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا۔ جگدیش شیٹار لکشمن ساودی جیسے لیڈروں کی علیحدگی بھی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ بدعنوانی کے الزامات نے بھی پورے انتخابی مرحلے میں بی جے پی کا پیچھا کیا اور زبردست نقصان پہنچایا۔ الیکشن سے کچھ دیر پہلے بی جے پی کے ایک ایم ایل اے کا بیٹا رشوت لیتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ جس کی وجہ سے بی جے پی ایم ایل اے کو جیل بھی جانا پڑا۔ ایک ٹھیکیدار نے بھی بی جے پی حکومت پر 40 فیصد کمیشن کے غبن کا الزام لگاتے ہوئے خود کو پھانسی پر لٹکا لیا تھا۔ کانگریس نے پورے الیکشن میں اس مسئلہ کو بھرپور طریقے سے اٹھایا۔
جنوبی بمقابلہ شمالی ہند کا اثر بھی ایک بڑی وجہ سمجھا جا سکتا ہے۔ بی جے پی ایک قومی پارٹی ہے اور اس وقت مرکز میں اقتدار میں ہے۔ ایسے میں بی جے پی لیڈaaروں نے ہندی اور کنڑ کی لڑائی میں خاموش رہنا ہی درست سمجھا۔ اسی وقت کانگریس کے مقامی لیڈروں نے کرناٹک میں اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا۔ نندنی دودھ کا مسئلہ اس کی ایک مثال ہے۔ کانگریس نے نندنی کے دودھ معاملے کی خوب تشہیر کی۔ ایک طرح سے اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بی جے پی شمالی ہند کی کمپنیوں کو فروغ دے رہی ہے، جب کہ جنوب کی کمپنیوں کو کنارے لگایا جا رہا ہے۔ ریزرویشن کا مسئلہ بھی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ کرناٹک انتخابات میں بی جے پی نے چار فیصد مسلم ریزرویشن ختم کرکے اسے لنگایت اور دیگر طبقات میں تقسیم کردیا۔ پارٹی کو اس سے فائدے کی امید تھی، لیکن آخری وقت میں کانگریس نے بڑا پانسہ پھینک دیا۔ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں ریزرویشن کا دائرہ 50 فیصد سے بڑھا کر 75 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس نے بی جے پی کے ہندوتوا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ریزرویشن کے وعدے سے کانگریس کو بڑا فائدہ پہنچا۔ لنگایت ووٹروں سے لے کر او بی سی اور دلت ووٹروں نے کانگریس کی حمایت کی۔ساتھ ہی مسلمان ووٹروں نے جے ڈی ایس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے کانگریس کا دامن تھام لیا۔اور آج نتائج میں یہ سب کچھ صاف صاف نظر آ رہا ہے۔












