تمکورو، کرناٹک اسمبلی انتخابات میں زبردست جیت کے بعد کانگریس نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا دعویٰ کرتے ہوئے اتوار کو پارٹی کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا ان کی حمایت کریں گے ۔ مسٹر شیوکمار نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔ اپنے دعوے میں دلیل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پارٹی کو کرناٹک اسمبلی انتخابات جیتنے کا چیلنج دیا گیا تو اعلیٰ لیڈران پیچھے ہٹ گئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ میرے پارٹی کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے دنیش گنڈوراؤ اور سدارامیا دونوں نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ یہ ان کے ہاتھ سے باہر کا معاملہ ہے ۔ اس کے بعد محترمہ سونیا گاندھی نے مجھے بلایا اور مجھے یہ ذمہ داری سونپی۔’’انہوں نے کہاکہ "محترمہ سونیا گاندھی، مسٹر ملیکارجن کھڑگے اور دیگر لیڈران نے جیل میں مجھ سے ملاقات کی اور مجھے طاقت بخشی۔ میں نے اپنے لیے کچھ نہیں کیا۔ میں نے پارٹی کے لیے کیا۔ میں نے دن رات محنت کی ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلا۔ سب نے تعاون کیا اور اسی محنت کی وجہ سے ہم اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ 2018 سے پہلے مجھے وزیر نہیں بنایا گیا تھا لیکن میں نے اچھا برتاؤ کیا۔ میں نے تب مسٹر سدارامیا کے لیے کام کیا تھا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بھی ایسا ہی کریں گے ۔مسٹر شیوکمار نے تاہم واضح کیا کہ ان کے اور مسٹر سدارامیا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میرے اور ان کے درمیان اختلافات ہیں لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔دریں اثنا، چیف منسٹر شپ کے دوسرے دعویدار مسٹر سدارامیا اپنے حق میں ایم ایل اے کی حمایت اکٹھا کررہے ہیں۔ وہ کانگریس لیڈر بیرتھی سریش کے دفتر میں کئی ایم ایل اے کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں جو ان کے حامی بتائے جاتے ہیں۔دریں اثناکرناٹک میں اپنی پارٹی کی جیت کے بعد دہلی پہنچے صدر کانگریس ملکارجن کھڑگے ۔ جہاں پارٹی کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ریاست میں گڈ گورننس لائے گی اور اسے نمبر ون ریاست بنانے کے لیے کام کرے گی۔ کھرگے نے یقین دلایا کہ حکومت بنتے ہی پارٹی اپنے پانچ وعدوں کو پورا کرے گی۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے دہلی میں اپنی رہائش گاہ پہنچے جہاں پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران کانگریس کارکنوں نے پارٹی، صدر اور راہول گاندھی کی حمایت میں نعرے لگائے۔ اس دوران کھرگے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پارٹی نے تین مرکزی مبصر بھیجے ہیں۔ وہ بنگلورو میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ مبصرین پارٹی قیادت کو وہاں ہونے والے فیصلے سے آگاہ کریں گے جس کے بعد پارٹی قیادت اپنا فیصلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی نے کرناٹک میں متحد ہوکر الیکشن لڑا ہے۔ مستقبل میں بھی اتحاد سے حکومت بنے گی۔ اس میں بھی اتفاق رائے کا خیال رکھا جائے گا اور حکومت کو صحیح طریقے سے چلایا جائے گا۔کانگریس صدر نے کہا کہ عوام نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسترد کر دیا ہے۔ ریاست کے عوام مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن سے پریشان تھے۔ جس کی وجہ سے پارٹی کو 35 سال بعد بھاری اکثریت ملی۔ پارٹی نے اپنی مہم کے دوران پانچ گارنٹی دی تھیں۔ ہم پہلے ہی دن ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں فیصلہ لے کر ان پانچ ضمانتوں کو پورا کریں گے۔یہ پانچ ضمانتیں تھیں – گرہ جیوتی، گرہ لکشمی، انا بھاگیہ، یووا ندھی اور شکتی یوجنا۔قابل ذکر ہے کہ گرہ جیوتی یوجنا کے تحت کرناٹک کے تمام گھرانوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دی جائے گی۔ گرہ لکشمی اسکیم کے ذریعے پارٹی تمام خواتین سربراہان خاندان کو ماہانہ 2000 روپے کی امداد فراہم کرے گی۔ بی پی ایل خاندانوں کو انا بھاگیہ یوجنا کے ذریعے ہر ماہ 10 کلو اناج دیا جائے گا۔ بے روزگار گریجویٹس کو 3000 روپے ماہانہ اور دو سال کے بے روزگار ڈپلومہ ہولڈرز کو 1500 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ شکتی اسکیم کے تحت ریاست کی تمام خواتین کو کرناٹک میں سرکاری بسوں میں مفت سفر کرنے کا وعدہ بھی اسی وعدے کا حصہ ہے۔












