نئی دہلی: 15مئی کو نئی دہلی کے کنسٹی چیوشنل کلب میں سہ پہر تین بجے انڈیا فلسطین فرینڈشپ فورم کے بینر سے جماعت اسلامی ہند اور فلسطین ایمبیسی کے مشترکہ دعوت پر ایک نہایت پر وقار مذاکرے کا انعقاد کیا گیا ۔یہ پروگرام اپنے آپ میں اس لئے بھی بین الاقواامی نوعیت کا تھا کیونکہ بطور سامع یہاں مختلف عرب ممالک کے دس سے زاید سفیر کبیر نے شرکت کی ۔پروگرام کی نقابت ندیم خان نے کی جو بھارت فلسطین فرینڈ شپ فورم کے روح رواں اور معروف ایکٹیوسٹ ہیں۔ اس مذاکرے کے مہمان خصوصی عدنان ابوالحجا تھے اور شرکائے گفتگو کے طور پر پروفیسر ذکر الرحمان (سابق سفیر کبیر فلسطین )،پروفیسر منوج جھا (ممبر پارلیامنٹ راجیہ سبھا)کے سی تیاگی (سابق ایم پی اور سکریٹری جنرل جے ڈی یو )پروفیسر نیویدتا مینن (جے این یو )پروفیسر اپوروانند (دہلی یونیورسٹی)مفتی مکرم احمد (شاہی امام جامع مسجد فتحپوری )اور ماریہ عارف الدین (سوشل ایکٹیوسٹ کیرل )شریک ہوئے ۔
انڈیا فلسطین فرینڈشپ فورم کی جانب سے النکبہ کی یاد میں منعقد اس مذاکرے کا آغاز پروفیسر ذکر الرحمان نے کیا اور نہایت مدلل انداز میں فلسطینی کاز کے پس منظر اور پیش منظر پر بھر پور روشنی ڈالی ۔اور یہ اپیل کی کہ مظلوم فلسطینیوں پر جاری مظالم کو نظر انداز کرنا انسانی اقدار کی تذلیل ہے ۔انہوں نے النکبہ کی گذشتہ 75سالہ تاریخ پر بھی بھر پور روشنی ڈالی ۔ بعد ازاں پروفیسر اپوروا نندنے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ ایسا ہے کہ اس کے حل ہوئے بغیر دنیا کا کوئی بھی شہری جو آزادی پسند اور جمہوریت پسند ہوگا وہ چین کی نیند سو ہی نہیں سکتا ۔ مفتی مکرم احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الاقصی پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ اول ہے لہذا فلسطین کا مسلہ گلوبل ہے ۔فلسطین کے سلسلے میں ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم پوری دنیا کے امن پسند شہریوں کو اس جدوجہد میں جوڑنے کی کوشش کریں۔مفتی مکرم احمد نے فلسطین کے مسلہ کو بین الاقوامی حقوق انسانی سے جوڑتے ہوئے اس کے تدارک کی اشد ضرورت پر زور دیا ۔کے سی تیاگی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا کا پہلا نان اسلامک ملک ہے جس نے فلسطین کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے لوگ ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑے رہے ،خود مہاتما گاندھی نے کہاتھا جس طرح جاپان جاپانیوں کا ہے ۔فرانس فراسیسیوں کا ہی اسی طرح فلسطین فلسطینیوں کاہے ۔یہ سچ ہے کہ دنیا کے کسی ملک کے شہریوں کے ساتھ ایسی زیادتی نہیں ہوئی جو ان پچھتر سالوں میں فلسطینیوں کے ساتھ ہوئی ہے ۔ اور کمال یہ ہے کہ اسرائیل کی حکومت یو این او کی بات بھی نہیں سنتا ۔یو این او بھی اسرائیل کے آگے بے بس ہے ۔پروفیسر منوج جھا نے کہا کہ دنیا نے اپنے آپ کو پوری طرح سمیٹ لیا ہے ۔اوراس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرکاری سطح پر ہماری سرکار نے بھی فلسطین کے سلسلے میں خود کو سمیٹ لیا ہے لیکن ہمارے ملک کی بڑی آبادی آج بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہے ۔ ۔ہم اس زندہ سوال کے ساتھ کھڑے تھے کھڑے ہیں اور کھڑے رہینگے کہ ظلم اور ظالم دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہو قابل نفرت ہے ۔ہمیں فلسطین کے سوالوں کے ساتھ کھڑے رہنا ہوگا کیونکہ زندہ سوالوں سے امریکہ بھی ڈرتا ہے ۔












