کرناٹک میں کانگریس کے جیت پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے ۔اور اب اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کے لئے بی جے پی بھی باہر نکل آئی ہے ۔اس نے بہت غور وفکر کے بعد یہ کہنا شروع کیا ہے کہہم ہارے ضرور ہیں لیکن ہمارے ووٹ فیصد میں کو ئی کمی نہیں آئی ہے ۔یہ ویسی ہی دلیل ہے جیسی دلیل نرملا سیتا رمن نے پاریمنٹ میں دی تھی کہ ہمارا روپیہ کمزور نہیں ہوا ہے ڈالر کی طاقت میں اضافہ ضرور ہوا ہے ۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ کرناٹک کے خالص بی جے پی کے گڈھ کوستل ایریا میں ہو یا پھر مہاراشٹرا اور حیدرآباد سے لگے حلقوں میں ہو بی جے پی کے ووٹوں میں چار سے پانچ فیصد کی کمی آئی ہے بنگلور سنٹرل میں اس کے ووٹوں میں یقینا دو سے تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے وہ بھی اس لئےکہ جے ڈی ایس کے ووٹرس نے جے ڈی ایس سے نکل کر بی جے پی کا رخ بھی کیا ،وہ سارے کے سارے کانگریس کی طرف نہیں گئے ۔
اس سارے تبصروں کا ماحصل یہ ہے کہ بی جے پی اگلے انتخابات سے پہلے یہ ماحول بنانا چاہتی ہے کہ اس کے ووٹر اس پر اب بھی اعتماد کرتے ہیں ۔لیکن یہ کیسا اعتماد ہے کہ ایک کے بعد ریاستوں سے اس کے خلاف بغاوت کی آواز اٹھنے لگی ہے ۔کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کی سب سے بڑی وجہ اس کی لیڈر شپ کا انتشار ہی تھا اور اس کی وجہ بدعنوانی تھی ۔جسے وقت سے پہلے بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ دیکھ نہیں سکی ۔اور اگر دیکھا بھی تو نظر انداز کر دیا ۔اب اسی طرح کے بغاوتی سر مدھیہ پردیش میں بھی بلند ہونے لگے ہیں ۔جہاں دیپک جوشی کے کانگریس میں شامل ہونے کے بعد اندور میں بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ جوشی کے بعد کانگریس کے کئی لیڈروں نے بی جے پی کے مزید لیڈروں کے کانگریس میں شامل ہونے کے اشارے دیے ہیں۔ اس سلسلے میں کانگریس لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کے کئی لیڈر سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ اور دیگر سینئر کانگریس لیڈروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔گو کہ کانگریس میں شامل ہونے والے بی جے پی لیڈروں کے ناموں کے بارے میں کوئی اشارہ نہ ملنے کی وجہ سے قیاس کرنا مشکل ہے لیکن اگر ان دعوؤں کو سچ مانا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کی نچلی سطح سے لے کر اونچی سطح تک کہیں نہ کہیں بی جے پی کے رہنما کانگریس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یہاں سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اندور کے ساتھ ساتھ ایم پی کے دوسرے حلقوں میں بھی بی جے پی کے کئی لیڈر ہیں جو کانگریس لیڈروں رابطے میں ہیں۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ سابق ضلع پنچایت صدر، نائب صدر کے ساتھ ایکس ایم ایل اے بھی رابطہ کر رہے ہیں ۔در اصل 9 مئی کو سابق ریاستی کانگریس صدر ارون یادو اندور آئے تھے۔ پریس کلب میں منعقدہ ناری سمان یوجنا کے آغاز کے پروگرام کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ارون یادو نے دیپک جوشی سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ دیپک جوشی سے ان کا خاندانی تعلق ہے۔ان کے والد کیلاش جوشی سنت کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اپنے خاندان کی حالت زار اور نظر انداز ہونے سے غمگین ہو کر دیپک جوشی ہماری پارٹی میں آئے۔ ان کی آمد سے پارٹی کو بہت فائدہ ہوگا۔ میں ان لوگوں سے بھی بات کر رہا ہوں جو اس فہرست میں شامل ہیں اور وہ سب جلد ہی آپ کے سامنے آئیں گے۔
کچھ دن پہلے، کانگریس نے اندور میں دھرم رکھشا یاترا نکالی تھی۔ جس میں سابق وزیر اور ایم ایل اے سجن ورما بھی پہنچے تھے ۔ یہاں میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بھی کہا کہ بی جے پی کے کئی لیڈر کمل ناتھ جی اور ہم سے رابطے میں ہیں۔یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے خفیہ سروے میں بی جے پی کو صرف 60 سے 70 سیٹیں مل رہی ہیں۔ اب وہ لوگ جو بی جے پی کے ٹکٹ پر 6 سے 7 بار جیتے ہیں وہ بھی خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ اس لیے وہ بی جے پی سے بیزار ہیں اور وہ کانگریس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔اس سیاسی ہنگامے کے درمیان کانگریس لیڈروں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سندھیا کے ساتھ سبکدوش ہونے والے کانگریس قائدین کو دوبارہ داخلہ نہیں ملے گا۔ سجن ورما نے یہ بھی کہا تھا کہ دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ سندھیا کے ساتھ پیسے کے عوض بکے ہوئے کانگریسی لیڈروں میں سے کسی کو بھی کانگریس میں واپس نہیں لیا جائے گا۔












