دیوبند، آج کمپوزٹ اسکول، تیوڑہ، بلاک مورنہ میں سالانہ اجلاس اور تقسیم انعامات کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی کے طور پر مورنہ اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے چندن سنگھ چوہان نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت مفتی بن یامین نے کی۔ اس موقع پر ایم ایل اے مسٹر چندن سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تیوڑہ میں سرکاری اسکول کا پروگرام جوش وخروش کے ساتھ منعقد کیا گیا اور مجھے تعلیم کے اس مندر میں آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری ریاست تعلیم کے میدان میں ترقی کر رہی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں داخلہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اسکول ہر لحاظ سے بہتری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کا ایم ایل اے ہونے کے ناطے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس اسکول کی جو بھی ضروریات ہوں گی اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اپنی کلاس میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے تمام بچوں کو مبارکباد دی اور انعامات دیکر ان کی حوصلہ فضائی کی۔بلاک ایجوکیشن آفیسر انل کمار چوہان نے کہا کہ مورنہ بلاک کے اندر تیوڑہ کے اسکول کی تصویر میں کافی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ میں مسلسل دیکھ رہا ہوں کہ بچے اچھی پڑھائی کر رہے ہیں اور یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ یہاں کے اساتذہ نے محنت اور لگن سے کام کیا۔ آج اسکول تمام سہولیات سے آراستہ ہیں اور نپن بھارت مشن کے تحت بچوں کو پڑھنے لکھنے اور ہنر مند بنانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو مبارکباد دی اور بچوں کو اپنے ہاتھوں سے ٹرافی، جیومیٹری باکس، کاپی، پینسل، ربڑ اور کٹر دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے موجودہ والدین اور گا¶ں والوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس اسکول میں داخل کروائیں تاکہ ہر بچہ پڑھ کر آگے بڑھ کر ملک اور والدین کا نام روشن کر سکے۔ ضلع پنچایت رکن حاجی موسیٰ نے کہا کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہمارا اسکول ترقی کرے، گاؤں کا کوئی بچہ ناخواندہ نہ رہے۔ اس کے لیے جو بھی کوشش کرنی پڑے ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ وسیم احمد نے پروگرام میں اپنا بھرپور تعاون کیا اور کہا کہ مستقبل میں جہاں بھی میری ضرورت ہوگی میں تعلیم کے لیے ہمیشہ تیار رہوں گا۔ اسسٹنٹ ٹیچر الطاف الرحمن نے کہا کہ تعلیم ہی واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنی کامیابی کی منزل طے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر توجہ دیں اور انہیں روزانہ سکول بھیجیں۔ اپنے صدارتی خطاب میں مفتی بن یامین نے کہا کہ بچے ملک کا مستقبل ہیں، اگر ہم انہیں تعلیم یافتہ بنا کر قابل بنائیں گے تو ایک مہذب معاشرہ بنے گا اور ملک بھی ترقی کرے گا۔ تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ ہی ملک کی ترقی، اتحاد اور سالمیت میں خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم روشنی ہے اور جہالت اندھیرا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے قدم اندھیرے سے روشنی کی طرف بڑھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس مدرسہ میں 20-25 سال سے ہوں اور اس کے سامنے ایک سرکاری اسکول ہے لیکن پچھلے دو سالوں سے نظر آرہا ہے کہ یہ اسکول مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے اساتذہ ایمانداری اور محنت سے کام کر رہے ہیں۔ اور یہ پروگرام ان کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ اے آر پی نریندر کمار، محمود الحسن، این پی آر سی محمد یاسین، کپل تومر، ڈاکٹر فرخ حسن، رئیس الدین رانا، جاوید ڈیلر، محمد راشد، ڈاکٹر آصف، نیتا پورن سنگھ، محمد زاہد، حاجی منا، سکا، مدن سنگھ، ابوالکلام، شان عالم وغیرہ موجود تھے۔
پروگرام کی نظامت الطاف الرحمن نے کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں اسسٹنٹ ٹیچر ندیم ملک، محمد ساجد نے خصوصی تعاون کیا۔ محترمہ طاہرہ بیگم کی قیادت اور محترمہ پریا جین کی مو¿ثر رہنمائی میں یہ پروگرام کامیاب رہا۔ ندیم ملک نے پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔












