ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بی جے پی کے قلعہ میں اندرونی خلفشار کا آغاز ہو چکا ہے ۔کیونکہ گذشتہ روز راجستھان پہنچے گڈکری نے جو بیان دیا ہے وہ بہت معنی خیز بیان ہے ۔یوں تو گڈکری اپنے بیانوں کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں لیکن ابھی جو بیان انہوں نے دیا ہے وہ سیدھے سیدھے نریندر مودی اور بی جے پی کی موجودہ سرکار پر حملہ سمجھا جا رہا ہے ۔گڈکری نے وہاں اپنی تقریر کے دوران سیاست کے موجودہ چہرے اور اس کے کردار پردل چھو لینے والی بات کہی ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے سیاستدان یہ فراموش کر چکے ہیں کہ سیاست کرنے کا مطلب سیوا کرنا ہوتا ہے نہ کہ کچھ اور انہوں نے اس باتنکی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے ۔خاص طور پر اقتدار حاصل کرنے کے لئے تو عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں لیکن اقتدار حاصل کرتے ہی دوسرا کھیل شروع ہو جاتا ہے ۔ایک طرف گڈکری یہ تقریر کر رہے تھے اور دوسری طرف ان کے سامنے بیٹھی وسندھرا راجے سندھیا خو شی سے بے قابو ہو کر تالیاں پیٹ رہی تھیں ۔
اس تقریر اور وسندھرا راجے کی خوشی کو بہت سے معنی پہنائے جارہے ہیں ۔کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے گڈکری اور گجرات لابی میں چھتیس کا آنکڑہ ہے اور مودی جی ہوں یا امت شاہ ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ گڈکری کو حشیہ پر رکھیں ۔اور اس کوشش مین وہ کامیاب بھی ہیں کیونکہ نتن گڈکری کیبنٹ وزیر ہونے کے باوجود پارٹی کی تمام کمیٹیوں سے باہر ہیں ۔خود مہاراشٹرا میں جہاں سے وہ جیت کر آتے ہیں انہیں تمام سیاسی حکمت عملی سے دور رکھا جاتا ہے ۔ظاہر ہے اس سے نہ صرف ان کی انا مجروح ہوتی ہے بلکہ کنٹولڈ میڈیا سے بھی باتیں چھن کر باہر آ ہی جاتی ہیں ۔بی جے پی کے انفرونی ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ 2024میں ان کا ٹکٹ بھی کاٹا جا سکتا ہے ۔حالانکہ موجودہ سیاسی صورت حال میں جب مہاراشٹرا میں بی جے پی تمام حکمت عملی فیل ہو رہی ہے نتن گڈکری سے براہ راست اختلاف کرنے کی حالت میں نہ تو مودی جی ہیں اور نہ امت شاہ لیکن وہ بار بار مرکزی حکومت کو تنبیہ کرنے سے باز نہیں آتے ۔اور اب جب کرناٹک میں اپنے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود بی جے پی ناکام ہوچکی ہے ۔گڈکری کا وجئے راجے سندھیا سے ملنا جو پہلے ہی سے مودی کے لئے ناپسندیدہ لیڈر ہیں کہانی کو نیا رخ دینے کے لیے کافی ہے ۔وجئے راجے سندھیا کی بھی حالت راجستھان میں وہی ہے جو گڈکری کی مہا راشٹرا میں ہے ۔مبصرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر وسندھرا راجے مرکزی سرکار سے بغاوت پر آمادہ ہو جائیں تو راجستھان میں بی جے پی کے لئے جینا مشکل ہو سکتا ہے ،وہ اپنی سرکار بھلے ہی نہ بچا سکی ہوں لیکن ان کے پاس اتنی سیاسی قوت ابھی بھی بچی ہے کہ وہ بی جے پی کا راجستھان میں سوپڑا صاف کروا سکتی ہیں ۔قیاس یہ بھی لگایا جارہا ہے کہ گڈ کری آر ایس ایس کے پسندیدہ لیڈر ہیں اور آر ایس ایس کو یہ محسوس ہو چکا ہے کہ مودی کے لیڈر بننے کے بعد آر ایس ایس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے اور اب آر ایس ایس کم از کم اس گجرات لابی سے بی جے پی کو آزاد کرانا چاہتی ہے ۔جس کے لیے وہ نتن گڈکری کو استعمال کر رہی ہے ۔اور عین ممکن ہے کہ پارٹی کی لیڈر شپ بدلنے کی آواز نتن گڈکری اٹھائیں اور ان کا ساتھ وجئے راجے سنفھیا بھی دیں ۔دوسری طرف یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ مدھیہ پردیش کے موجودہ وزیر اعلی شیو راج پاٹل کے بارے میں بھی بی جے پی کے سپریمو نے جو خفیہ سروے رایا ہے اس میں مدھیہ پردیش میں کراری شکست ہو سکتی ہے ۔ذرائع سے ملی خبریں تو یہ بھی کہہ رہی ہیں کہ موجودہ صورت حال اگر برقرار رہی تو بی جے پی 60 سے 62 سیٹ تک سمٹ سکتی ہے ۔اور ایسے میں مودی اینڈ کمپنی گجرات کی طرز پر مدھیہ پردیش میں ایک بڑا آپریشن بھی کرسکتی ہے جس کی زد میں ماما بھی آسکتے ہیں ۔اور یہ خبر ماما کو بھی ہے لہذا وہ بھی نتن گڈکری اور وسندھرا راجے سندھیا کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں ۔کچھ سیاسی مبصر ان تینوں کے ساتھ جوگی جی کو بھی کھڑا کر رہے ہیں جو ہمیشہ ہی نریندر مودی اور امت شاہ کی آنکھ میں کھٹکتے رہتے ہیں اور تازہ صورت حال میں جب جوگی نے اتر پردیش کے کارپوریشن الیکشن میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے جبکہ نریندر مودی اپنے تمام سپہ سالاروں کے ساتھ کرناٹک میں شکست کھا چکے ہیں جوگی کا قد مزید بڑھ گیا ہے لیکن مودی کی وجہ سے مرکزی قیادت جوگی کی اس طرح پذیرائی نہیں کر رہی ہے جس کی توقع جوگی کو تھی ۔ایسے میں اگر آر ایس ایس مودی جی کو بدلنے پر غور کریگی تو پھر جوگی جی خود کو سب سے اہل لیڈر کے طور پر سامنے لا سکتے ہیں ۔
کل ملا کر بی جے پی کی سیاست میں اندرونی سطح پر بڑی بڑی موجیں اٹھ رہی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ یہ طوفان سطح پر کب نظر آتا ہے ۔












