• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 22, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

محدث کبیر مولانا سید محمد یحیٰ ندویؒ

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 18, 2023
0 0
A A
محدث کبیر مولانا سید محمد یحیٰ ندویؒ
Share on FacebookShare on Twitter

ندوۃ العلماء کے گل سر سبد ، اسلاف کی یاد گار، محدث کبیر، تواضع انکساری کے پیکر، سادگی میں اپنی مثال آپ، نامور محقق، عربی زبان وادب کے رمز شناش، مخطوطات پر گہری نظر رکھنے والے مشہور عالم دین، خرد نواز، امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے استاذ اور اجازت حدیث عطا کرنے والی بڑی شخصیت مولانا سید محمد یحیٰ ندوی ؒ 17؍ رمضان المبارک 1444ھ مطابق 8؍ اپریل 2023ء بوقت گیارہ بجے شب سفر آخرت پر روانہ ہو گیے، جنازہ کی نماز 18؍ رمضان کی شب 10؍ بجے مطابق 9؍ اپریل ان کے آبائی گاؤں سانحہ موجودہ ضلع بیگوسرائے میں ان کے پوتا مولانا احمر القاسمی نے پڑھائی، جنازہ کے قبل ان کے وارثین نے مقامی علماء کے مشورے سے میرا بیان طے کر رکھا تھا، چنانچہ حافظ امتیاز رحمانی نے ان کے خاندانی احوال وکوائف اور احقر (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی)نے ان کے علمی رسوخ، حافظہ، ذہانت اور حدیث کے حوالہ سے ان کی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، یہ موقع طویل تقریر کا ہوتا بھی نہیں ہے ، تدفین ان کے آبائی قبرستان میں گاؤں کی مسجد کے قریب ہوئی،ا میر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے حکم وہدایت پر ایک سہ نفری وفد قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی ، قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی اور راقم الحروف پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد سانحہ پہونچا اور مولانا مرحوم کے جنازہ اور تدفین میں شریک ہوا، سانحہ گاؤں میں اتنا بڑا ’’سانحہ‘‘ شاید ہی کبھی ہوا ہوگا، رمضان المبارک کا مہینہ اور رات کے دس بجے جنازہ میں جو ہجوم تھا وہ ان کی عند الناس محبوبیت اور عند اللہ مقبولیت کی دلیل تھی ۔
مولانا سید محمد یحیٰ ندوی ؒ بن سید فضل الکبیر یکم رمضان المبارک 1338ھ مطابق 1930ء میں اپنے آبائی گاؤں سانحہ اس وقت کے ضلع مونگیر میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ دار العلوم معینیہ سے پائی ، خاندانی وجاہت اور زمینداری اللہ نے عطا کی تھی ، آپ کا خاندانی تعلق سادات بارہ گاواں سے رہا، ابھی چھ سال کی عمر ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے والدین اور نانی کے ساتھ حج کی سعادت بخشی، اعلیٰ تعلیم کے لیے 1944ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا اور اس وقت کے نابغہ روزگار شخصیات حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی مولانا شاہ عطا سلونوی اور مولانا اویس ندوی نگرامی رحمہم اللہ سے درسیات پڑھیں اور کسب فیض کیا، 1948ء میں یہاں سے فراغت پائی ، عربی زبان وادب کی طرف طبیعت مائل ہوئی تو مولانا عبد العزیز میمن (م 1978ئ) اور مولانا بدر الدین علوی (م 1965ئ) کی شاگردی اختیار کی ، حدیث کی طرف متوجہ ہوئے تو مولانا عبد اللیف علی گڈھی (م1959) کے حلقہ درس میں داخل ہو گیے، مولانا عبد اللطیف علی گڈھی ،حضرت مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی (م 1313ھ) کے اجازت یافتہ تھے، احادیث کے کتابوں کے مدون اور مروج ہوجانے کے بعد اجازت حدیث کی پہلے کی طرح وہ اہمیت باقی نہیں رہی ، لیکن عالی سند کا حصول اب بھی قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔علی گڈھ سے کسب فیض کے بعد مولانا جامعہ ازہر جانا چاہتے تھے ، ان کے استاذ شیخ عبد العزیز میمن نے اس کا انتظام بھی کر دیا تھا، لیکن والدہ اتنی دور بھیجنے کو تیار نہیں ہوئیں اور مولانا کو اپنا ارادہ ترک کردینا پڑا۔
مولانا مرحوم نے مولانا فضل اللہ جیلانی سے حدیث پر تحقیق کا طریقہ سیکھا اور تصوف کے رموز اور اصلاح قلب کا کام بھی مولانا فضل اللہ ہی کی صحبت با اثر میں تکمیل کو پہونچا، علی گڈھ کے بعد مولانا نے مئو کا رخ کیا اور وقت کے نامور محدث اسماء الرجال کے ماہر مولانا حبیب الرحمن اعظمی (م 1992ئ) جنہیں مئو والے بڑے مولانا کہتے تھے، ان سے کسب فیض کیا اور ان کی صحبت نے ان کو اس فن میں ماہر بنا دیا۔ وہ اس تحقیق کے کام سے اس قدر لگ گیے کہ دوسرے کسی کام کے نہیں رہے، مطالعہ، مطالعہ اور صرف مطالعہ ان کا شوق اور شغف بن گیا۔
مولانا کی شادی مولانا لطف اللہ رحمانی بن قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری کی صاحب زادی اور مولانا مناظر احسن گیلانی کی بھانجی عائشہ رحمانی سے ہوئی تھی ، خانوادہ مولانا محمد علی مونگیری سے مصاہرت ہونے کی وجہ سے ان کا تعلق جامعہ رحمانی ، خانقاہ رحمانی اور امارت شرعیہ سے انتہائی مضبوط تھا، کچھ دنوں وہ سیاست میں بھی لگے، جمعیۃ علماء کے لیے بھی کام کیا اور پورے بہار کا دورہ کیا، وہ اس تنظیم کے بہار میں نائب صدر اور ضلع کے صدربھی رہے، لیکن علم وتحقیق ان کا اوڑھنا بچھونا تھا، اس لیے زیادہ دنوں تک یہ سلسلہ نہیں چل سکا، مولانا کا حافظہ غضب کا تھا، مخطوطات شناشی میں وہ ابومحفوظ الکریم معصومی کے بعد میرے علم کے مطابق ہندوستان میں آخری شخص تھے، ان کا مطالعہ انتہائی وسیع وعمیق تھا، انہوں نے ہر فن کی کتابوں کامطالعہ کیا تھا لیکن کمال علم حدیث میں تھا ، جو ان کی شناخت بن گئی تھی، وہ لکھتے کثرت سے تھے اور اپنے اساتذہ کے بعض تحقیقی کاموں میں وہ علمی مساعد بھی رہے، ان کی کئی تحقیقات کو دوسروں نے اپنے نام سے چھپوا لیا اور خوب روپے کمائے، مولانا کو اس دجل کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ چھوڑیے کچھ روپے کما لیے تو کیا ہوا۔
مولانا کے مزاج میں تواضع اور انکساری کے ساتھ اپنے کو مخفی رکھنا بھی شامل تھا، وہ اپنی علمی تحریروں کو بھی نہ چھپوا سکے اور نہ ہی سَجو کر رکھ سکے، اب یہ کام ان کے وارثوں خصوصا مولانا احمر القاسمی کا ہے کہ اس کو چھپوانے کی طرف متوجہ ہوں اور ان تحریروں کو محفوظ کر نے کا انتظام کریں۔
مولانا کی شفقت مجھے بے پناہ حاصل تھی ، جب بھی وہ امارت شرعیہ آتے تو گھنٹوں علمی موضوعات پر مجھ سے گفتگو کرتے، میری کتاب تفہیم السنن شرح آثار السنن کی تعریف کرتے اور ہدایت دیتے کہ اس کی دوسری جلد کاکام بھی مکمل کرو ، وہ آثار السنن کو نئے خد وخال اور تحقیقی حاشیے کے ساتھ لانے کی تلقین کرتے جس میں دفتری مشغولیات اور نقیب کی ادارتی ذمہ داریوں کی وجہ سے اب تک کامیاب نہیں ہوسکا ، لیکن مقام مسرت ہے کہ مولانا سعید انور سمستی پوری اور مفتی جاوید احمد ہریانوی نے الگ الگ ڈھنگ سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہونچا دیا ہے۔
مولانا کو ایک بار میں نے ذکر کیا کہ میرے پاس مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری ؒ کے مختلف کتابوں کے درسی افادات ہیں، خصوصا صحاح ستہ میں سے کئی کتابوں کے تو حکم دیا کہ اسکی تحقیق وتخریج کرکے شائع کرواؤ، اب مولانا کی طرح کوئی نہیں رہا جو حکم دے، طریقہ بتائے، حوصلہ افزائی کرے اور نئے نئے گوشوں کو اجاگر کرکے میری علمی صلاحیتوں کو مہمیز کرکے جگائے۔ باتیں بہت ساری ہیں، واقعہ یہ ہے کہ :
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے ۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist