نئی دہلی، آل انڈیا ملی کونسل کے رکن تاسیسی اور مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور ممتاز پی جی کالج لکھنؤ کے سابق منیجر نیز آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری ظفریاب جیلانی ایڈوکیٹ کا آج دن کے 12/ بجے لکھنؤ کے نشاط ہاسپیٹل میں انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل ڈاکٹر محمد منظور عالم نے جہاں مرحوم ظفریاب جیلانی کے سانحہئ ارتحال پر سخت غم وافسوس کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی، وہیں مرحوم جیلانی صاحب کے ساتھ اپنی گہری رفاقت پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم جیلانی صاحب سے اُن کے گہرے روابط اُس وقت سے تھے جب کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم وتعلّم سے وابستہ تھے۔ ڈاکٹر عالم نے جہاں انھیں ہمیشہ اپنوں کی طرح دیکھا اور اُن کے اخلاق وعادات کی ہمیشہ تحسین ورعایت کی، وہیں اپنے اس تعلق میں اس کا بھی ذکر کیا کہ وہ ہمارے ساتھ حجاز مقدس میں اپنے مناسک حج کے دوران ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور الحمدللہ یہ سفر بے حد یادگار ہے۔ بلاشبہ جیلانی صاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اور اُن کی مختلف پلیٹ فارموں سے انجام دی گئی خدمات کی تحسین ہر سنجیدہ انسان کرے گا۔ انھوں نے آل انڈیا ملی کونسل کے کاز سے خود کو انتہائی مربوط رکھا اور کونسل کی تاسیس سے ہی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام القاسمیؒ کے ساتھ مسلسل وابستہ رہے اور کونسل کے سیاسی وقانونی معاملات میں بھی پوری دلجمعی کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیا۔ مرحوم کا دیرینہ تعلق انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ساتھ بھی بڑا مخلصانہ رہا۔ آل انڈیا ملی کونسل کے صدر حکیم محمد عبداللہ مغیثی اور سبھی پانچ نائبین صدر نے بھی گہری تعزیت پیش کی ہے۔ملی کونسل کو اپنے اس مرکزی تاسیسی رکن پر غیرمعمولی رنج وملال ہے اور اُن کی دینی، ملی، تعلیمی، قانونی اور رفاہی خدمات کو بہ نظر تحسین دیکھتی رہی ہے۔ خداوند کریم مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور اُن کے پسماندگان نیز سبھی متعلقین کو صبر وثبات نصیب فرمائے۔مشہور اسلامی دانشور پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے مشہور وکیل، ملت کے غم خوار اور ملّی معاملات میں گہری دلچسپی رکھنے والے جناب ظفریاب جیلانی ایڈوکیٹ کے سانحہ ارتحال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہارکیا۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ مرحوم سے ان کا تعلق پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط تھا۔ ہم دونوں کا وہ رشتہ جو علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بازیابی کی تحریک سے قائم ہوا تھا وہ آج تک جاری تھا۔ ظفریاب جیلانی صاحب کے علی گڑھ سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ مختلف اعتبار سے رشتے کو نبھاتے رہے اور ایمرجینسی کے دور میں جب پولیس مجھے گرفتار کرنے کے لیے سرگرم تھی تو انہوں نے لکھنؤ میں اپنے گھر میںمجھے روپوش رکھا۔ لکھنؤ کے مشہور وکیل اور ہم سب کے مربی الحاج شفیق الرحمن کے شاگرد کی حیثیت سے انہوں نے جو سفر شروع کیا تھا اس میں انہوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی ساتھ ہی ساتھ شیعہ ڈگری کالج میں قانون کی تدریس سے بھی وابستہ رہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے وابستگی اور بابری مسجد کے مقدموںکی پیروی میں ان کی نمایاں کارکردگی انہیں شہرت اور عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی وفات میرے لیے ایک بڑے بھائی کی موت کی طرح ہے۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور پسماندگان و وابستگان کو صبرجمیل عطا فرمائے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈووکیٹ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری،آل انڈیا ملی کونسل کے فاؤنڈر ممبر معروف دانشور اور الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل جناب ظفریاب جیلانی صاحب کے انتقال پر ملال اور مشاورت کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔صدر مشاورت نے ان کے انتقال کو ملت اسلامیہ ہند کے لئے ایک عظیم سانحہ سے تعبیر کیا اور اپنے تعزیتی پیغام میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کو ملت کا ایک دردمند اور ہمیشہ مسلمانوں کے دستوری حقوق کو دفاع کی کوششوں کرنے والے ایک ایسے ہمدرد سے تعبیر کیا جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔آل انڈیا مسلم یوتھ کنونشن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ظہیر احمد خاں نے معروف ملی رہنما آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری، سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اتر پردیش، اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ، ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی صاحب کی رحلت کو ملک کو ملت کے لیے عظیم خسارہ بتایا۔ اپنے تعزیتی بیان میں ڈاکٹر ظہیر نے کہا کہ ظفریاب جیلانی مسلم یوتھ کنونشن کے بانی صدر تھے اور مرحوم جاوید حبیب صاحب اس کے پہلے جنرل سکریٹری تھے، جو نوجوانوں میں دینی تعلیی اور ملی شعور بیدار کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مرحوم جیلانی صاحب یوتھ کنونشن کےسرگرمیوں میں بہت دل چسپی لیتے تھے اور آخری سانس تک وہ اس کے لیے متحرک رہے۔ ڈاکٹر ظہیر نے جیلانی سے اپنا دیرینہ تعلق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ ان کا مرحوم سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں زمانہ طالب علمی سے ہی تعلق رہا ہے اور جیلانی صاحب اسی دور سے ملی و دینی تحریکات سے وابستہ ہو گیے تھے۔












