دیوبند، شہر میں چل رہی پری یوپی اسٹیٹ شوٹنگ چیمپن شپ کے دوسرے روز دھیان گرو سوامی دیپانکر مہاراج نے کھلاڑیوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ خود بھی نشانہ لگاکر ہدف کو حاصل کرنے کا پیغام دیا۔ اس موقع پر سوامی دیپانکر مہاراج نے کہا کہ اچھے کھیل سے سنہرا کیرئیر بنایا جاسکتا ہے اس لئے دل سے کھیلیں اور زندگی میں ہدف کو سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہی بچہ کامیاب ہوتا ہے جو ہدف کو متعین کرکے آگے بڑھتا ہے، کھیل بھی انسان کے لئے بہت ضروری ہے ، اس سے بچوں کی ذہنیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ مقابلوں کے سرپرست یوپی رائفل ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری جی کے سنگھ نے کہا کہ شوٹنگ کے کھیل کو اترپردیش کے ہر حصہ میں اس کو پہنچانا ان کا خواب تھا اور دیوبند جیسے علاقہ میں اتنے بڑے مقابلے اور اتنے کھلاڑیوں کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی کوششیں کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کھلاڑیوں میں جو ش بھرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ میں صرف گیارہ کھلاڑی کھیلتے ہیں لیکن شوٹنگ میں یہ تعداد سیکڑوں میں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج ، پولیس اور دیگر محکموں میں شوٹنگ کے اچھے کھلاڑیوں کے کیرئیر کے روشن مستقبل کے امکانات ہیں اس لئے جوش وخروش کے ساتھ ٹارگیٹ پر نشانہ لگائیں۔ شوٹنگ چمپین کے کنوینر پدم ملک اور نشانت ملک نے کہا کہ مقابلہ میں پورے اترپردیش کے کھلاڑی ہزاروں کی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ سبھی کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوں اور وہ دیوبند سے شاندار تجربہ لے کر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہی بچہ کامیاب ہوتا ہے جو محنت اور دلجوئی کے ساتھ کوشش کرتا ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کے سرپرست اور والدین موجود رہے۔ پروگرام کی نظامت صحافی آباد علی نے انجام دی۔ دوسری جانب دیوبند کالج آف ہائر ایجوکیشن میں بدھ کو پانچ روزہ اسکاؤٹ گائیڈ کیمپ کا افتتاح کیاگیا۔ جس میں بی ایڈ کے طلباء کو ا سکاؤٹ گائیڈ کی مختلف شعبوں کی تربیت دی گئی۔بھارت ا سکاؤٹ گائیڈ کے زیراہتمام کیمپ کے افتتاح کے موقع پر پرنسپل ڈاکٹر محمد عابد نے کہا کہ اسکاؤٹ گائیڈ کیمپوں سے ملک اور سماجی خدمت کا جذبہ ابھرتا ہے۔ ضلع اسکاؤٹ آرگنائزیشن کمشنر انل بھاردواج اور ان کے ساتھیوں نے کیمپ میں طلباء کو تربیت دی۔ اس دوران بی ایڈ سال دوم کے طلباء نے رنگا رنگ پروگرام پیش کیا۔ اس موقع پر سلونی ورما، نیلیش پنڈیر، ویبور، انکت، امریش، شیوم شرما، گورو شرما، پلوی، زینب، ایکتا، شاکر حسن، شاہین، رینا سینی، روپا پنڈیر، سعدیہ، جاوید انصاری، اسرار تیاگی وغیرہ موجود تھے۔












