نئی دہلی :پرانی دہلی کی سماجی و دینی شخصیت ذکرالر حمان شر وانی کا آج تہجد کی نماز میں انتقال ہو گیا، ان کی عمر تقریباً ۷۸ سال تھی۔ ذکرالرحمان شیروانی کے والد مرحوم حاجی ضیاء الرحمان شر وانی نے اپنا آبائی وطن گاؤں برلہ سرائے ضلع علی گڑھ سے۱۹۳۲ میں ہجرت کی تھی اور مع اہل و عیال دہلی حویلی اعظم خان آ گئے تھے اور یہیںپران کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کے بھائی انیس الر حمان شر وانی نے بتایا کہ علی گڑھ سے اس دوران اتنی بڑی تعداد میں لوگ آئے تھے کہ حویلی اعظم خان کی یہ گلی علی گڑھ والوں کی گلی کرکے مشہورہو گئی تھی۔ ساتھ ہی والد مرحوم نے ملک کی جنگ آزادی کے فوراً بعد یعنی ۱۹۴۷ میں نئی سڑک پر کمال پرنٹنگ پریس قائم کیا جو سیلنگ کی وجہ سے اب بند ہو چکا ہے۔ تقریباً اس کے آس پاس اردو بازار جامع مسجد پر مدینہ بک ڈپو قا یم کیا گیا جسے اُن بڑے بیٹے مرحوم عطاء الر حمن نے اس میں مزید اضافہ کیا۔ مرحوم ذکرالرحمان شیروانی کا فصیل بند شہر کے سماجی اور دینی بزرگوں میں شمار ہوتا تھا، لوگوں کی مدد بھی کیا کرتے تھے اور ہمیشہ ایمانداری سے کام کرنے اور نماز کی نصیحت کرتے تھے ،پرانی دہلی میں واقع مختلف مدارس سے وابستہ رہے۔ پسماندگان میں اہلیہ اور چھوٹے بھائی انیس الرحمان شیروانی ہیں جبکہ ان کے بڑے بھائی عطاء الر حمان اور چار بہنوں کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ تینوں بھائیوں کے اولاد نہیں تھی۔ نمازجنازہ دہلی گیٹ قبرستان میںمفسر القران مولانا جمال الدین نے پڑھائی جبکہ تدفین میں علی گڑھ اور ان کے آبائی دیہات برلہ،سرائے،کناوہ، جلال آباد، کرتپور،بجنور، میرٹھ وغیرہ سے جشو شیروانی،راشدشیروانی،سراج الرحمٰن،خلیل الرحمن، حمام خان،شیران خان،فرید احمد ایڈوکیٹ،شارق میاں،اور مقامی لوگوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ مرحوم کے پڑوسی حاجی نسیم پکوڑے والے اور مولوی حاجی انوار احمد نے بتایا کہ مرحوم صوم صلوۃ کے پابند تھے اور لوگ اکثر ان سے دعا کرا تے تھے ۔سینئر صحافی صادق شیروانی نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی ہے۔












