نئی دہلی، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (اے آئی ایم ایم ایم)مشاورات کو ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک ایسا اعلی ادارہ ہونے کا فخر حاصل ہے جس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ان بزرگوں کی دور اندیشی پر فخر ہوتا ہے جنہوں نے اس ادارہ کی بنیاد ڈالی تھی ۔ان اکابرین کی دور اندیشی کو کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے جنہوں نے آزادی کےاٹھارہ بیس سال بعد ہی یہ محسوس کر لیا تھا کہ مستقبل قریب میں ہندستانی مسلمانوں کی تنظیمیں تو بہت ہونگی لیکن ان تنظیموں اور اداروں کے مابین کسی ایک پلیٹ کی اشد ضرورت پیش آئیگی جو کامن مینیمم پروگرام کے تحت ہندستانی مسلمانوں کے مسائل کو سرکار کے گوش گذار بھی کرے اور انہیں حل کرنے کے لئے حکومت پر دباؤبھی ڈال سکے ۔ اب نہ ہمارے وہ اکابرین رہے اور نہ وہ قیادت رہی ،لیکن آل انڈیا مسلم مجلس مشاوررت کا وجود باقی ہے ۔اللہ کا شکر ہے کہ آج بھی مسلم مجلس مشاورت ایسے محفوظ ہاتھوں میں ہے جنہیں اللہ نے ملت کے درد کو سمجھنے کی صلاحیت دی ہے اور وہ مسلسل کوشاں ہیں کہ ملک کے مختلف ریاستوں میں موجود تنظیمیں ،ممتاز ادارے اور بیدار ذہن نامور افراد اس تنظیم کے پلیٹ فارم کا استعمال کر کے ہندستانی مسلمانوں کے زندہ سوالات کو حکومت وقت کے سامنے بلند آہنگ میں اٹھائیں ،ان کے سامنے درخواست پیش کریں ،میمورنڈم اور ایجنڈے کے ساتھ ان سے میٹنگ کریں اور انہیں مجبور کر دیں کہ وہ مسلمانوں کے سوالات کی روشنی میں اپنے پروگرام بنائیں ،پالیسیاں وضح کریں ۔
فی الوقت ملک کا جو سیاسی منظر نامہ ہے اس میں سب سے پہلا اور اہم کام یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے اندر سے احساس کمتری کو نکالا جائے ۔مسلمانوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ وہ اس ملک کےباوقار شہری ہیں اور آئین ہند میں ان کے حقوق بھی درج ہیں اور ان کی ذمہ داریوں کو بھی درج کیا گیا ہے ۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ایک واحد تنظیم ہے جو آئین کی روشنی میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے درمیان سے بد دلی کو نکال کر انہیں ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے فعال کرے ۔ 1964 سے لے کر 2023 کے درمیانی عرصے میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ملت کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔لیکن لکھنؤ میں قیام کے بعد سے دہلی تک اس کی ایک روشن تاریخ ہے ۔اس کی قیادت کرنے والوں کی بیش بہا خدمات بھی ہیں ،ممکن ہے بوجوہ ان سے تساہلی بھی ہوئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ انفرادی طور پر کسی ممبر اور قائد سے کسی کی ناچاقی بھی ہو لیکن مجموعی طور پر اس تنظیم کا مقصد آج بھی ملی تنظیموں اور اداروں کے مابین خوشگوار ماحول کا قیام ہے ۔فی الوقت فیروز احمد ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اس کے صدر ہیں اور جناب سید تحسین احمد اس کےسیکریٹری جنرل ہیں۔ موجودہ ملی مسائل کے مد نظر مشاورت کے عہدیداروں کا ایک نمائندہ وفد بہار کے دورے پر بھی گیا تھا ۔جس کی قیادت آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر نوید حامد صاحب کر رہے تھے۔یہ خبر کس قدر خوش کن ہے کہ مشاورت میں صدر کی مدت ختم کرنے کے بعد بھی نوید حامد صاحب مشاورت کے حلقہ کو مزید توسیع دینے کے لئے ملک کے دور دراز علاقوں کا سفر کر رہے ہیں ۔
نوید حامد صاحب ایک نہایت فعال شخص کا نام ہے جن کی زندگی ملی معاملات کو سلجھانے میں ہی بسر ہوئی ہے ۔ایک ملی تنظیم کے روح رواں رہنے کے باوجود 2014سے پہلے شاید ہی کسی پارٹی میں قومی سطح کا کوئی سیکولر لیڈر ہو جس سے نوید حامد کی یاد اللہ نہ ہو ۔ موصوف نے عنفوان شباب سے ہی سیاسی گلیوں کی خاک چھاننی شروع کردی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ اندرا گاندھی ہوں یا راجیو گاندھی ،وشوناتھ پرتاپ سنگھ ہوں یا اندر کمار گجرال ،نرسمہا راؤ ہوں یا منموہن سنگھ ،نوید حامد کی سب سے ایسی ملاقاتیں رہیں کہ وہ سب انہیں نام کے ساتھ پہچانتے تھے ۔جبکہ متعدد وزرائے اعظم ان کی صلاحیت کے قائل بھی تھے ۔بابری مسجد کو آرڈی نیشن کمیٹی میں بھی نوید حامد شامل رہے۔ اس کمیٹی میں اس وقت ملک کے نامور ملی رہنما شامل تھے جس میں سید شہاب الدین ،ابراہیم سلیمان سیٹھ ،سید احمد ہاشمی ،شفیع مونس،مولانا احمد علی قاسمی ،مظفر حسین کچھوچھوی جیسی شحصیات تھیں ۔اس کے علاوہ بھی مولانا علی میاں ندوی ،مولانا منت اللہ رحمانی ،مو لانا مجاہد الاسلام قاسمی ،مولاناولی رحمانی ،پی ایم سعید ،کے ایم خان ،مولانا حبیب الرحمان نعمانی ،سید حامد،جسٹس ای احمدی ،جعفر شریف،فاروق عبداللہ اور احمد پٹیل جیسے نامور اور سرکردہ لیڈروں سےنوید حامد کی گہری شناسائی رہی ۔ان میں متعدد لیڈروں اور علما کو میں نے اکثر مشاورت کے کئی پروگراموں میں شرکت کرتے دیکھا ہے۔بتانا صرف یہ تھا کہ ایسے وقت میں جب عہدوں سے ہٹنے کے بعد اکثر لوگ اس ادارے سے قطع تعلق ہو جاتے ہیں لیکن نوید حامد نے خود پر تھکن کو غالب نہیں آنے نہیں دیا ہے ۔نہ انہیں ملت کا غم سونے دیتا ہے اور نہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس وفد نے بہار کی راجدھانی پٹنہ کے علاوہ مظفر پور ،موتیہاری، بتیا گوپال گنج اور سیوان کا دورہ مکمل کر لیا ہے ۔مشاورت سے ملی خبر کے مطابق 28 مئی کو پٹنہ میں مشاورت ایک بڑے نمائندہ کانفرنس کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے اور اسی کی تیاری کے لئے نوید حامد بہار کے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں اوران ضلعی میٹنگوں کا مسلمان پر جوش استقبال بھی کر رہے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں لوگ اس تنظیم سے جڑ رہے ہیں ۔نوید حامد ہر میٹنگ میں مشاورت کا یہ ایجنڈا پیش کر رہے ہیں کہ مشاورت کا مقصد مشترکہ تشویش کے مسائل پر ہندوستانی مسلم کمیونیٹی کے رائے سازوں کے درمیان اتحاد، تعاون اور ہم آہنگی کو محفوظ بنانا ہے۔
فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو امداد فراہم کرنا، آئینی ضمانتوں اور قومی پالیسیوں کے عدم نفاذ سے پیدا ہونے والی ان کی جائز شکایات کو حکام کے ساتھ اٹھانے کے لیے مسلم کمیونٹی کی صورت حال پر نظر رکھنا؛ قومی معاملات میں ان کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی مذہبی اور سماجی زندگی کے تحفظ کے لیے حالات پیدا کرنا ہے ۔اس کے لیے مشاورت مسلسل کمیونٹیز کے درمیان پرامن بقائے باہمی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور بین گروپ مفاہمت کو فروغ دے رہا ہے۔جمہوریت، سیکولرازم، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کی پابندی کے ساتھ اس کا طریقہ کار آئین کے دائرہ کار میں ہمیشہ پرامن اور جمہوری رہا ہے۔مشاورات مشترکہ تشویش کے مسائل پر سرکردہ مسلم تنظیموں کے درمیان مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔نتیجے کے طور پر، انتخابی حلقوں کی حد بندی، TADA اور POTAکے تحت ناجائز گرفتار افراد کی رہائی، قانون ساز اداروں میں کمیونیٹی کی نمائندگی، اور پولیس اور انٹیلی جنس مشینری میں مشترکہ اقدامات کرنے ہیں ۔یہ امید کی جانی چاہئے کہ ملک کے دیگر ریاستوں میں کام کرنے والی تنظیمیں اور مرکزی سطح پر موجود تنظیمیں بطور خاص جماعت اسلامی ہند کو بھی آگے بڑھکر اس فیڈریشن کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہئیے ۔کیونکہ یہ بات ملت کےکئی حلقوںمیں گردش کر رہی ہے کہ جماعت اسلامی ہند” ایکلا چلو "کی پالیسی پر بر سر کار ہے جسکی وجہ سے جماعت اسلامی سے بھی مسلمانوں میں بد دلی بڑھ رہی ہے جسے خوش آئند نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ایک حد تک یہ بات عام طور پر مسلمانوں کے محدود حلقہ میںتسلیم کیا جاتا ہےکہ فکری سطح پر جماعت اسلامی ہند جیسی تنظیم کا وجود ہندستانی مسلمانوں کے لئے اللہ کی عنایت ہے ۔












