کرن ریجیجو کی وزارت کیا بدلی شادیانے بجنے لگے ۔خاص طور پر اس حلقہ میں جسے سیکولر کہا جاتا ہے ۔اس خوشی کا جواز دیتے ہوئے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کرن ریجیجو کو مودی جی نے یہ سزا اس لئے دی ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ اور اس کے عزت مآب چیف جسٹس سے براہ راست پنگا لے لیا تھا ۔یعنی کرن ریجیجو نے پچھلے دنوں کالیجیم سسٹم کے خلاف جو بھی بولا یا پھر جب یہ کہا کہ ہمارے اکثر ریٹائرڈ جج ملک دشمن سرگرمیوں میں شامل ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ،اس پر برہم ہو کر نریندر مودی نے انہیں سزا دی ہے ۔اردو کا ایک مشہور شعر ہے ۔
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ہمارے چیف جسٹس پر ان دنوں خراج تحسین کے ڈونگرے برس رہے ہیں ،کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ موصوف نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ سیاست کی گلیوں سے کوڑے کچروں کی صفائی کر کے ہی دم لینگے ۔ ان کے کئی فیصلے اس کا ثبوت بھی ہیں ۔مہاراشٹرا کی موجودہ سرکار کو تو انہوں نے ناجائز سرکار ہی ٹھہرا دیا ،اس کے اسپیکر سے لے کر گورنر کے فیصلے تک کو غیر قانونی بتا دیا ،اور سب کو کٹگھرے میں کھڑا کرنے کے بعد آخری فیصلہ اسپیکر پر ہی چھوڑ دیا جو ایک غیر قانونی سرکار کا نمائندہ ہے ۔ الیکشن کمیشن کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کہ اس نے کس طرح شیو سینا کا سمبل اٹھاکر باغیوں کے حوالے کر دیا ۔جئے ہو انصاف کی ۔
دہلی سرکار اور ایل جی کی جنگ میں تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کمال کا تاریخی فیصلہ کیا ۔خود عاپ کے سپریمو کیجریوال نے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ۔اور دینا بھی چاہئے ۔کیونکہ ایک جھٹکے میں اس فیصلے کے بعد کیجریوال صاحب کے ہاتھ میں کارپوریشن سمیت پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا پاور آگیا ۔اور پولیس و زمینیات کو چھوڑ کر سب کچھ کیجریوال کے قبضہ میں نہیں تھا ۔جسٹس صاحب کا یہ فیصلہ بھلا تاریخی کیسے ہوا کہ جب دہلی کو ریاست بناتے وقت ہی قانونی طور پر یہ ساری باتیں طئے کر دی گئی تھیں اور اس کے پہلے کی سرکار کے پاس یہ سارے حقوق تھے بھی ۔لیکن ایسے دور میں جب خوشی کے ایک ایک لمحے کو لوگ ترس رہے ہوں تو انہیں خوش ہونے سے بھلا کون کمبخت روکنا چاہے گا ۔ایک بار پھر جئے ہو انصاف کی ۔
کرناٹک انتخاب کے نتیجوں کے بعد ایک اور خبر آئی کہ کرناٹک کے ڈی جی پی کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا ۔یہ کوئی بڑی خبر بھی نہیں ہے ۔یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے ۔لیکن یہ خبر بڑی اس لئے ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم ،چیف جسٹس نے مل کر لیا ہے ۔اس فیصلے کے تیسرے فریق جو اپوزیشن لیڈر کے طور پر شامل تھے وہ ادھیر رنجن چودھری تھے ،اور انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن وزیر اعظم کا چیف جسٹس آف انڈیا نے ساتھ دیا اور مسٹر سود کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا ۔اس پوسٹنگ کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نو منتخب سی بی آئی ڈائریکٹر اور کرناٹک کانگریس کے لیڈر ڈی کے شیو کمار ایک دوسرے کو پھوٹی آنکھ سے بھی دیکھنا نہیں چاہتے اور ابھی کچھ دنوں پہلے ڈی کے شیو کمار نے انہیں نالائق تک کہدیا تھا اور یہ دھمکی بھی دی تھی کہ ہماری سرکار بننے دو پھر بتاتا ہوں ۔لیکن وہی ڈی جی پی اب سی بی آئی کے ڈائریکٹر بنا دئے گئے اور ان کو بنانے والے ہمارے چیف جسٹس ہیں کیونکہ ادھیر رنجن تو ان کو ڈائریکٹر بنانے کے حق میں تھے نہیں ۔مودی جی ان کو بنانا چاہ رہے تھے ۔اگر چندر چوڑ جی چاہتے تو ادھیر رنجن کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مودی جی کے ایک ووٹ کی مخالفت کر دیتے لیکن انہوں نے ادھیر رنجن کی مخالفت کی ۔کیوں ۔۔؟
اب آپ دیکھیں کہ یہ وہی مودی جی ہیں جن کا قانون منتری چیف جسٹس سے براہ راست پنگا لے رہا ہے ،کالیجیم سسٹم کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو چیلنج کر رہا ہے لیکن نریندر مودی جیسے وزیر اعظم کا اس پورے معاملے سے کوئی مطلب نہیں ۔ان کا اپنے وزیر پر بھی کوئی کنٹرول نہیں اور ہمارے چندر چوڑ صاحب اتنے بھولے بھالے کہ انہیں نریندر مودی کا یہ کھیل سمجھ ہی نہیں آ رہا ہے کہ ان کا وزیر کیا کر رہا ہے ؟اور جب دونوں ایک دوسرے کو خوب جانتے ہیں اور چندر چوڑ صاحب کو یقین ہے کہ موجودہ سرکار کے کسی وزیر تو کیا ایک ایم پی کی بھی یہ ہمت نہیں کہ وہ وزیر اعظم کی مرضی کے خلاف ایک لفظ منہ سے نکال دے۔ تو پھر یکایک نریندر مودی کی تائید میں چیف جسٹس کیوں ؟انہیں تو ادھیر رنجن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا ؟چندر چوڑ بھی انسان ہیں ۔انہیں بھی اس بات کا احساس تو ہوگا ہی کہ کرن ریجیجو نے ان کو اور ان کے عہدے پر کس طرح انگلی اٹھائی ؟ان کے پیچھے ٹرول آرمی کو لگا دیا ۔لیکن اس مہان آتما نے سب کچھ شربت سمجھ کر پی لیا ۔ سارا دیش یہی سمجھ رہا ہے ،تو آپ بھی یہی سمجھئے ،میں کیوں آپ کو کچھ اور سمجھاؤں ؟ میں تو بس یہ جانتا ہوں کہ نریندر مودی کو مہا ن مانو یا فیوتا بنانے میں بابری مسجد کے فیصلے کا سب سے بڑا رول ہے اور اس بینچ میں موجودہ چیف جسٹس بھی موجود تھے اور اس فیصلے کی تائید میں ان کے بھی دستخط ہیں ۔ کھیل بہت بڑا ہے اس لئے اس کو سمجھنے کے لئے بھی بڑے دماغ کی ضرورت ہے ۔












