آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈمسلمانوں کامتحدہ پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مسالک کی نمائندگی کاخیال رکھاگیا ہے۔دیکھتے دیکھتے بورڈکی صف اول خالی ہوچکی ہے،ابھی چندبرسوں کی توبات ہے۔بورڈکے مناصب جلیلہ پرکیسی اہم شخصیات جلوہ افروز تھیں۔اس کی پہلی صف کودیکھیں توحضرت مولانارابع حسنی ندویؒ صدربورڈ،حضرت مولانانظام الدین ؒ جنرل سکریٹری،حضرت مولانامحمدولی رحمانیؒ جنرل سکریٹری،ممتازدانشورعبدالرحیم قریشی ؒاسسٹنٹ جنرل سکریٹری،حضرت مولاناجلال الدین عمری نائب صدر،حضرت مولاناسالم قاسمی نائب صدر،معروف شیعہ عالم دین حضرت مولاناکلب صادق ؒ نائب صدر،حضرت مولاناسیدشاہ فخرالدین اشرف کچھوچھوی نائب صدر،ممتازماہرقانون ظفریاب جیلانی سکریٹری بورڈجیسی شخصیات متمکن تھیں،اس طرح ایک صدر،چارنائب صدور،دوجنرل سکریٹریز،ایک اسسٹنٹ جنرل سکریٹری،ایک سکریٹری سمیت نوکلیدی ممبران اورمتعدداراکین عاملہ چھ سات برسوں میں داعی اجل کولبیک کہہ گئے۔ ایسے وقت میں جب کہ پرسنل لاءکے تحفظ کااہم چیلنج درپیش ہے،بورڈکی صف اول کاخالی ہوجاناصرف بورڈکانہیں،امت مسلمہ کابڑانقصان ہے۔
حضرت مولانارابع حسنی ندویؒکے انتقال کے بعدبورڈ کا صدارتی انتخاب تین جون کو ہوناہے،اس کی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ایسے نازک وقت میں بورڈکے اکابرین ایسی شخصیت کے کاندھے پرصدارت کی ذمہ داری دینے کی کوشش کریں گے جوان چیلنجزسے نبردآزماہوسکے۔نیزوہ شخصیت علم وحلم کے ساتھ وسیع تجربہ اورقانون کی گہری سمجھ،قانون کی تبدیلی کے اثرات کی فہم رکھنے والی ہو۔چنانچہ چندنام زیربحث ہیں۔ان میں ایک نام صدرجمیعۃ علماءہندحضرت مولاناارشدمدنی کا ہے جوحال ہی میں بورڈکے نائب صدربنائے گئے ہیں۔لیکن اطلاع کے مطابق انھوں نے معذرت کرلی ہے۔چوں کہ ان کے کاندھوں پردارالعلوم دیوبندسمیت ،جمیعۃ علماءہندکی بڑی ذمہ داری ہے۔ویسے بھی بورڈکی روایت اورتار یخ رہی ہے کہ اب تک کسی بھی نائب صدرکوصدرمنتخب نہیں کیاگیاہے۔ایسالگتاہے کہ بزرگوں کی یہ روایت بھی ان کے ذہن میں ہوگی۔
حالاں کہ اگراس روایت سے صرف نظرکریں توبورڈکے دیگردونائب صدوراس منصب جلیلہ کے اہل ہیں،اوراچھی بات یہ ہے کہ وہ دونوں دیگرمکتب فکرسے تعلق رکھتے ہیں۔ایک نام ہے جناب کاکاسعیدعمری،یہ مسلک اہل حدیث کامعتبرنام ہے اوروہ بورڈکے نائب صدربھی ہیں،دوسرانام جناب سیدمحمدعلی نقوی کاہے(آپ مولاناکلب صادق کے بعدنائب صدربنائے گئے ہیں)۔ مسلم پرسنل لاءبورڈکے بارے میں تاثریہ ہے کہ وہ ہرمسلک کا نمائندہ اور وفاق ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب تک اس کی تاریخ میں ایک ہی خاص مکتب فکر کے صدوراورجنرل سکریٹریز منتخب ہوتے رہے ہیں،البتہ نائب صدور،سکریٹریز کی سطح پر دیگر مسالک کو نمائندگی ملتی رہی ہے۔اب وقت آگیاہے کہ شیعہ، بریلوی، اہل حدیث میں کسی بڑی شخصیت کو یہ موقع دیاجائے،چنانچہ دیگرمکاتب فکرکے دونائب صدورجناب کاکا سعید عمری اورجناب سیدمحمدعلی نقوی کانام بہت مناسب ہے۔بریلوی طبقہ کے معروف عالم دین اورماہرتعلیم ڈاکٹرسیدشاہ خسروحسینی صاحب رکن عاملہ ہیں،ان کے نام پربھی غورکیاجاسکتاہے۔اس طبقہ سے جناب ڈاکٹرمفتی مکرم صاحب معروف عالم دین اوررکن عاملہ ہیں،ان کااسم گرامی بھی زیربحث ہوسکتاہے۔ان کے علاوہ داعی اسلام شیخ ابوسعیدصفوی مقبول عالم دین ہیں۔اس سے ملک کے مسلمانوں کوایک مثبت پیغام جائے گاکہ حقیقی طورپربورڈتمام مسالک کانمائندہ ہے اوراس کی آوازاورکازکومضبوطی ملے گی۔
ان کے علاوہ نائب صدوراورسکریٹریز کے مناصب بھی خالی ہوئے ہیں ،ان میںاسلامی اسکالراور امیرجماعت اسلامی ہندجناب سعادت اللہ حسینی ، امیرشریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈمولانااحمدولی فیصل رحمانی،(جوبانی مسلم پرسنل لابورڈکے حفیداوردوسابق متحرک وفعال جنرل سکریٹریزکی اولادمیں ہیں۔)دارالعلوم وقف کے مہتمم مولاناسفیان قاسمی(اولین صدرکے حفیدرشیداورسابق نائب صدرکے فرزندہیں)،ندوۃ العلماءکی نمائندگی کے لیے مولانابلال حسنی ندوی، ممتازماہرتعلیم مولاناغلام محمدوستاونوی ،ممتازماہرقانون ایڈووکیٹ یوسف حاتم مچھالہ،پنجاب کے نوجوان عالم دین مولاناعثمان لدھیانوی کوآگے بڑھاکرذمہ داری دی جانی چاہیے۔ اس سے بورڈکی تیسری صف تیارہوگی ۔جس طرح بزرگوں نے اپنے بعددوسری صف کے لیے نوجوان علماءودانشوران کوآگے بڑھاکرموقع دیا تھا۔
اگر دیگر مکتب فکرکی شخصیات کے ناموں پرپغورنہیں کیاجاسکتا اورکوئی’ دعاءگو‘اور’معمر شخصیت ‘ہی مناسب ہے تو سنیئر اراکین عاملہ میں جناب مولانا عبداللہ مغیثی صاحب صدر آل انڈیاملی کونسل کااسم گرامی، صدرکے عہدہ کے لیے مناسب ترین ہے۔ ان کے علاوہ جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی ذات گرامی صدر کے لیے نہایت موزوں ہے،ایسی صورت میں مولانامحمدفضل الرحیم مجددی ندوی صاحب جو ابھی سکریٹری ہیں، ان کو جنرل سکریٹری بنانے پر غورکرناچاہیے(اس صورت میں سکریٹری کاایک عہدہ مزیدخالی ہوگاجس پرمذکورہ بالاکسی مناسب نام پرغورکیاجاناچاہیے )۔مولانامجددی کی شخصیت صدر کے لیے بھی اہم ہے۔وہ ماہرتعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ قانونی نکات پردسترس رکھتے ہیں اوران کے پاس بورڈکے کاموں کا وسیع تجربہ ہے۔خیرمولاناخالدسیف اللہ رحمانی یامولانافضل الرحیم مجددی میں سے کوئی جنرل سکریٹری کے عہدہ پرہوتے ہیں توان کی مصروفیات کودیکھتے ہوئے ایک اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری بنانے پر بھی غورکرنا چاہیے،(گرچہ اسسٹنٹ جنرل سکریٹری کوئی مستقل عہدہ نہیں ہے بلکہ اضطراری صورت میں اس کی گنجائش رکھی گئی ہے۔) چنانچہ مولانامحمد عمرین محفوظ رحمانی ،پروفیسرریاض عمرمیںسے کسی کو اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری بنانے پر غور کیا جانا چاہیے ۔جس طرح جناب مولانانظام الدینؒ کے وقت میں جناب عبدالرحیم قریشی اسسٹنٹ جنرل سکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔اس سے کاموں کو رفتارملے گی اورجنرل سکریٹری کی معاونت ہوگی۔
معاملہ کاایک پہلواوربھی ہے۔مرکزی حکومت یونیفارم سول کوڈکی طرف بڑھ سکتی ہے۔بی جے پی کے زیراقتدارکچھ ریاستوں میں اس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔میڈیاخبروں کے مطابق لوک سبھاالیکشن سے پہلے بی جے پی حکومت یہ داؤکھیل سکتی ہے ۔اگرخدانخواستہ یونیفارم سول کوڈکانفاذہوجاتاہے توتمام پرسنل لازازخودختم ہوجائیں گے ،جب پرسنل لاز ہی قانونی طورپرکالعدم ہوں گے،تومسلم پرسنل لا بورڈ کی ضرورت باقی کیوں رہے گی؟کیوں کہ بورڈ کاایک دائرہ کارمتعین ہے یعنی اس کی تشکیل پرسنل لاءکے تحفظ کے لیے ہوئی ہے ۔بورڈنے دیگرمسائل پربارہا وضاحت بھی کی ہے کہ بورڈاپنے دائرہ کارسے آگے نہیں بڑھے گا۔ویسے بھی اس کی سرگرمیاں بظاہرنشستن ،گفتن ،برخاستن سے متجاوزنہیں ہورہی ہیں،اس لیے بورڈکم ازکم اپنے آخری دنوں میں ہی سہی،دیگرمکتب فکرکی شخصیات کے نام پر غور کرکے ایک مثبت میسج دے سکتاہے۔کسی جانب داری سے قطع نظربزرگوں کی خدمت میں اوربورڈکے مفادمیں یہ چندمعروضات ہیں،جن پرایک بار ضرور غور کیا جانا چاہیے۔












