ملک اس وقت ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا اور دوسری طرف ملکی معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ دہشت گردی سے لے کر کرپشن تک اپنے عروج پر ہے۔ تعلیم کو تجارت بنانے کی مقابلہ آرائی ہے۔ گھوٹالے مسلسل ہو رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جس میڈیا نے ان گھوٹالوں کو بے نقاب کیا وہ اب ان گھوٹالوں کی پردہ پوشی کر رہا ہے۔ بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کا نعرہ اب کھوکھلا ثابت ہو رہا ہے۔ ایسے میں مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے نہ صرف فرقہ پرستی کو ہوا دے رہی ہے بلکہ توہم پرستی کا سہارا لے کر ہندوستان کے ایک بہت بڑے طبقے یعنی پسماندہ طبقے کو دھوکہ دے کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت معاش، روزگار، بدعنوانی، تعلیم، سماجی تحفظ، خواتین کے تحفظ پر بات کرنے کے بجائے صرف فرقہ وارانہ اور امتیازی سیاست پر توجہ دی جارہی ہے۔
دراصل 9 سال سے اقتدار میں رہنے والیبی جےپی اور اس کے لیڈران اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ یہ ملک اب ان کی بیان بازی کے بجائے کام کی بنیاد پر فیصلے لینے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کرناٹک میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اب نہ جملوں کی حکومت چلے گی اور نہ ہی ہندو مسلم کی سیاست چلے گی۔ کرناٹک میں ذلت آمیز شکست کے ساتھ ہی بی جےپی کا جنوبی ہند سے صفایا ہو گیا ہے۔ بی جےپی کو آئندہ لوک سبھا انتخابات میں جنوبی ہند سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ ایسے میں اس کی نظریں شمالی ہندپر جمی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ اورمغربی بنگال جیسی ریاستوں میںوہ اپنی توجہ مرکوز کررہی ہے۔
ملک کے شمالی اور مشرقی علاقے میں زیادہ سے زیادہ پارلیمانی حلقوں میں جیت درج کرکے بی جےپی جنوبی ہند میں ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے کرناٹک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ کارڈ ناکام ہونے کے باوجود ،وہ شمالی ہندمیں اسے پھر سے استعمال کرنا چاہے گی۔یہ اس کا آزمودہ نسخہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جےپی اور اس کے لیڈرشمالی ہند کے لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر پولرائز کرنے کی حکمت عملی کے تحت اب ایک اور ذریعے سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے تحت شمالی ہند کے لوگوں کو مذہب کی آڑ میں الجھا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں بہار کا دورہ کرنے والے ایک نام نہاد بابا کی پناہ میں پوری بی جےپی جھک رہی تھی۔ کہنے کو تو کتھا کا پروگرام تھا لیکن اس کے بہانے بہار میں سیاسی روٹیاں سینکنے کی بہت کوشش کی گئی۔ ورنہ کیا ضرورت تھی کہ ایک سیاسی پارٹی اتنے زور شور سے کسی مذہبی پروگرام کی نہ صرف سرپرستی کرتی ہے بلکہ اس کے بہانے بہار کی برسراقتدار حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ پہلے لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں کے ممبران اپنے کاموں کے حوالے سے اپنی شبیہ بناتے تھے۔ آج کی سیاست میں بہت سے لیڈر باباؤں کے محتاج ہو گئے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ بابا باگیشور کے بہار میں قیام کے دوران کی صورت حال کو دیکھ کر لگاسکتے ہیں۔ اس دوران کس طرح پوری بی جےپی بابا کے قدموں میں جھک کر اپنے مستقبل کی تلاش میں تھی۔ ایسی ہی حالت بی جےپی کی حکومت والی ریاست مدھیہ پردیش کی ہے، جہاں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں بھوپال ڈویژن میں کتھا کا 500 جگہوں پر اہتمام کیا گیا ہے۔ان میںراجدھانی بھوپال میں 20، اشوک نگر میں 100، راج گڑھ میں 150، گنا میں 70، سیہور میں 80، رائسین میں 50 اور ودیشا میں 20 پروگرام شامل ہیں۔
کرناٹک انتخابات میں ذلت آمیز شکست کے بعد ایک لمحے کے لیے یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ بی جےپی الیکشن میں مذہب کا سہارا لینا چھوڑ دے گی، لیکن بہار کے حالیہ واقعات کو دیکھ کر ایسا سوچنا بالکل بے بنیاد ہوگا۔بابا باگیشور کاکرناٹک کے انتخابی نتائج کے بعدپٹنہ آنا اور مرکزی وزراء گری راج سنگھ، اشونی چوبے، ممبران پارلیمنٹ سشیل مودی، روی شنکر پرساد، منوج تیواری اور بی جے پی کے ریاستی صدر سمراٹ چودھری جیسے لیڈروں کے ذریعے ان کی آوبھگت کرناکئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
لہٰذا اب ملک کو بہت ہی تحمل اور ہوشیاری کے ساتھ ا س بات پردھیان دینا ہو گا کہ ملک روزی روزگار کے مواقع، گھوٹالے اور بدعنوانیپر نکیل، بہتر معیشت اور اپنے باشندوں کی سلامتی کے ساتھ آگے بڑھے گا نہ کہ منافقت اور مذہبی پولرائزیشن سے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل وطن اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کریں اور منافقت اور مذہبی بنیادوں پر کرسی کے خواب دیکھنے والی جماعتوں کے چہروں سے نقاب اتار کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔اس کے لیے ہمیں مذہبی بنیادوں پرپولرائزیشن کےبجائے سیکولر ملک اور آئین میں عقیدت کی شمع کو جلانا ہو گا تاکہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔












