• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 22, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

کیا ہم اپنی سماجی ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 23, 2023
0 0
A A
کیا ہم اپنی سماجی ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟
Share on FacebookShare on Twitter

ہم انسان ہیں ۔ایک انسانی سماج میں رہتے ہیں۔ہمیں شعور و فکر اور عقل و فہم کی دولت عطا کی گئی ہے ۔اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت بخشی گئی ہے ۔اس کے علاوہ ہم میں سے بعض لوگوں کو مزید نعمتوں سے نوازا گیا ہے ۔کسی کو مال و زر کے انبار دیے گئے ہیں ،کسی پر علم کے موتی لنڈھائے گئے ہیں ۔یہ سچ ہے کہ ان نعمتوں کے حصول میں فرد کی ذاتی محنت کو بھی دخل ہے ۔لیکن کیا ہم میں سے کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ آج جو کچھ وہ ہے اس کے بنانے اور یہاں پہنچانے میں کسی اور کاکوئی دخل نہیں ہے ؟کیا ہم نے ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہی لکھنا پڑھنا شروع کردیا تھا ۔بچپن کا وہ زمانہ جو ہماری پیدائش سے لے کر اسکول جانے کی عمر تک تھا ،ہم کتنے مجبور تھے ،کوئی کام بھی خود نہیں کرسکتے تھے ،کھانے پینے سے لے کر پاکی وصفائی حاصل کرنے تک کے لیے ہم دوسروں کے محتاج تھے ۔ماں ،باپ ،بھائی ،بہنیں ،اور گھر کے دیگر افراد نے اگر اس وقت ہماری مدد نہ کی ہوتی تو کیا ہم آج وہاں ہوتے جہاں ہونے پر ہم اِترارہے ہیں ۔اس کے بعد اسکول جانے سے لے کر اپنے پیروں پر کھڑاہونے تک کا سفر ہم نے کتنی بیساکھیوں پر پورا کیا ہے ،کیا اس کا ہمیں احساس ہے ؟باپ کی گاڑھی کمائی کے علاوہ کتنے لوگ ہیں جو ہماری زندگی کی بقا اور اس کو آسان بنانے میں لگے رہے ہیں۔ہمارے ٹیچر جنھوں نے ہمیں پڑھایا ،ہمارے اسکول کا چپراسی اور صفائی کرنے والا جس نے ہماری خدمت کی ،وہ سواریاں اور ان کے چلانے والے جو ہمیں بحفاظت اسکول پہنچاتے اور واپس لاتے رہے ۔اس کے علاوہ بھی درجنوں افراد ہیں جو ہماری زندگی کا حصہ ہیں ۔کیا ہم ان سب کو بھول گئے ۔؟کیا ہم صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جائیں کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنا فرض ادا کیا ہے ۔اگر یہی بات ہے تو ہم پر اس فرض کے عوض جو حق عائد ہوتا ہے کیا اس کا ہمیں کوئی علم اور احساس ہے ؟کیا ہم یہ کہہ کر دل کو مطمئن کرلیں کہ ماں باپ کے علاوہ باقی خدمت گاروں نے پیسے کے عوض یہ خدمت کی ہے ؟ذرا ان لوگوں کی ایک فہرست بنائیے جن لوگوں نے آپ کی خدمت کی ہے ،پھر اس میں سے پیسہ لینے والوں کو الگ کیجیے تو صرف دوچار ہی نام مل پائیں گے ،ایک طویل فہرست ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہم سے بے لوث محبت کی ۔جنھوں نے ہماری کامیابی پر ہماری حوصلہ افزائی کی۔اگر وہ حوصلہ افزائی نہ کرتے تو شاید ہماری کامیابی ٹھہر گئی ہوتی۔درجنوں نہیں سینکڑوں افراد ہیں جو ہماری جیت پر خوش ہوتے تھے ، پہلی بار جب ہم نے چلنا شروع کیا تھا ،ہم لڑکھڑائے تھے تو کئی ہاتھ ہمیں تھامنے کو بڑھے تھے ،کتنی ہی آنکھوں میں ہمارے پائوں چلنے کی خوشی تھی ۔ایک بڑی تعداد ہے ان انسانوں کی جو ہمارے غم زدہ ہونے پر دکھی ہوتے تھے ۔کچھ تو وہ تھے جو ہمارے پائوں میں کانٹا چبھتا ہوا بھی نہیں دیکھ سکتے تھے ۔جب ہم کبھی بیمار ہوئے تو کتنے ایسے تھے جو رات بھر سوئے نہیں ،جب تک ہمیں ہوش نہ آگیا وہ خود اپنے آپ سے بے خبر رہے ۔اس میںہمارے خونی رشتہ دار بھی تھے اور ہمارے احباب بھی ۔
آپ کو کچھ ایسے لوگوں سے شکایت ہوسکتی ہے جنھوں نے آپ کی کامیابی کو ناکامی میں بدلنے کے جتن کیے ہوں گے ۔لیکن ایسے لوگ آپ کی زندگی میں دو چار سے زیادہ نہیں ہیں ۔ورنہ آپ سچے من سے جائزہ لے کر دیکھ لیجیے ۔کیا ہم ان دوچار حاسدوں یا بدخواہوں کی وجہ سے اپنے ہزاروں مخلصین اور سینکڑوں مہربانوں کے حقوق ادا کرنے سے پہلو تہی کرسکتے ہیں ؟ہم میں سے ہر شخص کو یہ جائزہ لینا ہے کہ سماج کا جو قرض ہم پر ہے ،وہ ہم نے کتنا ادا کیا۔بقول حفیظ میرٹھی ؒ:
یہ بھی تو سوچیے کبھی تنہائی میں ذرا
دنیا سے ہم نے کیا لیا ؟دنیا کو کیا دیا؟
میں دیکھتا ہوں کہ ہر کوئی اپنی محرومیوں کی فہرست پر شکوہ بلب ہے۔کسی کو اولاد کے نہ ہونے ،اور کسی کو ہونے کے باوجودناکارہ و نافرمان ہونے کا غم ہے ۔کسی کے پاس مال و زر اس قدر کہ ہردم ای ڈی کا خطرہ اور کوئی دوسرے کے مال کو دیکھ کر غم زدہ ہے ۔ایک وزیر اپنے قلمدان سے ،ایک ٹیچر خود کو ملنے والی سہولیات سے ،ایک ڈاکٹر اپنے کمیشن سے ،ایک انجینئر اپنے موجود وسائل سے مطمئن نہیں ،اور تو اور مسجد کے امام و مولوی مقتدیوں سے،مندروں اور آشرموں کے پنڈت وپجاری اپنے بھکتوں سے خوش نہیں ہیں ۔ایسا اس لیے ہے کہ ہم سب اپنے لیے جی رہے ہیں ۔ہر وقت اپنی مصیبتوں کا رونا روتے ہیں ۔اپنے آرام کی فکر کرتے ہیں ۔آسائش دنیا میں اپنے سے اوپر کی طرف دیکھتے ہیں تو رنج و غم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ھل من مزید کی کیفیت ہمارے اضطراب کو بڑھادیتی ہے۔اسی لیے معلم انسانیت ؐ نے فرمایا تھا کہ :’’اس شخص کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہے ،اس شخص کی طرف مت دیکھو جو تم سے اوپر ہے ،یہ زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ جانو جو تم پرہے‘‘(متفق علیہ) ۔
ملت کی پسماندگی پر ہر کوئی ماتم کناں ہے ۔ہر شخص اپنے سوا دوسرے کی طرف انگلی اٹھا رہا ہے ۔مسجد کے ائمہ ہر جمعہ کو کھری کھوٹی سناتے ہیں ،ملی ،مذہبی و سماجی تنظیمیں سمپوزیم و سمینار کرتی ہیں ،قلم کار و صحافی احوال واقعی کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرکے آئینہ دکھاتے ہیں ،حکومت کے ادارے ہر سال اعداد و شمار پیش کرکے ذلیل کرتے ہیں ،آخر ان سب کا حاصل کیا ہے ؟ہم ہر دن پسماندگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔جب کہ چندہ پر منحصر اداروں کے چندے میں اضافہ ہورہا ہے۔سرکاری ملازمین کے مشاہرے بڑھ رہے ہیں ۔گلی گلی میںلیڈر پیدا ہورہے ہیں ،جس کا اندازہ قارئین کو ہر انتخاب کے وقت ہوتا ہے،جب ایک عہدے کے لیے پانچ چھ لوگ نامزدگی کراتے ہیں۔اس کے باوجود بھارت میںسرورکائناتؐ کی امت کی حالت افسوسناک ہے ۔اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ ہم درد پر تبصرے کرتے ہیں ،مرہم نہیں لگاتے ۔بلکہ کسی مسیح موعود کا انتظار کررہے ہیں ۔حالانکہ جب تک وہ آئے گا ہم جاچکے ہوں گے ۔
ہم میں سے جو لوگ سول سوسائٹی کے زمرے میں آتے ہیں ،ان پر سماجی ذمہ داریاں زیادہ عائد ہوتی ہیں ۔اس فہرست میں اساتذہ ، معلمین،ڈاکٹر س،وکلاء،انجینئرس ،علماء،قلم کار، صحافی،تاجر،ججز حضرات،وغیرہ شامل ہیں ۔آخر الذکر یعنی ججز کو چھوڑ دیجیے کہ ہمارے معاشرے میں ان کی تعداد نہیں ہونے کے برابر ہے ۔لیکن باقی لوگوں کی تعداد تو خاطر خواہ ہے ۔
ہمارے درمیان سب سے زیادہ تعداد اساتذہ کی ہے ۔ناخواندگی کی ضرر رسانی ان پر اظہر من الشمس ہے ۔ان کے پاس وقت کی بھی کوئی کمی نہیں ،اس لیے کہ تقریباً سو سے زائد چھٹیاں ہیں ،پھر کام کے اوقات بھی پانچ یا چھ گھنٹہ ہیں ۔پرائیوٹ اساتذہ کے مقابلے ،سرکاری اساتذہ کو معقول مشاہرہ ملتا ہے ۔اگریہ لوگ اپنے محلہ و بستی سے ناخواندگی دور کرنا چاہیں تو کون روک سکتا ہے ،کمزور بچوں کی رہنمائی میں کیا چیز مانع ہے ؟ڈراپ آئوٹس کو اسکول میںداخلہ کرانے ،ان کو سرکاری مراعات دلوانے میں کیا چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ۔لیکن افسوس ان کی جانب سے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جاتا جو ملت یا قوم کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں معاون ہو۔اسی پر آپ ائمہ مساجد اور مدارس کے معلمین کو محمول کرسکتے ہیں۔ایک امام اپنے مقتدیوں کی جہالت دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا ،مدارس کے پاس اپنے گردو پیش کی ناخواندگی کو خواندگی میں اور لاشعوری کو شعور میں بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ڈاکٹرس کوسماج عزت کی نظر سے دیکھتا ہے۔غم کے ماروں سے ان کا واسطہ ہے۔ان کے پاس وقت و وسائل کی کوئی کمی نہیں۔یہ لوگوں کو صحت اور تعلیم کے لیے بیدار کرسکتے ہیں ۔اگر یہ چاہیں تو دس سے بیس لوگوں کی مالی مدد یا ٹیکنکل رہنمائی کرکے مسائل حل کرسکتے ہیں۔آج کل میڈیکل کے شعبہ میں زبردست کرپشن ہے ،غیر ضروری جانچ کے نام پر پیسہ کمایا جارہا ہے ۔نقلی دوائیں دے کر مریضوں کی زندگی سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ،اگر ہم ملت کی پسماندگی پر تبصرہ کرنے کے بجائے کرپشن سے خود بھی بچیں اور عوام کو بھی بچالیں تو سماجی قرض ادا کیا جاسکتا ہے ۔مریض سے ہمدردی و خیر خواہی ،کم سے کم خرچ میں علاج ،میٹھے دو بول مریض اور تیمار داروں کو حوصلہ دے سکتے ہیں۔ یہ عمل بلا تفریق ہو تو اہل وطن پر اخلاقی برتری بھی ثابت کی جاسکتی ہے ۔
اسی طرح سول سوسائٹی کے دیگر ذمہ داران ہیں ،وکلاء دس فیصد مقدمات مالی حالت سے کمزور بے گناہوں کے لڑ سکتے ہیں ،آرٹی آئی کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری مشینری کو متحرک و فعال کرسکتے ہیں ۔سرکاری اسکیموں سے واقفیت حاصل کرکے مستحقین کو مستفید کرسکتے ہیں۔صحافی اگر قلم کا سودا نہ کرے تو حکومت او ر عوام کے درمیان مسائل حل کرنے میں کلیدی رول ادا کرسکتا ہے ۔تاجر ذخیرہ اندوزی ،منافع خوری ،اشیاء کی مصنوعی قلت،کم تولنے اور کم ناپنے سے خود کو باز رکھیں تو سماج پر بڑا احسان کرسکتے ہیں۔اپنی تجارت میں غریبوں کا شیئر ڈال کر مفلسی کے ازالہ میں معاون و مدد گار ہوسکتے ہیں، سماج کے باقی لوگ جو کچھ جانتے ہیں اگر دس بیس لوگوں تک وہ معلومات پہنچا دیں تو نمایا ں تبدیلی واقع ہوسکتی ہے ۔لیکن افسوس ہمارے تو ریٹائرڈ اور پینشن یافتہ افراد کے پاس بھی سماج کے لیے وقت نہیں ہے وہ بھی مرتے دم تک دو پیسے مزید کمانے کے چکر میں رہتے ہیں ۔کاش ہم اپنے وجود کے بقا میں سماج کی خدمات کا ادارک کرتے ہوئے اپنے حصے کا کام کرجاتے !

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist