لکھنؤ: یوگی آدتیہ ناتھ حکومت جلد ہی یوپی میں غیر قانونی طور پر چل رہے مدارس پر اپنا شکنجہ کستی نظر آئے گی۔ اس کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ریاست میں چار ہزار سے زیادہ غیر تسلیم شدہ مدارس حکومت کی قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ان مدارس میں بیرون ملک سے فنڈنگ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام یہ بھی ہے کہ ان مدارس میں پڑھنے والے طلباء قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ ذرائع سے ملی خبر کے مطابق مدرسہ بورڈ کے امتحانات کے بعد یوگی حکومت کی بڑی کارروائی دیکھی جا سکتی ہے۔واضح ہو کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے گزشتہ سال ریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کیا تھا۔ اس میں مدارس سے متعلق تمام نکات پر معلومات اکٹھی کی گئیں، تاکہ یہاں زیر تعلیم طلباء کو جدید تعلیم سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ انہیں بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اس کے ساتھ سروے میں ایک اہم نکتہ مدارس کی آمدنی کے ذرائع سے متعلق بھی تھا ااور یہی اصل سوال بھی تھا ۔کیونکہ ایک طویل عرصے سے شرپسند عناصر یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ مدارس میں دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور اس کے لئے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں مدارس کو فنڈ فراہم کرتی ہیں ۔سروے کا مقصد اس بات کا پتہ لگانا بھی تھا ۔بتایا جا رہا ہے کہ سروے میں 8441 مدارس غیر قانونی طور پر چل رہے ہیں ابھی ان کی شناخت چھپائی جا رہی ہے ۔لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مدارس کی ایک بڑی تعداد یوپی نیپال سرحد کے قریب واقع اضلاع میں پائی گئی۔ ان میں سدھارتھ نگر میں ایسے 500 سے زیادہ مدارس پائے گئے۔ بلرام پور، بہرائچ اور شراوستی میں 400 سے زیادہ مدارس پائے گئے۔ جبکہ لکھیم پور کھیری میں 200 اور مہاراج گنج میں 60 غیر قانونی مدرسوں کی تعداد بتائی جا رہی ہے ۔ساتھ ہی دیگر سرحدی اضلاع میں بھی کئی مدارس کی پہچان کی گئی ہے ۔ سروے کے دوران ان میں سے زیادہ تر ذمہ داران مدارس نے اپنے تعلیمی ادارے عطیات اور زکوٰۃ کے ذریعے چلانے کی بات کی اور تحقیقات کے دوران چار ہزار سے زائد مدارس میں غیر ملکی فنڈنگ کے شواہد بھی ملے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مدرسہ چلانے والوں نے ممبئی، چنئی، کولکتہ، دہلی، حیدرآباد اور ملک کے دیگر شہروں سے فنڈ حاصل کرنے کی بات کی لیکن کسی نے بھی غیر ملک سے آنے والے فنڈ کی بات نہیں کی ۔ تاہم حقیقت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان شہروں کے ذریعے سعودی عرب اور دیگر ممالک سے پیسہ آرہا ہے۔لیکن ذمہ داران مدارس غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق دستاویزات فراہم نہیں کر سکے۔ذمہ دار افسران کھل کر کچھ نہیں بتا رہے ہیں لیکن، کہا جا رہا ہے کہ بیرون ملک سے فنڈنگ میں بہت سی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ اس کے مقصد پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ زیادہ تر فنڈنگ دبئی سے بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نیپال اور بنگلہ دیش سے بھی ان مدارس میں رقم بھیجنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ بہت سے مدارس چلانے والے اس عطیات کے صحیح دستاویزات بھی فراہم نہیں کر سکے۔ اب غیر قانونی طور پر چندہ وصول کرنے والے مدارس حکومت کی قانونی کارروائی کے دائرے میں آئیں گے۔ اس کے بعد ان کی گہرائی سے چھان بین کی جائے گی۔دوسری جانب ریاستی حکومت معیار پر پورا اترنے والے مدارس کو سرٹیفیکٹ دے گی، تاکہ یہاں کے بچوں کو جدید سہولیات میسر آسکیں۔ کارروائی کے دائرے میں صرف وہ مدارس آئیں گے جو غیر قانونی طور پر چل رہے ہیں یا جنہیں جنہیں غیر ملکی فنڈنگ حاصل ہے۔ریاست کے اقلیتی بہبود کے وزیر دھرم پال سنگھ کے مطابق یوگی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے اسکولوں کے بچوں کی طرح اقلیتی طبقے کے طلباء بھی اچھے ماحول میں بہتر تعلیم حاصل کریں۔ حکومت انہیں جدید تعلیم دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے انہیں کمپیوٹر کی تعلیم سے جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم ریاست کے کئی مدارس کو اب بھی بیرون ملک سے فنڈنگ ملتی ہے۔اقلیتی بچوں کی غربت کا فائدہ اٹھا کر لوگ انہیں باہر لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔ اس معاملے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ محکمہ پولیس کے اعلی حکام سے بات کرنے پر انہوں نے نے نہ تو اس خبر کی اور تردید کی اور نہ ہی تصدیق کی ۔لہذا یہ اس قیاس میں سچائی لگتی ہے کہ مدرسہ بورڈ کے امتحان کے بعد قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایسے مدارس کے خلاف شکنجہ کسا جائے گا۔












