پٹنہ ،23مئی ، پریس ریلیز؍ہماراسماج :حسب روایت امسال بھی جامعہ امام ابن تیمیہ کی عالیشان مسجد میں ندوۃ الطلبہ والطالبات کے زیر اہتمام افتتاحی پروگرام منعقد ہوا، جس میں تمام طلبہ واساتذہ کرام نے شرکت کی۔پروگرام کا انعقاد طالب علم سیف الرحمن محمد اسلم کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ سحبان صلاح الدین (طالب ثالثہ فضیلہ) نے نعت نبی پڑھا۔ندوۃ الطلبہ والطالبات کے سال گزشتہ کی کارکردگی طالب علم محفوظ الرحمن ایجاب الحق(سابق ناظم ندوۃ) نے بڑی تفصیل سے پیش کی، جس میں ان تمام ثقافتی پروگراموں کا تذکرہ کیا جو گزشتہ سال ندوۃ الطلبہ والطالبات کے زیر اہتمام منعقد ہوئے۔ ساتھ ہی موصوف نے ندوۃ الطلبہ والطالبات کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔نئے تعلیمی سال کی مناسبت سے چند اساتذہ کرام نے قدیم وجدید طلبہ کو پند ونصائح سے بھی نوازا جس کی شروعات شیخ محمد ہاشم بشیر تیمی مدنی سے ہوئی۔ انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں طلبہ کو اخلاص اور محنت سے تعلیم حاصل کرنے، اور وقت سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ندوۃ کے کاز میں بڑھ چڑھ کر تعاون کرنے اور اس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے پروگراموں میں پوری تیاری کے ساتھ حصہ لینے کی تاکید کی۔ شیخ آصف تنویر تیمی بھی طلبہ سے مخاطب ہوئے اور اپنے خطاب میں تعلیم وتبلیغ اور علم کے مطابق عمل پر ابھارا۔ تعلیم ودعوت سے متعلق چند قرآنی آیات اور حدیثیں بھی پیش کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ندوہ الطلبہ جیسے فعال اور حساس شعبہ سے استفادے کے طریقوں کوبھی طلبہ کے سامنے اجاگر کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے بتلایا کہ اس پلیٹ فارم سے طلبہ خطابت وصحافت کے ہنر سے واقعیت حاصل کرسکتے ہیں۔ مطالعے کو جلا بخشنے کے لئے دار الکتب اور دار الاخبار سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ملک اور بیرون ملک سے جو رسائل وجرائد طلبہ کی لائبریری میں آتے ہیں ان کا مطالعہ کرنا زبان وبیان میں نکھار کا باعث ہوتا ہے۔ اساتذہ اور مرکزی لائبریری سے بھی مستفید ہونے کی تاکید کرتے ہوئے موصوف نے جامعہ کے ان ہونہار فارغین کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ماضی میں ندوہ کی پلیٹ فارم سے استفادہ کیا اور میدان علم وعمل میں اپنا نام پیدا کیا۔جامعہ کے قدیم اور سینئر استاد شیخ شکیل احمد اثری نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہیں قلم وقرطاس سے وابستہ رہنے، اور جامعہ کے مابہ الامتیاز صحافت کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بتلایا کہ تقریر سے کہیں زیادہ تحریر کو بقا اور دوام حاصل ہوتا ہے۔ تحریر نے علم کو زندگی عطا کی ہے۔ تحریر ہی کی بدولت اسلاف کا علم ہم تک منتقل ہوا ہے۔ اگرتحریر نہیں ہوتی تو ہم اپنے اسلاف کی بیش قیمت تحقیقات سے روشناس نہیں ہوپاتے۔ مدارس وجامعات کے طلبہ میں بڑھتی عملی کوتاہی کی طرف بھی انہوں نے اشارہ کیا، اور واضح طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ تقریر وتحریر سے کہیں زیادہ اہمیت انسان کے کردار واخلاق کو حاصل ہے۔واضح رہے کہ امسال شیخ شکیل احمد اثری کو شعبہ صحافت کا صدر بنایا گیا ہے۔ شیخ نے ماضی میں بھی طلبہ جامعہ کے قلمی صلاحیتوں کو بال وپر عطاکرنے میں بڑی محنت صرف کی ہے۔شیخ نور الاسلام مدنی حفظہ اللہ نے بھی مجلس کی مناسبت سے تعلیم کے حصول پر زور دیا۔ محنت اور جانفشانی سے طلبہ کو علم حاصل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ بلا محنت کے علم کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ جن لوگوں نے بھی علمی میدان میں اپنا نام پیدا کیا ہے ان کی زندگی یقین محکم او رعمل پیہم سے عبارت ہے۔ ساتھ ہی شیخ نے ندوۃ الطلبہ کی اہمیت وافادیت کو بھی طلبہ کے سامنے رکھا اور پورے ذوق وشوق کے ساتھ اس کا حصہ بننے کی نصیحت کی۔شیخ ابو القیس عبد العزیز مدنی حفظہ اللہ نے اپنے توجیہی خطاب میں طلبہ کو علم کے ساتھ عبادت پر توجہ دینے کی تاکید کی، اور اس حقیقت سے واقف کرایا کہ تمام انسانوں او رجناتوں کی پیدائش ہی عبادت الہی کے لئے ہوئی ہے۔ اور صحیح عبادت کا تصور بلا علم کے ممکن نہیں ہے۔ اس لئے تمام لوگوں کو علم کی طرف توجہ دینے چاہئے۔ ساتھ ہی شیخ محترم نے طلبہ کو جامعہ کے جملہ اصول ونظام کی پاسداری کرنے کی تاکید کی، اور یہ ہدایت دی کہ اگر جامعی زندگی میں کہیں آپ کو دشواری کا سامنا ہوتو فورا اپنی پریشانی کو متعلق ذمہ دار تک پہنچائیں، کوئی ایسا اقدام ہرگز نہ اٹھائیں جس سے آپ کی جامعہ کی شبیہ خراب ہو۔پروگرام کے اخیر میں مجلس کے صدر جناب ڈاکٹر محمد ارشد مدنی حفظہ اللہ نے پرمغز خطاب کیا۔ موصوف نے سب سے پہلے اپنی طرف، رئیس جامعہ جناب ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ، لجنہ اداریہ اور لجنہ تعلیمیہ کے جملہ موقر ممبران کی طرف سے جدید طلبہ کو خوش آمدید کہا، انہیں جامعہ کے حسن انتخاب پر مبارک باد پیش کی، اور ان کے لئے دعا بھی فرمائی۔اور بتلایا کہ اللہ کے رسول بھی طالبعلموں کا استقبال کرتے اور انہیں مرحبا کہا کرتے تھے۔صدر موصوف نے میدان علم کو مبارک ترین میدان قرار دیتے ہوئے، علم کی راہ میں جتن کرنے، تکالیف کو انگیز کرنے، کلاسوں کی پابندی برتنے اور جامعہ کی عظیم لائبریری سے بھرپور استفادہ کرنے کی نصیحت کی۔اپنے خطاب میں سب سے زیادہ زور کردار سازی اور عبادت گزاری پر دی، اور اس بات کو صاف طور پر کہا کہ آج کے طلبہ کتابوں میں تو خوب محنت کرتے ہیں مگر عبادت،اخلاق اور کردار کے معاملے میں کافی متساہل ہوتے ہیں، جبکہ علم کا ثمرہ ہی عمل ہے۔ طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی نصیحت کی کہ پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کریں، طلبہ کی اصلاح اساتذہ کی اصلاح میں مضمر ہے۔ جب تک اساتذہ عمل میں پیش پیش نہیں ہوں گے اس وقت تک طلبہ کے اخلاق وعمل میں اصلاح ممکن نہیں ہے۔افتتاحی اجلاس کی مناسبت سے ہاسٹل نگراں اور ان اساتذہ اور طلبہ کے ناموں کا اعلان کیا گیا جو جامعہ کی مسجد میں امامت اور اذان کی ذمہ داری ادا کریں گے۔ اپنے خطاب کے آخری حصہ میں صدر موصوف نے رئاسۃ الجامعہ کی طرف سے نامزد ندوۃ الطلبہ کے ذمہ داران کے ناموں کے اعلان کیا،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:صدر ندوۃ الطلبہ: شیخ محمد ہاشم بشیر مدنینائبہ رئیس ندوۃ الطالبات: نرگس ریاض تیمینائب صدر ندوۃ: شیخ عامر سہیل تیمیصدر شعبہ صحافت: شیخ شکیل احمد اثریناظم ندوۃ الطلبہ والطالبات: نظام الدین(ثانیہ فضیلہ)نائب ناظم ندوۃ: انظر ابو طالب(اولی فضیلہ)ناظمہ ندوۃ الطالبات: شمیمہ داروغہ (ثانیہ فضیلہ)نائبہ ناظمہ ندوۃ الطالبات: سمیہ قمر الہدی(اولی فضیلہ)شیخ محترم نے اس موقع سے کھلے طور پر کہا کہ عہدے او رمناصب امانت ہیں، اس میں ادنی قسم کی کوتاہی درست نہیں، ذمہ داری قبول کرنے کے بعد اگر کوئی اس کو ٹھیک سے ادا نہیں کرے تو عند الناس سے قبل عند اللہ جواب دہ ہونا پڑے گا، کتاب وسنت میں جا بجا امانت میں خیانت او ربدعہدی سے منع کیا گیا ہے، اس لئے جن اساتذہ اور طلبہ کے ذمہ علم وعمل سے متعلق جو کام دیاگیا ہے وہ پوری امانت داری سے اس کو ادا کرنے کی کوشش کریں، ان شاء اللہ ذمہ داران جامعہ کا تعاون قدم قدم پر حاصل ہوگا۔












