سید مجاہد حسین
نئی دہلی ; دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے آج اپنی مغربی بنگال کی ہم منصب ممتا بنرجی سے ملاقات کی ۔ان کے ہمراہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان بھی موجود تھے ۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری آف دہلی (ترمیمی) آرڈیننس، 2023 کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کے مقصد سے ملک بھر کے دورے پر ہیں۔آج مغربی بنگال میں کجریوال کے ساتھ میٹنگ کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ راجیہ سبھا میں آرڈیننس کی مخالفت کریں۔ممتا بنرجی نے کہا کہ آرڈیننس نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کا ایک ’بڑا ‘موقع فراہم کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی چیرپرسن نے کہا کہ اگر اپوزیشن آرڈیننس کو روک سکتا ہے تو اس سے لوگوں کو ایک مضبوط پیغام جائے گا۔اپنی پارٹی کی طرف سے ہم نے راجیہ سبھا میں آرڈیننس کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دہلی حکومت کے ملازمین دہلی حکومت کے ماتحت ہیں، محترمہ بنرجی نے کہا کہ اس طرح کے آرڈیننس ملک کے لیے خطرناک ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ملک کا نام بدل کر اپنی پارٹی کے نام پر رکھ لیں گے۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ آئین کو تبدیل کر دیں گے، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے مسٹر کجریوال اور پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان سمیت عام آدمی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ سپریم کورٹ کا یہ حکم کہ دہلی حکومت قومی راجدھانی میں قانون بنا سکتی ہے اور سول سروسز کا نظم کر سکتی ہے، آٹھ سال کی طویل لڑائی کے بعد آیا تھا اور بی جے پی حکومت نے اسے آٹھ دنوں میں پلٹ دیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے۔ اے اے پی کے قومی کنوینر نے کہا کہ تین طریقے ہیں جن سے بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کی منتخب حکومت کو پریشان کرنے کی کوشش کر رہی ہیں یا تو ایم ایل اے خرید کر، یا مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کو استعمال کرکے اور تیسرا گورنرز اور آرڈیننس کا استعمال کرکے۔انہوںنے کہا کہ یہ میری اکیلے کی لڑائی نہیں ہے۔ یہ 140 کروڑ لوگوں کی لڑائی ہے۔ یہ بی جے پی کے غرور کے خلاف لڑائی ہے کہ اگر لوگ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے تو وہ اپوزیشن کی حکومت کو کام نہیں کرنے دیں گے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مغربی بنگال اور پنجاب جیسی کئی ریاستوں میں گورنر ریاستی حکومتوں کے کام کاج میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کجریوال نے مغربی بنگال روانگی سے قبل ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ،’’آج سے میں پورے ملک میں جا رہا ہوں۔ دہلی کے لوگوں کے حقوق کیلئے۔ سپریم کورٹ نے کئی سالوں کے بعد حکم جاری کیا اور دہلی کے لوگوں کو ان کا حق دلاتے ہوئے انصاف کیا۔ مرکزی حکومت نے آرڈیننس لا کر وہ تمام حقوق چھین لیے۔ جب یہ قانون راجیہ سبھا میں آئے گا تو اسے کسی بھی حالت میں پاس نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے صدور سے ملاقات کریں گے اور ان کی حمایت حاصل کریں گے‘‘۔
مسٹر کیجریوال نے کہا کہ’’ پولیس نے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے ساتھ بدسلوکی معاملہ پر کہا کہ دہلی کی عدالت میں پیش کرتے وقت ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ۔’’یہ نائب وزیر اعلی کے ساتھ سلوک کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ وہ ایک ملزم ہیں مجرم نہیں‘‘۔دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا۔ سی بی آئی نے اس سال کے شروع میں مسٹر سسودیا کو دہلی کی ایکسائز پالیسی کی تشکیل اور اس کے نفاذ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ محترمہ بنرجی نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ ابھیشیک بنرجی کو سمن سونپنے آئے تھے وہ بھی صبح 2.30بجے آئے اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کی۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ سے ملنے سے پہلے دہلی کے وزیر اعلیٰ نے 19 مئی کو مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے قومی دارالحکومت علاقہ دہلی (ترمیمی) آرڈیننس 2023 پر پٹنہ میں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سے ملاقات کر چکے ہیں۔ نتیش نے اس معاملے میں مرکز کے ساتھ لڑائی میں’آپ ‘ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ کجریوال بدھ کو ممبئی میں شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما شرد پوار سے بھی مل سکتے ہیں۔ اس میٹنگ سے پہلے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور جنتا دل (سیکولر) کے رہنما ایچ ڈی۔ کمارسوامی نے ریاستی سکریٹریٹ میں محترمہ بنرجی سے ملاقات کی تھی اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے اپوزیشن کے اتحاد کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔یاد رہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے 11 مئی کو اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ دہلی حکومت قومی دارالحکومت میں قانون بنا سکتی ہے اور سول سروسز کا نظم کر سکتی ہے۔












