نئی دہلی 27مئی :نیتی آیوگ کے گورننگ کونسل کی آٹھویں میٹنگ ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں دہلی کے پرگتی میدان میں نئے کنونشن سینٹر میں شروع ہوئی۔ اس میں صحت، اسکل ڈیولپمنٹ، خواتین کو بااختیار بنانے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت کئی مسائل پر بات کی جائے گی جس کا مقصد ہندوستان کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے علاوہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، وزیر تجارت پیوش گوئل، اتر پردیش، آسام، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ میٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم آٹھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ ان میں راجستھان کے اشوک گہلوت، دہلی کے اروند کیجریوال، پنجاب کے بھگونت مان، مغربی بنگال کی ممتا بنرجی، بہار کے نتیش کمار، کے چندر شیکھر راؤ، تمل ناڈو کے ایم کے اسٹالن اور کیرالہ کے پنار ئی وجین شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ نیتی آیوگ کا قیام یکم جنوری 2015 کو پلاننگ کمیشن کی جگہ پر کیا گیا تھا۔ گورننگ کونسل کی میٹنگ میں عام طور پر تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیفٹیننٹ گورنرز اور مرکزی وزراء بطور ممبران، نائب چیئرمین اور نیتی آیوگ کے اراکین شرکت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نیتی آیوگ کے اعزازی چیئر مین ہیں۔نیتی آیوگ کی اس میٹنگ میں آٹھ ریاستوں کے وزرائے اعلی کی عدم شرکت کو بی جے پی بدقسمتی، غیر ذمہ دارانہ اور عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اپوزیشن جماعتیں آئینی اداروں کی بے عزتی کرتی ہیں۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے آج یہاں پارٹی کے مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آج نیتی آیوگ کی میٹنگ میں آٹھ وزرائے اعلیٰ نے شرکت نہیں کی۔ نیتی آیوگ ملک کی ترقی اور منصوبوں کے لیے بہت اہم ہے۔ اس میٹنگ کے لیے 100 معاملات طے کیے گئے ہیں، اب جو وزیر اعلیٰ نہیں آئے، وہ اپنی ریاست کے لوگوں کی آواز کو یہاں نہیں لا رہے ہیں۔ ان سے سوال یہ ہے کہ وہ مودی کی مخالفت میں کہاں تک جائیں گے؟
پرساد نے کہا کہ بی جے پی پر اداروں کا احترام نہ کرنے کا الزام ہے، لیکن اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں نیتی آیوگ جیسے اداروں کا کتنا احترام کرتی ہیں۔ یہ لوگ سپریم کورٹ پر تبصرہ کرتے ہیں، الیکشن کمیشن پر تبصرہ کرتے ہیں۔ یعنی اگر ان کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو وہ سب پر تنقید کریں گے۔ کیا یہ اداروں کا احترام اسی طرح کیا جاتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے نئی پارلیمنٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کا بائیکاٹ کیا اور اب افتتاح کا بائیکاٹ کیا ہے۔ آخر 2026 تک ارکان پارلیمنٹ کی تعداد میں اضافہ ہونا ہے۔ پھر ان کے لیے نئی پارلیمنٹ کی ضرورت بہت پہلے سے ظاہر کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دراصل وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے تئیں ان کی ناراضگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ ریاستوں کی فعال شراکت کے ساتھ قومی ترقی کی ترجیحات، شعبوں اور حکمت عملیوں کا مشترکہ وژن تیار کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ یہ پورے ملک کی ترقی کے لیے مجموعی پالیسی فریم ورک اور روڈ میپ کا تعین کرنے کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 8ویں گورننگ کونسل کے اجلاس میں 100 مسائل پر بحث کی تجویز ہے اور ایسے میں اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ کا بائیکاٹ افسوسناک ہے۔ ان کے اس تقریب کے بائیکاٹ کرنے کّا مطلب ہے کہ وہ اپنی ریاستوں کے لوگوں کی آواز یہاں تک نہیں پہنچانا چاہتے ۔
پرساد نے کہا، ‘گورننگ کونسل میں اہم بات چیت ہوتی ہے، اہم فیصلے لیے جاتے ہیں اور پھر ان فیصلوں کو زمین پر لاگو کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ وزرائے اعلی کیوں نہیں آرہے؟ یہ وزیر اعلیٰ اپنی ریاست کے لوگوں کو کیوں نقصان پہنچا رہا ہے؟ یہ سب انتہائی افسوس ناک، غیر ذمہ دارانہ، عوام دشمن ہے۔












