صادق شروانی
نئی دہلی، 30 مئی ، سماج نیوزسروس: کرناٹک میں کامیابی کے بعد دہلی کانگر یس بھی کسی کے آگے جھکنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ شاید اسی لئے گزشتہ روز کانگریس لیڈران کی میٹنگ میں فیصلہ کیاگیا کہ وہ عام آدمی پارٹی کی حمایت نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ دہلی میں افسران کے تبادلے کے خلاف مرکزی حکومت کے آرڈیننس پر ریاستی کانگریس کے لیڈرا حمایت کا فیصلہ کانگریس کے قومی صدر ملک ارجن کھڑگے پر چھوڑ دیا ہے۔ میٹنگ میں کانگریس کے لیڈران نے مرکز کے آڈیننس کے خلاف آپ کو حمایت نہیں کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔کانگریس لیڈران کا الزام ہے کہ بدعنوانی کے معاملے میں ملوث ہونے پر عام آدمی پارٹی کے لیڈران ملک کے ان لیڈران سے ملاقات کررہے ہیں جن سے پہلے کافی دوری تھی کانگریس کے لیڈران کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کو بھی خارج کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ کبھی بھی پالا بدلنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس لیڈران نے فیصلہ اعلی کمان پر چھوڑ دیا ہے۔ کانگریس لیڈران کی میٹنگ میں ریاستی کانگریس کے انچارج شکتی سنگھ گوہل ریاستی کانگریس صدر چودھری انل کمار، سابق ریاستی صدر جے پرکاش اگروال،اروندر سنگھ لولی، سبھاش چوپڑا،اجے ماکن ،سابق وزیر ہارون یوسف، اور دیوندر یادو موجود تھے۔ پارٹی کےینظییمی سکریٹری کے سی وینوگوپال کے ساتھ اس موقع پر راہل گاندھی بھی موجود تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ چلی اس میٹنگ میں لوک سبھا انتخابات 2024کےلئے عام آدمی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے درمیان اتحاد پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ایسا پارٹی لیڈران نے دعوی کیا ہے۔ لیکن آرڈیننس کے ایشو پر جس طرح کانگریس لیڈران عام آدمی پارٹی کےخلاف نظرآئے اوران کی زبان عام آدمی پارٹی کے خلاف بتاتی ہے کہ اتحاد کا کوئی موقع نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مستقبل میں الیکشن کے دوران کوئی اتحاد ہوسکتا ہے۔ اس کی امید کم ہی نظر آرہی ہے۔
حالانکہ ان سب کے باوجود پارٹی اعلی کمان کے فیصلے پر منحصر ہوگا کہ تمام لیڈران کا کہنا ہے کہ پارٹی کی قیادت کا فیصلہ سبھی کو تسلیم ہوگا۔ لیڈران کا عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کے معاملے میں کہنا تھا کہ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اوروزیراعلیٰ اروند کجریوال پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے کیوںکہ وہ موقع ملنے پر کسی کوبھی نقصان پہنچانے سے پرہیز نہیں کرتے۔ ایک لیڈر نے یہاں تک دعوی کیا کہ آرڈیننس کے خلاف یا حمایت کئے بغیر یہ ممکن نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت کیسی کی جائے گی۔ جب دہلی میں کانگریس کی حکومت تھی اس وقت بھی اسمبلی میں کئی مرتبہ دہلی حکومت کے حقوق میں اضافہ کرنے کا مدا اٹھایاگیا تھا دوسرے لیڈر نے کہا کہ جب مرکز میںاین ڈی اے کی حکومت تھی اس وقت بھی کانگریس نے اسی معاملے پر مارچ نکال کر اپنا اعتراض جتایا تھا آج ایک مرتبہ پھر سے جب دہلی کے اختیارات کا معاملہ ہے تو کیا کانگریس کو اس معاملے پر مرکز کی مخالفت کرنی چاہئے یا نہیں اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن ریاستی کانگریس کمیٹی نے صاف کردیا ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی کوحمایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کارپوریشن الیکشن میں کانگریس کا کہا جانے والا اقلیتی ووٹ کانگریس میں واپس آگیا ہے اور تقریباً تمام مسلم حلقوںمیں عام آدمی پارٹی کوشکست ہوئی ہے۔












