• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 22, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

بھارت کے مسلمان تاریخ کی روشنی میں اپنا احتساب کریں

اپنی تاریخ سے عدم واقفیت احساس کمتری میں مبتلا کرتی ہے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 31, 2023
0 0
A A
بھارت کے مسلمان تاریخ کی روشنی میں اپنا احتساب کریں
Share on FacebookShare on Twitter

اس وقت بھارتی مسلمان جن مسائل سے نبرد آزما ہیں ،اس کا ایک بڑا سبب اپنے آپ کو نہ پہچاننا ہے ۔خود سے عدم واقفیت کی وجہ سے انسان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کرپاتا ،نہ ٹھیک سے اپنا دفاع کرپاتا ہے ۔بلکہ دوسروں سے مرعوب ہوجاتا ہے ۔اس ضمن میں خاص طور پر مسلمانوں کو اپنی تاریخ اور دین کے بارے میں صحیح اور درست معلومات کا نہ ہونا ہے ۔آپ ایسی مجلس میںجہاں چار چھ مسلمان اور ایک دو دوسرے مذہب کے ماننے والے پڑھے لکھے ہوں اور بات دین و مذہب کی ہورہی ہو تو مسلمانوں کو مایوسی اور شرمندگی کی کیفیت میں پائیں گے ،خواتین پر مظالم ،جانوروں کا ذبح کرنا ،ہر جگہ قتل و غارت گری ،مسلمانوں کی بے رحمی و سفاکی ،جیسے موضوعات پر ہم منہ کی کھاکر چپ ہوجاتے ہیں ،خود کو کم تر اوربرا سمجھنے لگتے ہیں ،نئی نسل کے بعض نوجوان اس وجہ سے بے دین ہوجاتے ہیں یا خود بھی دوسروں کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں ۔
ایک بار میں ٹرین میں سفر کررہا تھا ۔میرے ہاتھ میں چند کتابیں تھیں ،کچھ دیر بعد آس پاس کے مسافروں نے بات شروع کی اور بولے ،ہر جگہ مسلمان لڑ رہے ہیں ،فلسطین میں یہودیوں سے ،کشمیر میں بھارتی فوج سے ،افغانستان میں امریکی فوج سے ،وغیرہ وغیرہ ،انھوں نے سوال کیا کہ یہ مسلمان ہر دھرم والوں سے کیوں لڑ رہے ہیں ؟میں نے عرض کیا کہ دیکھنے کا ایک چشمہ وہ ہے جس سے آپ دیکھ رہے ہیں ،جس میں آپ کو لگ رہا ہے کہ ہر جگہ مسلمان دوسروں سے لڑ رہے ہیں ،جبکہ ایک چشمہ میرا ہے جس میں ہر جگہ مسلمانوں سے لوگ لڑ رہے ہیں ،انھیں کہیں چین اور سکون سے رہنے دینا نہیں چاہتے ۔میں نے کہا کہ آپ کو یہ دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ ایک آدمی کو پانچ آدمی ماررہے ہیں ۔مسلمان مظلوم ہیں ،وہ ہر جگہ ظالموں سے نبرد آزما ہیں ۔حق و باطل کی کشمکش ازل سے ہے ابد تک رہے گی ۔دیکھنا یہ ہے کہ آپ کیوں لڑ رہے ہیں ،جس طرح ہم بھارتی لوگ انگریزوں سے اپنے ملک کی آزادی کے لیے لڑے ،ہم نے ان کے خلاف آزاد ہند فوج بنائی اور ہتھیار بھی اٹھائے ،ٹھیک اسی طرح فلسطین و افغانستان (اس وقت وہاں امریکی فوج قابض تھی )میں آزادی کے لیے جنگ کی جارہی ہے ۔رہے وہ جھگڑے جو مسلک کے نام پر ہوجاتے ہیں ،اول تو ان جھگڑوں کی تعداد بہت کم ہے ،اس کے باوجود یہ اسلام میں ناپسندیدہ عمل ہے ۔خیر میری باتوں سے وہ کتنے مطمئن ہوئے ،میں نہیں جانتا ،لیکن وہ خاموش ہوگئے۔
لڑائی ،جھگڑوں اور جنگوں کی بھی ایک طویل تاریخ ہے ۔آج جو عالمی امن کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں ،جنگ عظیم اول میں ایک کروڑ سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں ،جنگ عظیم دوم کی تباہیوں کے اثرات آج تک قائم ہیں ،جس میں دنیا کی آبادی کا 3فیصدحصہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ۔اس کے بعد بھی ان امن کے جھوٹے دعویداروں نے پوری دنیا میں تباہی مچارکھی ہے ۔امریکی و اتحادی فوجیں کمزور ممالک کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں ،عراق میں جوہری ہتھیاروں کا بہانہ بناکر جو خونی کھیل کھیلا گیا اس کا ذمہ دار کون ہے ؟لوگ افغانستان کے طالبان کو خونخوار بتاتے ہیں ۔لیکن ان کے ملک پر پہلے 30سال روس اور اس کے بعد 20سال امریکہ نے قبضہ جمائے رکھا ،لاکھوں افغانیوں کو ماردیا ،لاکھوں کو اپاہج کردیا ،اور ایک خوش حال ملک کو پتھروں کے دور میں پہنچا دیا ،لوگ اس کو نہیں دیکھتے ۔اپنے یہاں برقع و حجاب اور حلال فوڈ پر پابندی لگانے والے مسلم ممالک میں خواتین کی آزادی کا راگ الاپتے ہیں ۔کیا ننگا پن ہی انسانی حق ہے ،سر ڈھانکنا ایک عورت کے انسانی حقوق میں شامل کیوں نہیں ہوسکتا۔کوئی مجھے بتائے کہ گزشتہ دو سو سال میں لڑی جانے والی عالمی جنگیں کن مذاہب کے درمیان لڑی گئیں ؟مسلمان صرف حاشیہ پر ہی نظر آئیں گے ۔اصل مقابلہ یوروپین ممالک کے درمیان ہی ملے گا۔پوری اسلامی تاریخ میں ہلاکو ،چنگیز،ہٹلر،مسولینی نہیں ملے گا ۔
جہاں تک مذہبی جنگوں کا سوال ہے تو اس میں بھی مسلمانوں کے ذریعہ ہونے والی ہلاکتوں کی تعدا د دوسروں کے مقابلہ ایک فیصد بھی نہیں ۔تاریخ کے مطابق ’’دس سالہ مَدنی دور میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 27غزوات اور 47 سرایا ہوئے۔ ان جنگوں میں شہید ہونے والے مجاہدین کی تعداد صرف 255 تھی، جب کہ 759 دوسرے فریق کے لوگ مارے گئے۔ جنگی قیدیوں کی تعداد 6,564 رہی۔ عرب کے جنگی اُصولوں کے تحت ان سب کو قتل کردینا چاہیے تھا، لیکن نبی رحمتﷺ نے6347 قیدیوں کو رہا فرما دیا۔ 215 کے بارے میں اغلب گمان یہی ہے کہ اُنھوں نے اسلام قبول کرلیا، صرف 2قیدی ایسے تھے کہ شدید جنگی جرائم کی بناء پر اُنہیں سزائے موت دی گئی۔‘‘(رحمت اللعالمینؐ، قاضی سلیمان منصور پوری 265/2) اس کے مقابل بھارتی سرزمین پر اسلام کی آمد سے پہلے کی مہابھارت کا جائزہ لیں ،یہاں طبقاتی کشمکش میں جان گنوانے والے شودروں کا شمار کریں،کہ ان کے مقابلے جانوروں کے حقوق زیادہ تھے ،یوروپ میں سفید فاموں کے ہاتھوں سیاہ فاموں پر ہونے والے مظالم دیکھیں،آج یوروپ و امریکہ جس خوش حالی اور ترقی یافتہ ہونے پر ناز کرتا ہے ان میں ساری دنیا سے اغوا کرکے اور پکڑ کر لائے گئے انسانوں کا لہو شامل ہے ،ذرا ان مظالم کو دیکھیں تو جہنم کا عذاب بھی بہت ہلکا محسوس ہونے لگے گا ،تعجب کی بات یہ ہے کہ انسانوں پر ان مظالم کو مذہب کی تائید بھی حاصل تھی ۔مسلمانوں نے بھی آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کیا ہے ،بنو عباس اور بنو امیہ کی جنگیں ہوں یا واقعہ کربلا ہو ،یا اس کے بعد اقتدار کے حصول کے لیے ایک دوسرے کا قتل ہو لیکن ان کو مذہب کی سند حاصل نہیں تھی ،یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے غیروں کا ہی نہیں اپنوں کو بھی مروا دیتی ہے ۔
ہمارے ایک دوست جو بدھ ازم سے متاثر ہیں ،ایک ملاقات میں اسلام کی بے رحمی اور بدھ ازم کی رحم دلی کا موازنہ کرنے لگے ۔لیکن جب ان سے کہا گیا کہ بدھ ازم کے پیروکار جو چپل اس لیے نہیں پہنتے کہ کہیں کوئی ذی روح کچل کر نہ مرجائے ،اور جو مورپنکھ اس لیے لے کر چلتے ہیں کہ اس کے ذریعہ کیڑوں کو ہٹاتے رہیں ،اسی بدھ ازم کے ماننے والوں نے برما میں مسلمانوں کاقتل عام کیوں کیا ؟کیا بدھ ازم جانوروں کی جان کی حفاظت اور انسانوں کو مارنے کی تعلیم دیتا ہے ؟مجھے بتائیے دنیا کا وہ کونسا خطہ ہے جہاں سے مسلمانوں نے ان کے باشندوں کو جلاوطن ہونے پر مجبور کیا ہو ،جنھیں صرف مذہبی عناد میں قتل کیا گیا ہو۔اس کے بر خلاف یہاں تو مفتوحہ علاقوں کو صرف اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ ان کی حفاظت کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا تھا ،ان کے تحفظ کے نام پر لیا گیا جزیہ بھی لائن لگا کر واپس کردیا گیا ۔اہل شہر اپنے فاتح کے جانے پر ماتم مناتے دیکھے گئے ۔ رسول اکرم ؐکا ارشاد ہے :’’تم زمین والوں پر رحم کروآسمان والا تم پر رحم کرے گا ‘‘(ترمذی)اللہ کا فرمان ہے’’ ناحق ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ۔‘‘ (المائدہ32)۔
سب سے بڑا اعتراض قربانی اور گوشت خوری پر کیا جاتا ہے تو اس معاملہ میں دنیا کی دو فیصد آبادی کو چھوڑ کر باقی لوگوں کی غذا میں گوشت شامل ہے ،اس سے خود یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ گوشت خوری انسانی فطرت ہے ،انسانوں کی بھوک مٹانے کی خاطر جانوروں کا ذبح کیا جانا مبنی بر عدل ہے ۔اب تو سائنس بتا چکی ہے کہ نباتات میں بھی جان ہوتی ہے ،ایک گلاس پانی جس پر ہماری زندگی کا انحصار ہے اس میںلاتعداد جراثیم ہوتے ہیں۔ بدھ ازم کے مانے والے جو مورپنکھ استعمال کرتے ہیں ،وہ بھی کسی مور کو مارنے کے بعد ہی بنایا جاتا ہے ۔میرا عقیدہ ہی نہیں بلکہ دنیا کو چیلینج ہے کہ اسلام سے زیادہ رحم کی تعلیمات دنیا کے کسی مذہب اور ازم میں نہیں ہیں ۔ہماری تاریخ میں ہمارے سپاہیوں نے جان دینا گوارا کیا لیکن اپنے زخمی بھائی سے پہلے پانی پینا گوارا نہ کیا ،ہم نے بچوں کو تھپکی دے کر سلادیا لیکن گھر آئے ہوئے مہمان کو بھوکا نہیں رکھا ،ہم نے حالت جنگ میں رحم و کرم کا وہ معاملہ کیا کہ دنیا دیکھ کر حیران رہ گئی ،اعلان کردیا گیا’’ جا ئو تم سب آزاد ہو تم پر کوئی گرفت نہیں۔‘‘(یوسف92)۔آج بھی جب کہ مسلمان دین کے دسویں حصہ پر بھی عمل نہیںکرتے ،مسلمان سب سے زیادہ رحم دل ہیں ۔بھارت میں ہونے والے فسادات ہوں یا قدرتی آفات کا معاملہ ہو،مدد اور تحفظ کے لیے بڑھنے والے ہاتھ سب سے زیادہ مسلمانوں کے ہوتے ہیں۔مسلم آبادیوں میں رہنے والے برادران وطن کو جو عزت اور حفاظت حاصل ہے ،ان مسلمانوں کو حاصل نہیں جو برادران وطن کی آبادیوں میں رہتے ہیں ۔اس لیے کہ اسلام کے تو معنی ہی سلامتی کے ہیں ۔
ایک بڑا حملہ خواتین کی آزادی اور حقوق کو لے کر کیا جاتا ہے ۔لیکن حملہ کرنے والے ذرا یہ بتائیںکہ ستی پرتھا ،بیوہ کو منحوس سمجھنا ،جائداد میں عورتوں کا حصہ نہ ہونا کس دھرم کاحصہ ہے ۔ایک مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ لوگ جب بات کرتے ہیں تو اسلام کے مقابلے آئین ہند کو لے آتے ہیں ،جب کہ مذہب کا تقابل مذہب سے کیا جانا چاہیے ۔میرا چیلینج ہے کہ عورت کو اسلام نے جو مقام ،حقوق اور عزت و سربلندی عطا کی ہے وہ کسی دھرم ،کلچر اور آئین نے نہیں دی اور نہ دے سکتا ہے۔البتہ اس بات پر افسوس ہے کہ اس معاملہ میں برصغیر کے بیشتر مسلمانوں کا عمل اسلام کے یکسر خلاف ہے ۔یوں تو مسلمانوں کی بے عملیاںیا بدعملیاں دیگر شعبہ حیات میں بھی ہیں لیکن خواتین کے معاملہ میں کچھ زیادہ ہی بے احتیاطی ہے ۔لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ بحیثیت مذہب، اسلام نے جو حقوق نصف انسانیت کو عطا کیے ہیں وہ کسی آئین و کلچر میں نہیں ۔ بھارت میں ہندو دھرم میں اصلاحات کی بیشتر تحریکیں اسلام کی آمد کے بعد اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر ہی شروع ہوئی ہیں ۔مثلاًراجہ رام موہن رائے اور سوامی ویویکا نند نے زبردست اصلاحی تحریکیں چلائیں اور خواتین کو مذہب کے خود ساختہ ظالمانہ قوانین سے چھٹکارا دلوایا۔
مسلمانوں کو کسی سے مرعوب ہونے یا شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔لیکن انھیں چاہئے کہ وہ خود آگاہی اور خود شناسی کے دریا عبور کریں ،اپنی روشن تاریخ کا مطالعہ کریں ،دنیا کی دوسری قوموں کے عقائد ،رسومات اور تاریخ بھی پڑھیں ۔یہ ہماری روشن تاریخ کاہی خوف ہے جو اسکول و کالج کے نصاب سے اسے نکالا جارہا ہے تا کہ نئی نسل بھارت کی تعمیر میں مسلمانوں کی خدمات کو نہ جان سکے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بیان بازیوں سے ہٹ کر مثبت سوچ کے ساتھ کام کیا جائے ،اپنی تاریخی کتابوں کو دوسری زبانوں میں منتقل کیا جائے ،اسے برقی آلات کے ذریعہ عام کیا جائے ،مساجد میں دین و ایمان کے نام پر فرضی کہانیاں سنانے کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کا درس دیا جائے۔ ایسے تاریخی سیریل اور فلمیں بنائی جائیں جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ دنیا کو سچائی کا علم ہو ۔دشمن تو جھوٹ پر مبنی دی کیرالہ اسٹوری بناکر گمراہ کرے اور ہم اپنی خانقاہوں اور مسجدوں میں ذکر اللہ ہو میں مست رہیں ،ہم نے فلم انڈسڑی کو حرام و ناجائز کہہ کر خود کو جواب دینے کے لائق بھی نہیں رہنے دیا ہے ۔ہماری نئی نسل اغیار کے پروپیگنڈوں سے ریب و تشکیک کا شکار ہورہی ہے ۔اسے کون یقین کی دولت سے کون مالا مال کرے گا۔وہ مرعوب ذہنیت کے ساتھ مرتد ہورہی ہے اسے کون بچائے گا ؟

عبدالغفار صدیقی

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist