
عرب لیگ کے زیر اہتمام ہونے والی جدہ چوٹی کانفرنس کی گونج ان دنوں پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے عرب دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کرکے پورے عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔وہ عرب ممالک جو آپس میں دست وگریباں تھے اور باہم سیاسی اختلاف کے شکار تھے اب سب ایک ساتھ کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑے نظر آرہے ہیں۔اس کانفرنس کی سب سے اچھی بات یہ رہی کہ تقریبا دس سالوں سے عرب لیگ سے الگ رہے سوری صدر بشار الاسد بھی کانفرنس میں شریک ہوئے اور کئی اہم علاقائی اور انٹرنیشنل موضوعات پر اپنا موقف رکھا۔اوکرانیا کے صدر زلنسکی بھی کانفرنس میں حاضر ہوئے اور امن وسلامتی پر گفتگو کی اور اس بات کو واضح کیا کہ روس اگرچہ اسلحہ کا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے مگر وہ اس سے اچھی طرح واقف ہے کہ ہتھیاروں سے جنگ جیتی نہیں جاتی،مسائل کے حل کا واحد راستہ مکالمہ ہے،جنگی اسلحوں کو استعمال کرکے روس بے اپنی کمزوری ظاہر کررہا ہے۔
کانفرنس کے چیئر پرسن شہزادہ محمد بن سلمان جو شرق اوسط کو عرب دنیا کے یورپ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں،اور شب وروز اس کوشش میں جٹے ہوئے ہیں کہ عالم عرب ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر اتحاد واتفاق کو گلے لگالے،اس اتحاد کے بعد اب ایسا نہ ہو کہ پھر سے عالم عرب باہم دست وگریباں ہوجائے،عربوں کا شیرازہ منتشر ہوجائے،اور حسب سابق پورب وامریکہ ان کا استحصال کرے۔
محمد بن سلمان نے اپنے صدارتی خطاب میں اس طرف اشارہ کیا کہ تہذیب وثقافت اور قدرتی وسائل وذرائع سے لیس عالم عرب دنیا کی قیادت کی اہلیت رکھتا ہے،اور آنے والے دنوں میں ہم اپنی ترقی اور اقبال کو ثابت کرکے دکھائیں گے۔محمد بن سلمان سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں امن واستقرار کے خواہاں ہیں۔اور اس کے لئے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کا وہ مذمت کرتے رہے ہیں۔اسلام اور تشدد دونوں متضاد شے ہے نادان ہیں وہ لوگ اور میڈیا جو دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔کانفرنس میں موجود تمام ملکوں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہم امن وسلامتی کے لئے ایک دوسرے کا تعاون کریں گے،کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے کسی ملک کی سا لمیت اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہو۔عرب لیگ کے تمام شرکاء نے اس عہد کو دہرایا کہ قضیہ فلسطین ان سب کا مشترک قضیہ ہے وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مسلسل سفارتی کوشش کرتے رہیں گے تا آں کہ فلسطینیوں کو ان کا حق مل جائے،ساتھ ہی عرب سربراہوں نے فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی دست درازی کی مذمت اور اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ حرکت سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
عرب لیگ کے ممبران نے اس بات پر زور ڈالا کہ سوریا کو بلا کسی تیسرے ملک کی مداخلت کے حتی الامکان اپنے مسائل کو خود سے حل کرنا چاہئے تاکہ سوری باشندے ماضی کی تلخیوں کو بھول کر امن وسکون کی زندگی بسر کرسکیں۔عرب سربراہوں نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی پر گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا اور بیک زبان جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا،اور کہا کہ سوڈان کا مسئلہ گولے اور بارود سے نہیں بلکہ آپسی بات چیت سے حل ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لئے سعودی عرب اول دن سے کوشاں ہے مگر افسوس سوڈان کے دونوں فوجی دستے تاحال کشت وخون میں لت پت ہیں۔بڑے بڑے دھماکے سوڈان کی راجدھانی خرطوم میں ہورہے ہیں۔سیکڑوں معصوم افراد اب تک لقمہ اجل اور ہزاروں کی تعداد میں بے قصور زخمی ہیں۔ سوڈان میں راحتی اشیاء پہنچانے میں سعودی عرب سر فہرست ہے۔قبل اس کے کہ سوڈان پورے طور پر خانہ جنگی کی آگ میں جھلس جائے اور ترقی کی راہ سے کوسوں دور ہوجائے سوڈان کے صدر کو ہوش کا ناخن لینا چاہئے اور اپنی برتری کی لڑائی کو ترک کرکے سوڈان کی فلاح وبہبودی سے متعلق سوچنا چاہئے۔امید ہیکہ عرب لیگ بالخصوص سعودی عرب سوڈان کو اس جنگ سے نکالنے کے لئے اپنی کوشش جاری رکھے گا۔
اس کانفرنس میں یمن کے مسائل پر بھی کھل کر بات ہوئی اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ یمن کے مسائل بھی بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں اور فوری طور پر مسائل حل ہونے چاہئے تاکہ وہاں اور پورے خلیج میں امن واستقرار قائم ہوسکے۔عالم عرب کے موجودہ آپسی اتفاق کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یمن سمیت عالم عرب کے تمام داخلی مسائل ختم ہوں گے اور پورے عرب میں اطمینان وسکون کی باد بہاری چلے گی۔بشرطیکہ کوئی ملک منافقانہ روش اختیار نہ کرے،اگر ایسا ہوتا ہے تو صرف عربوں کا ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کا نقصان ہوگا،اور پھر بڑی طاقتوں کو موقع ملے گا کہ وہ عرب قوم کا استحصال کرسکیں،جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے،حالانکہ اس قسم کے کسی بھی انہونی کے لئے محمد بن سلمان تیار نہیں ہیں بلکہ وہ عالم عرب کو دنیا کی ایک بڑی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں،اور قوی امید بھی ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوں گے،اس شرط کے ساتھ کہ عرب ممالک کا انہیں ساتھ حاصل رہے۔
کانفرنس میں شریک عرب سربراہوں نے اب بات پر اتفاق کیا کہ لبنان کا سیاسی بحران ختم ہونا چاہئے،اور دستور کے مطابق وہاں انتخاب عمل میں لایا جانا چاہئے تاکہ لبنان میں مضبوط حکومت قائم ہوسکے جو لبنانیوں کی تعمیر وترقی میں کلیدی رول ادا کرے۔اجلاس کے شرکاء نے بیک زبان اس بات کا عزم کیا کہ وہ عربوں کے اندرونی مسائل میں کسی بھی بیرونی مداخلت اور طاقت کو گوارہ نہیں کریں گے۔ساتھ ہی تمام ملکوں نے ملک کے قانون کے خلاف ہر قسم کی ملیشیات اور مسلحہ جماعتوں کی تشکیل کے عدم تعاون پر اتفاق کیا۔
جدہ چوٹی کانفرنس میں سیاسی مسائل پر تبادلہ خیال کے علاوہ بہت سارے اقتصادی مسائل اور اتفاقات بھی ہوئے اور بہتر اقتصاد کو امن استقرار کا ستون اولین قرار دیا گیا۔اس کانفرنس میں عرب اور افریقہ کے ۵۲ ملکوں نے شرکت کی،تمام قائدین کا شایان شان استقبال سعودی عرب کے مختلف مطار(ایر پورٹ) پر محمد بن سلمان اور دیگر امراء و وزراء نے کیا،ضیافت کا خاص اہتمام کیا گیا تھا۔عرب لیگ کی یہ ۲۳ ویں چوٹی کانفرنس اپنے قراردادوں اور عرب سربراہوں کی غیر معمولی دلچسپی کی وجہ سے پورے طور پر کامیاب، تاریخی اور یادگار ثابت ہوئی،اس کے مثبت نتائج عنقریب دیکھنے کو ملیں گے۔اس کانفرس میں شریک ہونے والے ممالک میںسوریا، فلسطین،اوکرانیا،مصر،لبنان،عمان،تونس،اردن،سوڈان،جزر القمر، جیبوتی، لیبیا، موریطانیہ، قطر، عراق، یمن، کویت، صومالیہ، بحرین، امارات،مراقش،جزائر قابل ذکر ہے۔
آصف تنویر تیمی












