اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر قائم ہے، ان میں سے ایک بنیادی رکن حج بیت اللہ ہے،’حج‘ اللہ کی اہم عبادت، تقرب الٰہی اور دل ودماغ کو گندگیوں سے پاک وصاف کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، ’حج‘ پوری زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، اس شخص پر جو مسلمان، عاقل، بالغ ہو، جس کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات کے اخراجات نیز اہل وعیال کے واجبی خرچ پورے کرنے کے بعد اس قدر زائد رقم ہو جس سے حج کے ضروری اخراجات پورے ہوسکتے ہوں۔
حج کے بے شمار دینی، دنیاوی، مالی، معاشی، سماجی اور معاشرتی فوائد ہیں اور ان فوائد کو سمیٹنے کا تعلق یقینا انسان کے ارادے اور محنت پر موقوف ہے، حج کا سفر بالخصوص مناسک حج ایک مسلمان کے لئے مابعد کی زندگی کوآراستہ وپیراستہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، حج اور مناسک حج پوری زندگی کے لئے انسان کو صحیح راستہ پر لانے کے لئے اللہ کی طرف سے ایک مشق ہے ، حاجی جب حج سے واپس آتا ہے تو کچھ کھجوریں اور آب زم زم وغیرہ تقسیم کرتا ہے، اس کے علاوہ بعض تحائف وہ ہیں جو بنا مانگے، بنا خریدے من جانب اللہ حاصل ہوتے ہیں، ان ہی میں سے ایک تحفہ اتحاد واتفاق کی نعمت ہے، اس کو دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے، تقسیم کرنے کی ضرورت ہے، حج میں پوری دنیا کے لوگ آتے ہیں، متحد ہوکر طواف کرتے ہیں، رمی جمار کرتے ہیں اور اپنے اندر سے ہر قسم کی عصبیت بھیدبھاؤ، ذات برادری رنگ ونسل، عجمی وغیرعجمی کا فرق اور مسلک وغیرہ دیکھے بغیر متحد ہوکر ان ارکان کی ادائیگی کرتے ہیں، حاجی کو اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اپنے مقام میں جاکر بغیر مسلک، بغیر نسب ومنصب اور بغیر ذات وبرادری کو دیکھے، متحد ہوکر اتحاد واتفاق کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کا فرمان ہے: ’’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعاً وَلَاتَفَرَّقُوْا‘‘ تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقہ بندی مت کرو، نیز ان ہی میں سے ایک تحفہ صبر وتحمل ہے، اس کوتقسیم کرنے کی ضرورت ہے، یعنی حاجی کو دوران طواف ورمی جمار کبھی کبھار ایسے حالات پیش آتے ہیں جو طبیعت کے موافق نہیں ہوتے، کبھی کبھار دھکے پر دھکے کھا رہا ہے، اللہ کی بڑائی بیان کر رہا ہے، معافی حاجی کی رٹ لگاتا ہے، وہ دھکے کھا کر مرنے مارنے پر آمادہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ سب سہہ لیتا ہے، برداشت کرلیتا ہے، محض اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، کیوں اسے یاد ہے کہ اللہ کا فرمان ہے: ’’فلارفث ولافسوق ولاجدال فی الحج‘‘ وہ اپنے حج کو رفث، فسوق اور جدال سے بچا رہا ہے۔
اس وقت حاجی صبر وتحمل سے کام لیتا ہے، اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اپنے مقام پر آکر ناموافق حالات کے پیش آنے پر صبر وتحمل سے کام لیں اور اپنے اندر مجاہدانہ مزاج، قربانی اور نفس امارہ کو کچل دینے کا جذبہ پیدا کریں، جب کہ اللہ کا خود فرمان ہے:’’اے ایمان والو! صبر ونماز کے ذریعہ اللہ سے مدد طلب کرو، بلاشبہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ اس آیت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ہمارے اندر صبر وتحمل کا جذبہ پیدا ہو، حاجی جانور کی تو قربانی دے دیتا ہے، لیکن اصل قربانی تو نفس کی قربانی ہے، خواہشات کی قربانی ہے، ان ہی میں سے ایک تحفہ استقامت، دوام، ثبات ہے، یعنی حاجی ایام حج میں پابندی سے اعمال کرتا ہے، نماز نہیں چھوڑتا، نوافل کا اہتمام کرتا ہے، سنن ومستحبات کی رعایت کرتا ہے، لیکن جب اپنے مقام پر جاتا ہے تو سنن ونوافل کی بات تو دور ہے، فرائض کا اہتمام بھی مشکل سے کرپاتا ہے، جب کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’وان احب الاعمال الی اﷲ ادومھا وان قل‘‘ (بخاری:۶۴۶۴) اللہ کے نزدیک اعمال میں سب سے بہتر عمل وہ ہے، جس میں مداومت اور استقامت ہو اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، ان ہی میں سے ایک تحفہ خدمت خلق ہے، اس کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہے، حاجی ایام حج میں غریبوں، یتیموں کی مدد کرتا ہے، خدمت کرتا ہے، اسی طرح اپنے مقام پر لوٹنے کے بعد بھی اس کے اندر خدمت خلق کا جذبہ باقی رہنا چاہئے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولٰکن البر من اٰمن باﷲ والیوم الآخر والملائکۃ والکتاب والنبیین وآتی المال علی حبہ ذوی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل والسائلین وفی الرقاب الخ‘‘ (البقرۃ:۱۷۷) اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق کی جانب یا مغرب کی جانب کرو، ہاں! اصل نیکی یہ ہے کہ ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر، فرشتوں پر اور کتب سماویہ اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنے عزیزرشتے داروں اور یتیموں، مساکین اور راہ گیروں اور سائلوں کو اور قیدی وغلامی کو گردن چھڑانے میں مدد کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یتیموں، مسکینوں، غلاموں، راہگیروں اور سائلوں کی مدد کریں، ایک حدیث میں تو مخلوق کو اللہ کا عیال (کنبہ) کہا گیا ہے اور ان کے ساتھ بھلائی وہمدردی کو محبت الٰہی کے حصول کا ذریعہ بتایا گیا ہے: ’’الخلق عیال اﷲ فاحب الخلق الی اﷲ من احسن الیٰ عیالہ‘‘ (مشکوۃ) مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال (زیر کفالت ہے) مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو اللہ کی عیال کے ساتھ بھلائی اور اچھے سلوک کے ساتھ پیش آئے، اس آیت کریمہ اور حدیث شریف سے یہی پیغام ملتا کہ ہم اپنے اندر خدمت خلق کا جذبہ پیدا کریں اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کریں۔
ان ہی میں سے ایک تحفہ شرک وبدعت سے اجتناب کا بھی ہے، صرف اور صرف اللہ کی عبادت کا جو خیال حج میں راسخ ہوتا ہے، لبیک اللہم لبیک کی صدا انسانوں کو جس طرح غیروں سے بے نیاز کرتی ہے، اسے بھی عام کرنے کی ضرورت ہے، اس کو بھی تقسیم کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کا فرمان ’’الٰھکم الٰہ واحد لاالٰہ ھو الرحمٰن الرحیم‘‘ روضہ رسول پر صلاۃ وسلام کرکے جو روحانیت حاجی نے حاصل کیا اسے بھی بانٹنے کی اشد ضرورت ہے اور بتانے کی ضرورت ہے، محبت رسول کیا چیز ہے؟ اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اور ایک حاجی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انسان کی کامیابی کا دارومدار دو چیزوں میں منحصر ہے (۱)ایک اطاعت خداوندی (۲)اطاعت مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم، جبکہ اللہ کا فرمان ہے ’’قل اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول الخ‘‘ (سورۃ النور:۵۴) اے پیغمبرؐ! آپ کہہ دیجئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اللہ کے نبی کا فرمان ہے: ’’ترکت فیکم امرین لن تضلوا ماتمسکتم بھما کتاب اﷲ وسنۃ رسولہ‘‘ (مشکاۃ المصابیح) میں تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑ کر جارہا ہوں، یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ، جب تم مضبوطی سے اسے تھام لوگے، تمہیں کوئی بھی ہرگز گمراہ نہیں کریںگے۔
لہذا ایک حاجی کو روضہ رسولؐ سے اپنے اندر اطاعت خداوندی وعشق مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ لیکر واپس ہونا چاہئے اور اپنے مقام پر جاکر اس کو عام بھی کرنا چاہئے۔ ’’وما علینا الا البلاغ‘‘
محمد عرفان قاسمی
آندھرا پردیش












