صادق شروانی
نئی دہلی،3جون ، سماج نیوزسروس:اردو زبان مقبول بھی مظلوم بھی کتاب کا رسم ا جرا کے موقع پر آج اردو داں طبقہ نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر صحافی سہیل انجم کے ذریعہ بکھرے ہوئے مضامین کو ڈاکٹر سیداحمدخاں نے یکجا کرکے جو کتابی شکل دی ہے وہ قابل تعریف ہے ۔اس موقع پر پدم شری ایوارڈ یافتہ پروفیسر اخترالوسع نے ڈاکٹرسید احمد خاں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان مضامین کو جو اب تک اخبارات میں بکھرے ہوئے تھے ان کو ایک جگہ جمع کیا انہوںنے مزید کہا کہ اردو کی مقبولیت بھی ہماری وجہ سے اورمظلومیت بھی ہماری وجہ سے ہے ۔ سچائی یہ ہے کہ اردو کے لئے جمع خرچ خوب ہوا ہے سہیل انجم صاحب واقعی قلم کے دھنی ہے جتنا بھی سوچتے ہیں اس کو قلم بند کرتے ہیں۔ اردو زبان کے حوالے سے پروفیسر اختر الاوسع نے کہا کہ کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں اردو پریشان حال نہیں ہے انہوںنے مہاراشٹر وغیرہ کا ذکر کیا اورکہا کہ دہلی کے اندر اردو بازار میں اردو کی دکانیں کبابوں کی دکانوںمیں تبدیل ہورہی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ گھر چھوڑ دیجئے اب توقبرستانوںمیں بھی اردو نہیں ملتی ہے
۔ انہوںنے سوال کیا کہ اردو کی کیوںنہیں پڑھتے ہیں اس کی مختلف وجوہات بھی تفصیل سے بیان کی اور کہا کہ لوگ خود بھی آگے نہیں آتے ہیں انہوںنے اپنے تعلیمی دور کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ اے ایم یو میں انگریزی اور اردو کے اخبارات ضرور آتے تھے لیکن اب وہاں ہندی اخبارات کثیر تعدادمیں آتے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اردو کا روزگار سے کوئی رشتہ نہیںرہا اخترالاوسع نے کہا کہ چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہمیں کسی بھی حال میں نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ماں ،ملک ،مذہب ،اور مادری زبان، اس کو ہر حال میں اپنے ساتھ رکھنا ہے جگہ بھلے ہی ہمارے پاس کم ہو۔ ڈاکٹر سید صاحب تو عاشق اردو ہیں بے شک یہ اردو کےلئے بہت کام کررہے ہیں جو ہم سب کو بھی کام کرنا چاہئے ۔م۔ افضل صاحب نے بھی اردو کےلئے بہت کام کیا ہے ۔اور آج اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت اردو کےلئے کام کیا جارہا ہے جس میں خاص طو رسے اردو ڈے کا ہم ذکر کرسکتے ہیں۔ سابق ممبر پارلیمنٹ اور سینئر صحافی م۔افضل نےکہا کہ میں نے گیارہویں کلاس تک اردو پڑھی جب میں نے صحافت کا آغاز کیا تو اردو کو چنا گزشتہ تقریباً پینتالیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا اردو کا دائرہ روز بروز کم ہوتا جارہا ہے حالانکہ دنیا میں اردو کو فروغ مل رہا ہے ۔ اور وہاں لوگ اردو کو بڑھانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ڈاکٹر ملک زادہ منظور اور دیگر کے ذریعہ لکھنؤ سے اردو رابطہ کمیٹی کے بینر تلے ملک میں بڑے بڑے جلسے کئے گئے کچھ حد تک اردو والے بھی اردوکے صفائی کے ذمہ دار ہیں۔ اردو کوسمیٹنے میں پچاس فیصد اردو والے اور پچاس فیصد حکومتوںکا کردار ہے۔حالیہ دنوں این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ابھی کوئی نیا کام نہیں کیا جائے گا۔ یہ شکایت ابھی والی سرکار سے نہیں ہے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔ انہوںنے رام لال جی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوںنے خود کا میں اتنی کتابیں لکھی ہیں لیکن میرے گھر میں ان کو پڑھنے والا کوئی نہیں ہے۔ م۔افضل نے کہا کہ اردو بہت مقبول ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔اردو خود اپنی لڑائی لڑرہی ہے کشمیر میں بھی اردو اخبارات کم ہوئے ہیں بازاروں میں ملنے والے اخباروں کی تعداد کم ہوگئی ہے ہاں ایک طبقہ ہے جو ابھی اردو پڑھ رہا ہے اور وہ ہیں ہمارے مدارس ان کا شین ۔قاف بھی درست ہے ۔ سہیل انجم کی تعریف کرتےہوئے کہا کہ وہ استاد سے کافی آگے نکل چکے ہیں۔ م۔افضل نے نئے سسٹم میں جانےکی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ الکٹرونک کے بعد آپ انٹرنیشنل لیبل پر مل سکتے ہیں پرنٹ میڈیا آہستہ آہستہ کم ہورہا ہے اور الکٹرانک میڈیا آگے نکل رہا ہے۔ انہوںنے ریختہ کی تعریف کی اسپانسرشپ پر زور دیا۔سینئر صحافی معصوم مرآبادی نے الفاظ کے استعمال پر زور دیا اور کہا کہ وہ زبان جس سے ہماری شناخت ہے وہی ختم ہوجائے تو ہمارے حال کیا ہوگا۔ پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ اردو کی اپنی بھی طاقت ہے غیر زبان کے آدمی بھی اردو اچھی لگتی ہے۔ اب یہ مان لینا چاہئے کہ اردو آپ کی زبان ہے اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔حکیم سید احمد انسانوں کی بھی تشخیص کرتے ہیں ۔معروف شاعر ماجد دیوبندی اورڈاکٹر حبیب اللہ نے بھی ڈاکٹر سید احمد کو مبارکباد پیش کی جبکہ سینئر صحافی سہیل انجم نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ڈاکٹر سید احمد نے تمام مہمانوںکا شکریہ ادا کیا۔












