سید مجاہد حسین
نئی دہلی :بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعہ پچھلے کئی برسوں سے یہ شور وغوغا ہے کہ مودی حکومت میں ملک خوب پھل پھول رہا ہے ، امن وامان قائم ہےاور بی جے پی کے زیر حکومت ہر ریاست میں بہتر قانونی نظم و نسق کابول بالا ہے ،ملک تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے،جرم کا گراف گر گیاہے اور لوگوں میں اب پہلے سے کہیںزیادہ بے خوفی اور احساس تحفظ دکھائی دینے لگا ہے ۔ لیکن اگر اس کے دعوئوں پر نظر دوڑائی جائے تو اصل سچائی سامنے آجاتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کی زیر حکومت کئی ریاستیں خراب نظم و نسق کی دہائی دے رہی ہیں اور اپنی زبان حال سے سب کچھ بیاں کررہی ہیں ۔حالات دیکھ کر حیرانی ہوگی اور ماتم کرنے جی چاہے گا ۔آج کچھ بی جے پی ریاستوں میں امن و قانون کی جو صورتحال ہے وہ نا قابل بیان ہے ۔اتر پردیش میں خواتین اور بچیوں کے تحفظ کا مسئلہ جوں کا توں کھڑا ہے ،بلکہ اپنے حقوق کیلئے ایک ریاست توپچھلے تین مہینے سے تشدد کی آگ میں جل رہی ہے ۔جنوب کی ایک ریاست میں مذہبی رنگ دے کر امن و امان کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیںتو کہیں لوگوں میں نفرت پیدا کر کے مذہبی خانے میں بانٹا جارہا ہے ۔گویا جائزہ لیں تو معلوم ہوجائیگا کہ بی جے پی کے دعوے میں کتنی حقیقت ہے ۔سب سے پہلے منی پور کی بات کرینگے ،مشرقی ریاست منی پور کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔وہاں پچھلے دو ماہ سے دو برادریوںکے درمیان لڑائی اور کشمکش جاری ہے اب تک 70 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں،حالات ہنوز قابو سے باہر ہیں ،جبکہ رک رک کر تشدد اور آتش زنی کے واقعات سامنے آرہے ہیں ۔ کل ہی ایک ماں بیٹی سمیت تین لوگوں کو تشدد پسند عناصر نے ایک ایمبولینس میں زندہ جلا دیا ۔اس دردناک پرتشدد واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کیسی ہوگی۔لوگ مہنگائی کے بحران سے جوجھ رہے ہیں جہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر ہیں ۔بدھ کو کوکی برادری نےمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے امن و امان قائم کرنے کی فریاد کی تھی ۔ادھر مہاراشٹر کو کولہا پور میں نفرت کے سودا گروں نے کل خوب کہرام مچایا اور ہنگامہ کیا ۔شدت پسندوںکو سوشل میڈیا پر اورنگ زیب کی تعریف میں ایک پوسٹ سے شتابہ چڑھا ہوا ہے اور وہ سڑک پر اترے ہوئے ہیں ۔ ریاست میں شندے کی سر پرستی میں بی جے پی کی حکومت ہے جہاں یہ سب تماشہ اورہنگامہ آرائی جاری ہے۔ہریانہ میں کسانوں پر ہورہے لاٹھی چارج کے واقعے اور اقلیتوں کے ساتھ مذہبی منافرت کے سلوک سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ ادھر اترا کھنڈ میں ایک لڑکی کے اغوا کے بعد معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیاگیا ہے جہاں مسلمانوں کو گھرو دکان چھوڑ دینے کے پوسٹر لگا دئے گئے ۔اقلیتی فرقہ دہشت میں ہے اور چالیس سے زیادہ ان کی دکانیں بند ہیں۔جبکہ پولس نے فلیگ مارچ کیا ہے ۔ اتر پردیش تو ببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے کہ ریاست میں قانون و انتظام کا بحران ہے اورروز مرہ کے جرم یوگی حکومت کے دعوئوں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ ضلع بستی میں ہی ایک بارہ سالہ نابالغ بچی کو تین نوجوانوںنے اپنی ہوس کا شکار بنایا اور اسے بے دردی سے قتل کردیا گیا۔یاد ہوگا کہ اتر پردیش میں خواتین کے تحفظ پر گزشتہ دنوں امت شاہ نے کہا تھا کہ اب اتر پردیش میں 16 سال کی لڑکی رات میں بھی بے خوفی کے ساتھ گھوم سکتی ہے ۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ لوگ پولس کی تحویل میں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔مجرموں میں قانون سے بے خوفی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اب عدالت کے احاطہ یا کورٹ روم میں جرم کرنے سے نہیں ڈر رہے ہیں ۔ پریاگ راج میں عتیق اور ان کے بھائی کے قتل کو ابھی گزرے ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ بدھ کو اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو کے ہائی کورٹ کے ایک کمرہ میںایک ملزم پر ایک شخص نے سر عام گولیاں داغ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔حالانکہ اب یہ پولس تحقیقات کے بعد ہی عقدہ کھلے گا کہ کیا عتیق اور سنجیو مہیشوری عرف جیوا کو مروانے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا ، اور جرم کے اس طریقہ کا موجب کون ہے اور یہ سب کس کے منشا پر ہوا ؟ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ پولس نے دونوں ہی واقعات میں مجرموں پر فائرنگ کرنے سے کیوں پرہیز کیا ؟ اور ان مجرموںنے خود کو اتنی آسانی سے پولس کے حوالے کیسے کردیا؟۔ان سوالوں سے پولس کی اور خود حکومت اتر پرد یش کی شبیہ مشکوک ہوجاتی ہے ۔ یہ جان کرتعجب ہوگا کہ عتیق اور جیوا کے معاملہ میں یہ بات یکساں ہے کہ مقتول ملزمان نے عدالت عالیہ سے اپنے تحفظ کی فریاد کی تھی اور جان سے مار دئے جانے کا ڈر ظاہر کیا تھا۔ دن دہاڑے قتل کے پیچھے کیا کچھ سازش رہی، اس سے قطع نظر یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ یوپی میں پولس کی موجودگی میں لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ پا رہے ہیں اور ان میں جوڈربیٹھ گیا ہے اس کو دور کرنا آسان نہیں ہوگا۔اتر پردیش میں اسطرح کے’رام راج‘ پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں ۔وہیں ا سکے ساتھ منی پور اور اترا کھنڈ کے حوالے سے بھی کافی فکر اور بے چینی ظاہر کی جارہی ہے ۔ عوام کو بی جے پی حکومت کے ان دعوئو ں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے جن میں وہ امن و امان اور تحفظ حقوق نسواں کی بات کرتی ہے۔ مہاراشٹر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے ایک فوٹو کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر جو کچھ ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے اس میں نائب وزیر اعلیٰ فڑ نویس بھی خوب جم کر بیان بازی کررہے ہیںجس سے معاملہ طول پکڑ رہا ہے ۔ان سب حالات کے تناظر میں یہ فیصلہ اب عوام کو کرنا ہے کہ بی جے پی کی زیر حکومت ریاستوں میں امن وقانون کے دعوئوں کی حقیقت کیا ہے ۔ وہاں بد امنی اور بگڑتے حالات کے لئے کون ذمہ دار ہے ،کیا یہ سب کچھ دائیں بازو اوربا اثر طبقہ کو شہ دئے جانے کی وجہ سے ہو رہا ہے،یہ سوال اہم ہے ؟۔












