ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق بپر جوائے نامی سمندری طوفان قریب ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز رفتار ہواؤں اور 35 سے 40 فٹ کی لہروں کے ساتھ شمال کی طرف انتہائی شدید طوفانی طوفان میں تبدیل ہونے کا قوی امکان ہے۔یہ سمندری طوفان اگلے 24 گھنٹوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ ایک ’بہت طاقتور‘ سمندری طوفان کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اس طوفان کے رُخ کا تعین کرتے ہوئے بتایا جا رہا ہے کہ ہوا کی سمت کے حساب سے اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس طوفان کا رُخپاکستانمیںجنوب مشرقی سندھ اور انڈیا میں گجرات کے ساحل کی جانب ہو گا۔
ادھر قدرتی آفات سے نمنٹے والے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس سمندری طوفان کی پیشرفت کو جانچ کر ہی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے گا کہ یہ کس مقام پر ساحل سے ٹکرائے گا اور اس کے کیا اثرات ہوں گے۔محکمہ موسمیات کے ساتھ ساتھ این ڈی ایم اے کی جانب سے بھی تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا کہ طوفان کے پوربندر سے 200-300 کلومیٹر اور نلیہ سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر گزرنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ مشرقی وسطی بحیرہ عرب میں انتہائی شدید سمندری طوفان بپرجوئے گزشتہ 6 گھنٹوں کے دوران 5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ شمال کی طرف بڑھے گا اور 11 جون 2023 کو 30:02 بجے IST کے قریب اسی علاقے میں مرکز بنے گا۔
سمندری طوفان کے زیر اثر گجرات میں اگلے پانچ دنوں کے دوران خاص طور پر سوراشٹر کے کچھ علاقے میں تیز ہوا کی رفتار کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشیں دیکھنے کو ملیں گی۔ منورما موہنتی نے کہا کہ ‘اگلے دو دنوں کے دوران سوراشٹرا کے کچھ علاقے میں 30-40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلے گی۔ اس کے بعد، 30-50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہواؤں کی رفتار 13-15 جون کے دوران اس خطے میں، خاص طور پر ساحل کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔












