نئی دہلی، 12 جون : کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ کے باوجود منی پور شدید تشدد کی لپیٹ میں ہے اور ریاست میں زندگی مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے وہاں کی صورتحال پر خاموشی توڑکر جلد ازجلد منی پور کا دورہ کرنا چاہیے ۔کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش، جنرل سکریٹری مکل واسنک،منی پور کے انچارج بھکت چرن داس نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر شاہ کے دورے کا تشدد زدہ منی پور پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ لہذا مسٹر مودی کو اب خود منی پور کا دورہ کرکے عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو تشدد زدہ منی پور میں حالات معمول پر لانے کی تمام کوششیں کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ مودی کے دورے کے علاوہ منی پور میں ایک آل پارٹی وفد کو تمام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور متاثرہ لوگوں سے ملنے کے لیے منی پور میں حالات پر قابو پانے اور حالات کو سمجھنے کی اجازت بھی دی جانی چاہیے ۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ مسٹر شاہ کے منی پور کے تین روزہ دورے کا تشدد سے متاثرہ منی پور پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے ۔ مرکز کی جانب سے انہوں نے منی پور میں امن کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا، لیکن ان کے دورے کے دو ہفتے بعد بھی منی پور جل رہا ہے ۔ تشدد اور آتش زنی ان تمام علاقوں میں جاری رہی جہاں نسلی تشدد سے متاثرہ دو کمیونٹیز کے لوگ رہتے ہیں۔ کئی اضلاع میں کراس فائرنگ بھی ہو رہی ہے ۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ منی پور میں تشدد کس حد تک جاری ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی شاہراہ 2 اور 37 پر ٹریفک اب بھی بند ہے ۔ ان دو اہم قومی شاہراہوں کے بلاک ہونے سے اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ۔ بے گھر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے ۔ بے گھر ہونے والوں کے لیے 349 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں 50 ہزار سے زائد لوگوں کو ٹھہرایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ منی پور تشدد میں بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان ہوا ہے ۔ سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے اور بہت سے لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ وہ کہاں ہیں اس بارے میں کسی کو کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ متعدد جاں بحق افراد ابھی تک سرکاری اسپتالوں کے مردہ خانے میں پڑے ہیں اور ان کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے نہیں کی گئیں۔ انٹرنیٹ پر پابندی 15 جون تک بڑھا دی گئی ہے ۔ ریاستی حکومت یا مرکزی حکومت کی طرف سے کی گئی کسی بھی کارروائی سے منی پور کے لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں ہوا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ کی سخت وارننگ کے باوجود بہت کم تعدا دمیں لوٹے گئے ہتھیار اور گولہ بارود واپس کئے گئے ہیں۔کانگریس لیڈروں نے منی پور میں ہونے والے تشدد کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ 3 مئی کو جس طرح کا نسلی تشدد شروع ہوا تھا اس سے پہلے منی پور کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ تشدد کی وجہ سے پورا منی پور جل گیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 مئی کو ہونے والے تشدد کی شدت کو دیکھتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر اور قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی قیادت میں ایک وفد نے 4 مئی کو گورنر سے ملاقات کی اور حالات کو بحال کرنے کے لیے حکومت ہند سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ 09 اور 10 مئی کو پارٹی کے منی پور انچارج بھکت چرن داس نے ریاست کا دورہ کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ کانگریس نے منی پور میں تشدد کو روکنے کے لیے ایک ذمہ دار اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کیا، لیکن مودی حکومت اس میں مسلسل لاپرواہی برت رہی ہے ۔












