گاندھی نگر، 14 جون :گجرات میں تعینات بارڈر سیکورٹی فورس کی ریسکیو ٹیمیں ساحل کی طرف بڑھتے ہوئے شدید سمندری طوفان ‘بیپرجوئے ‘ سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ سمندری طوفان بپرجوئے کے 15 جون کی شام کو جاکھاؤ ساحل کے نزدیک ٹکرانے کا امکان ہے اور اس کے بعد اس کے کچ کے رن کے راستے راجستھان کی طرف بڑھنے کا امکان ہے ۔ فورس کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ فورس کے انسپکٹر جنرل، گجرات، روی گاندھی نے بھج کے ساحلی علاقوں کا دورہ کیا ہے اور طوفان کی وجہ سے پیدا ہونے والے ممکنہ تباہ کن اثرات کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیاریوں کا جائزہ لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان کے ہندوستان پاکستان بین الاقوامی سرحد سے گزرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔ بارڈر سیکیورٹی فورس کی جانب سے بین الاقوامی سرحد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیوں کے لیے ضروری وسائل کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے ۔ فورس نے انتظامیہ کے اہلکاروں کے ساتھ تال میل کیا ہے اور انتظامیہ اور مقامی لوگوں کو تمام ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے ایکشن پلان کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ جاکھاؤ ساحل کے نزدیک واقع گناؤ گاؤں کے تقریباً 50 گاوں والوں کو بارڈر سیکورٹی فورس کی گناؤ چوکی میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔وہیں گجرات کے ریلیف کمشنر آلوک کمار پانڈے نے بدھ کو کہا کہ طوفان سے متاثر ہونے والے اضلاع میں اب تک 47,000 سے زیادہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ۔ ریاست کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے آج گاندھی نگر میں اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تاکہ ‘بیپرجوئے ‘ طوفان کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے کام کے بارے میں دریافت کیا جا سکے ۔ اس میٹنگ میں چیف سیکرٹری سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں انہوں نے طوفان کے باعث ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی تیاریوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ضروری تجاویز دیں۔ میٹنگ میں موسم کی صورتحال کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مرکزی محکمہ موسمیات کی علاقائی ڈائریکٹر موہنتی نے کہا کہ 15 جون کو شمالی گجرات کے بناسکانٹھا، سابر کانٹھا، پاٹن جیسے اضلاع میں بارش ہونے کی امید ہے ۔ اس جائزہ میٹنگ میں معلومات دیتے ہوئے مسٹر پانڈے نے کہا کہ ریاستی حکومت بچاؤ اور راحت کے کاموں کے لیے پوری طرح تیار ہے تاکہ ممکنہ طوفان سے کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ ریاستی حکومت کی طرف سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے کے کام پر زور دیتے ہوئے اب تک 47 ہزار سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے ۔ لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کا کام تاحال جاری ہے اور آج شام تک یہ کام سو فیصد مکمل کر لیا جائے گا۔ مزید معلومات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک 4462 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جن میں جوناگڑھ ضلع میں 4462، کچھ میں 17739، جام نگر میں 8542، پوربندر میں 3469، دوارکا میں 4863، گر سومناتھ میں 1605، موربی میں 1936 اور راجکوٹ میں 4497 سمیت کل ملاکر 47,113 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے ۔ ریلیف کمشنر نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 17 ٹیمیں اور ریاستی آفات رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی 12 ٹیمیں طوفان سے متاثرہ اضلاع میں تعینات کی گئی ہیں۔این ڈی آر ایف کی چار ٹیمیں کچھ میں، تین تین دیو بھومی دوارکا اور راجکوٹ میں، دو جام نگر میں اور ایک ایک جوناگڑھ، پوربندر، گر سومناتھ، موربی اور ولساڈ میں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تین ٹیموں کو وڈودرا میں اور ایک ٹیم کو گاندھی نگر میں ریزرو میں رکھا گیا ہے ۔ ایس ڈی آر ایف کی دو دو ٹیمیں کچھ، جام نگر اور دیو بھومی دوارکا میں ہیں جبکہ ایک ایک ٹیم جوناگڑھ، پوربندر، گر سومناتھ، موربی، پٹن اور بناسکنتھا میں تعینات ہے ۔ اس کے علاوہ سورت میں ایک ٹیم کو ریزرو میں رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر ان اضلاع میں چار ہزار سے زائد ہورڈنگز ہٹا دیے گئے ہیں۔ طوفان کے بعد بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے پی جی وی سی ایل کی 597 ٹیموں کو تیار کیا گیا ہے ۔ صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر منسکھ منڈاویہ نے بدھ کو گجرات میں طوفان بپرجوئے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متاثرہ اضلاع کے اسپتالوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔مسٹر منڈاویہ نے کچھ میں طوفان ‘بپرجوئے ’ سے نمٹنے کے لیے ریاست کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ سمندری طوفان بِپرجوئے کو‘انتہائی شدید سمندری طوفان’ مانا جا رہا ہے ۔ اس کے کل 15 جون کو گجرات کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے ۔مرکزی وزیر صحت نے بھج ایئر فورس اسٹیشن کا دورہ کیا اور فضائیہ کی ‘گروڑ’ ایمرجنسی ٹیم کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ جائزہ لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے جوان طوفان سے جان و مال کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔’اس کے بعد ہنگامی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے بھج میں کے کے پٹیل سپر اسپیشلٹی اسپتال کا دورہ کیا گیا۔ انہوں نے سرکاری ہسپتالوں، ضلع کچھ کے خیراتی ہسپتالوں اور خطے کے دیگر ہسپتالوں میں آکسیجن، وینٹی لیٹرز اور کریٹیکل کیئر بیڈز کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے کچھ میں 108 ایمرجنسی ایمبولینس سروس کے ڈرائیوروں سے بات چیت کی۔مرکزی وزیر صحت نے یقین دلایا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں سمندری طوفان بپرجوئے سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن انتظامات کر رہی ہیں۔
مغربی ریلوے نے بدھ کو کہا کہ طاقتور طوفان ‘بیپرجوائے ‘ کی وجہ سے کئی ریاستوں میں 100 سے زیادہ ٹرینوں کا آپریشن متاثر ہوا ہے ۔ریلوے کے ترجمان نے آج یہاں بتایا کہ 69 ٹرینوں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ 33 ٹرینوں کو شارٹ ٹرمینیٹ کر دیا گیا ہے اور 25 ٹرینوں کو مڈ اسٹیشن پر چلانے کے لیے انتظام کیا گیا ہے ۔انتظامیہ نے طوفان سے نمٹنے کے لیے مکمل انتظامات کر لیے ہیں۔ اس کا اثر بھاو نگر، مہوا، واریوال اور پوربندر میں محسوس ہوگا۔ گڈز ٹرین پیر سے ڈبل اسٹیک سے لیس ہوگی۔ انتظامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ترجمان کے مطابق وزیر ریلوے اشونی وشنو خود سائیکلون کی رفتار اور پورے نظام کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔ ایمرجنسی میڈیسن اور وین کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے ۔ محکمہ ویجیلنس متحرک ہے ۔ اس کے ساتھ ڈیزل انجن کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ مواصلات بھی تیار ہو رہا ہے ۔ ریاستی دارالحکومت کے ریلوے اسٹیشن کے وار روم سے مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے ۔












