نئی دہلی،17؍جون،:،ہمارا سماج : آر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہاکہ ہم تو یہی سوچیںگے کہ کسی سے جنگ نہ ہو اور ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے جنگ ہو ۔لیکن اپنے مفاد کے لیے جنگ کرنے والے ممالک اس دنیا میں ہیں۔ ان سے بچناہی جنگ کو ٹالنے کا ایک طریقہ ہے تاہم ہم نے کبھی ایسا سوچا نہیں۔ وہ گلوبل اسٹریٹیجک پالیسی فاؤنڈیشن کے بارہ سال مکمل ہونے پر ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان اب اٹھ رہا ہے ،دنیا میں اپنی ایک شناخت بناچکا ہے او ر ایک گلوبل پلیئر بن رہا ہے۔ دنیا میں ہندوستان کا اہم مقام رہے گا ایسی توقع ہے۔ باقی ممالک نے امن و چین سے جینے کے جو طریقہ بتائے وہ سب فیل ہوگئے۔انھوںنے کہاکہ انسان کسی کا گلا کاٹ کر سکھی نہیں رہ سکتا ۔ انسانیت اگر ہے تو سبھی سکھی رہ سکتے ہیں۔ تنظیم کے قومی صدر ڈاکٹر اننت بھاگوت نے کہاکہ ہماری تنظیم ڈیفنس و خارجہ پالیسی، قومی یکجہتی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر کام کرتی ہے اور ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی یہ مہم چلائی جارہی ہے۔ جب بات قومیت کی ہوتی ہے تو پھرکسی رشتہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ہم نے فیلڈ میں جاکر کام کیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں جاکر اپنے پیغام کو پہنچایا اور جہاں بھی ہم گئے وہاں لوگوںنے ہمیں سر آنکھوں پر بیٹھایا۔کیرلہ کے گورنر عارف محمد خاںنے کہاکہ کسی بھی سماج میں اس کی تہذیب کی سمجھ پیدا کئے بغیر مسائل پر قابو پانا مشکل ہے۔ ہم ایسے حل لے کر آتے ہیںجس سے عام آدمی اپنے کو جوڑ ہی نہیں پاتا ۔ انھوںنے کہاکہ جو تہذیب و تمدن علم کی تہذیب کہلاتی تھی وہاں تاریخ اتنی ظامل کیسے ہوسکتی ہے ۔ تاریخ ظالم اس لیے ہوئی کیونکہ اپنی تہذیبی وارثت ، اصول کے تئیں ہماری وفاد اری ختم ہوگئی ۔ اس دوران تنظیم کے جنرل سکریٹری جان ورگس ، نیشنل کوڈینیٹر ظفر لاری ،خازن منوج گوئل نے ڈاکٹر موہن بھاگوت اورعارف محمد خاں کا استقبال کیا۔












