ماہ ذی الحجہ بس شروع ہی ہونے والا ہے اس وقت ہم ایسے مبارک ایام کے دروازے پر کھڑے ہیں جو خیروبرکت اور نعمت ورحمت سے پُر ہیں جس طرح اللہ جل شانہ نے ہفتہ کے سات دنوں میں جمعہ کو اور سال کے بارہ مہینوں میں رمضان کو اور پھر رمضان کے اخیر عشرے کو اہمیت دی گ ہے اسی طرح ذی الحجہ کے پہلے عشرے کو بھی افضل ترین قرار دیا گیا ہے ان میں حق تعالیٰ نیکیوں کا اجروثواب بڑھا دیتا ہے اور نیک بندوں کے درجات بلند کر دیتا ہے ان بابرکت ایام کی قسم اللہ نے قرآن میں کھائی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
والفجر ولیال عشر ” قسم ہے فجر کی اور ذی الحجہ کی دس راتوں کی ” حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے ذی الحجہ کا پہلا عشرہ مراد ہے اکثر علماء اور مفسرین کے نزدیک بھی ذی الحجہ کے یہی دس دن ہیں ان کی عظمت وفضلیت رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان کی ہے ” افضل ایام الدنیا ایام العشر ” دنیا کے دنوں میں افضل ترین ذی الحجہ کے دس دن ہیں
اس عشرہ کو یہ مقام ومرتبہ اس لئے حاصل ہے کیونکہ اس میں ایسادن آتا ہے جو پورے سال کا سب سے افضل اور سب سے عظیم دن ہے اس عشرہ میں یوم عرفہ آتا ہے جو خاص رحمت کا دن ہے اسی طرح اس میں عیدالاضحٰی کا دن بھی آتا ہے جس کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ان اعظم الایام عنداللہ تعالی یوم النحر یعنی اللہ کے نزدیک سب سے عظمت والا دن قربانی کا دن ہے
ذی الحجہ کے دنوں میں نیک اعمال کا بہت ثواب ہے جو بندوں کے لئے ذخیرہ آخرت ہے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے قال ما من ایام اعظم عنداللہ ولا احب الیه العمل فیہن من هذه الایام العشر اللہ کے نزدیک اس نیک عمل سے جو بندہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں کرتا ہے کوئی بھی عمل پاکیزہ اور اجروثواب میں بڑھ کر نہیں
ان دنوں کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں نماز ، روزه، حج ، صدقہ ، قربانی اور ذکر واذکار جیسی بہت ساری عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں اور یہ خصوصیت کسی دوسرے وقت کو حاصل نہیں ارشاد باری تعالی ہے و پذکر اسم اللہ فی ایام معلومات ” تاکہ وہ معلوم دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ میں اللہ کا ذکر کریں سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام میں بکثرت ذکر کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا ہے ” فأکثرو فیهن من التھلیل والتکبیر والتحمید یعنی ان دنوں میں تہلیل یعنی لاالہ الااللہ تحمید یعنی الحمدللہ تکبیر یعنی اللہ اکبر اور تسبیح یعنی سبحان اللہ کثرت سے پڑھا کرو
حضرات گرامی ! ان بابرکت دنوں میں افضل اور مقرب عمل روزه کا اہتمام ہے لہذا اگر ہو سکے تو نودن ورنہ کم از کم عرفہ کے دن روزه رکھنے کا اہتمام کریں کیونکہ یوم عرفہ کے روزہ کی بہت فضیلت ہے اس سے پچھلے اور آئندہ ایک سال کے گناه ( صغیرہ ) معاف ہوتے ہیں
الغرض یہ دس دن بڑے بابرکت ہیں لہذا بندہ مومن جس کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور حصول جنت ہے اس کے لئے یہ بہت ہی نادر موقع ہے جو اللہ نے محض اپنی رحمت سے عطا فرمایا ہے اس کو غنیمت سمجھا جائے فضول کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے اپنی طاقت کے مطابق زیادہ سے زیادہ عبادت واطاعت ، ذکر وتلاوت ، تسبیح و مناجات اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔
عمران احمد ندوی












