سید مجاہد حسین
بھارت میں آئندہ سال 2024 میں عام انتخابات ہونے والے ہیں ،اس کے پیش نظرملک کی سیاسی پارٹیوں میں بھی سرگرمیاں زور پکڑ نے لگی ہیں۔اگر ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کے لئے دوڑ بھاگ کررہی ہیںاور میٹنگوں کا پروگرام طے کیا جارہا ہے تو وہیں دوسری جانب حکمراں جماعت بی جے پی بھی خود کوہر محاذ پر مضبوط کرنے کیلئے کمر بستہ ہو چکی ہے ۔2024 سے قبل بی جے پی کی کوشش ہے کہ اس کو پسماندہ مسلمانوں کا قرب نصیب ہو جائے اور اس کی راہ آسان ہوجائے۔اسلئےوہ اقلیتوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے دیوبند میں ایک بڑا پروگرام شروع کرنے جارہی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کا اقلیتی مورچہ اس میں اپنا اہم رول نبھائے گا ۔وہ ایسے لوگوں کو سرٹیفکیٹ فراہم کرے گا جو مودی کے کاموں سے خوش ہیں اور ان کی تعریف بھی کرتے ہیں !یہ الگ بات ہے کہ وہ کیڈر سے الگ رہے ہوں۔ بی جے پی دیوبند شہر میں سب سے پہلے ان لوگوں کا انتخاب کرے گی جن کو ’مودی دوست سرٹیفکیٹ ‘دئے جانے ہیں اور اس کا آغاز بھی یہیں سے کیا جائےگا۔قابل ذکر ہے بی جے پی اقلیتی محاذ نے اپنے پروگرام کے لیے ملک بھر میں 65 لوک سبھا حلقوں کا انتخاب کیا ہے۔ یہ 65 لوک سبھا حلقے 10 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہیں۔ ان سب میں اقلیتی آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ نے ان لوک سبھا حلقوں میں رابطہ بڑھانے کے لیے چار ماہ کا آؤٹ ریچ پروگرام شروع کیا ہے اور اب اپنی کامیابی پر اس کی نگاہیں ٹکی ہیں۔الغرض،بی جے پی اس کوشش سے اس کو کتنی کامیابی مل سکتی ہے اور کتنی نہیں ،اس بحث سے قطع نظر یہ سوال البتہ ضرور ذہنوں میںاٹھنے لگاہے کہ کیابی جے پی اپنی اس کوشش سے مسلمانوںکو لبھانے میں کامیاب ہو پائےگی ؟۔سیاسی مبصرین اس پر اپنی رائے دینے لگے ہیں اور وہ مسلمانوں اور بی جے پی کے سیاسی اور سماجی رشتوں کو کھنگالنے میں لگ گئے ہیں ۔مبصرین کا سیدھا سوال ہے کہ آخر بی جے پی نے یہ غلط فہمی کیوں پال لی ہے کہ مسلمان اس کو اپنا مسیحا سمجھ رہاہے اوران کے سامنے اس کے سواکوئی متبادل نہیں بچا ہے ؟کیا کرناٹک میں بی جے پی نے اپنا حشر نہیں دیکھا ہے ،کیا اس کواس سے قبل بنگال، جھارکھنڈ اور دہلی میں ہونے والے اسمبلی کے بعد ایم سی ڈی کے انتخابی نتائج یاد نہیں !اور آنے والے دنوں میں راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کیخلاف بنتےماحول پر کیا اس کی نظر نہیں گئی؟۔لہذا ایسے حالات میں مسلمان کیوں اور کیسے کانگریس کو چھوڑ کو بی جے پی کو گلے لگانے تیار ہوجائیںگے ،ان کی کیا مجبوری ہوگی ،وغیرہ وغیرہ ۔
در اصل بی جے پی کے’ مسلم دوست سرٹیفکیٹ تحریک ‘سے جہاں وہ خود اعتمادی کا اظہار کرناچاہتی ہے لیکن تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ 2024 میں عام انتخابات اس کو اپنی کامیابی کافی مشکل نظر آ رہی ہے۔
اور اس کی بوکھلاہٹ ابھی سے ظاہر ہونے لگی ہے۔اس لئے وہ سوچنے کو مجبورہو رہی ہے کہ مذہبی شدت پسندی کے ایجنڈے کو چھوڑ ،اب ایک نیا راستہ چنے اور اقلیتوں میں اعتماد کی بحالی پر کام شروع کردے ۔بظاہر یہ اس کے لئے آسان ضرور ہو لیکن سر دست اتنا آسان نہیں لگتا ۔در اصل مسلمانوں کے دلوں میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کے تعلق سے جوتصویراور نقوش پیوست ہیں وہ اتنی آسانی سے بھلائے جانے والے نہیں۔پارٹی شاید یہ بھول رہی ہے کہ زعفرانی لبادہ میںاس کے ستم مسلمانوں پر کچھ کم نہیں رہے !مسلمانوں کو، پچھلے نو سال کے عرصے میں ان کے ساتھ مذہبی زاوئے سے جو سلوک روا رکھا گیا،انہیں یہ اچھی طرح یا د ہے اور وہ زخم اب بھی تازہ لگتے ہیں!۔کچھ مخصوص فرمانبردار نیوز چینلوں پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ ،ماب لنچنگ کے واقعات ،دہلی کے2020 کے فسادات اور ان کے بعداقلیتوں کی یکطرفہ گرفتاریاں،بابری مسجد کا فیصلہ ،مظلومہ بلقیس بانو کیس کے گیارہ مجرموں کی رہائی ،گجرات فساد میں مارے گئے احسان جعفری کیس کا فیصلہ ، یکساں سول کوڈ قانون کا مدعا،قومی شہریت قانون کی مخالفت کی پاداش میں مسلمانوں کے ساتھ یکطرفہ کارروائی کاسلوک،حال ہی میںہریانہ میں ناصر اور جنید کے گاڑی سمیت جلادئے جانے کے دردناک قتل جیسے واقعات،مسلم نوجوانون کےخلاف غداری جیسی سخت دفعات کے تحت کارروائی اورعمر خالد جیسے نوجوانوں کی ایک ہزار دن سے بھی زیادہ جیل میں نظر بندی گرچہ بی جے پی پردہ ڈال دے لیکن مسلمانوں کے ذہنوں سے مٹنے والے نہیں ۔ ان سب کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کی اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتے ہوئے برقرار رکھی گئی خاموشی کے بعد یہ کیسے ممکن ہو سکتاہے کہ مسلمانوں کی ناراضگی اور زخموں کا’مودی دوست سرٹیفیکیٹ‘ دیکر مول بھائو کرلیا جائےگا ؟ہرگزممکن نہیں!،بی جے پی کو اپنا احتساب کرنا چاہئے اور تنہائی میں بیٹھ کرسوچنا چاہئے کہ کیا و ہ اپنے گناہوں پر توبہ کئے بغیر مسلمانوں کو اپنا بنانے میں کامیاب ہوجائےگی ؟












