ایسا لگتا ہے کہ 2024کے عام انتخاب سے قبل بننے والے حزب اختلاف کے محاذ کا خاکہ بننے سے قبل ہی کچھ اپوزیشن پارٹیاں اپنے اپنے اپنے مفاد کے حصول کے لئے کانگریس کا استعمال کرنا چاہ رہی ہیں ۔خاص طور پر ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی اور’آپ‘ سپریمو کجریوال ۔ہمارے قارئین جانتے ہیں کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے پٹنہ میں 23 جون کو ہونے والی میٹنگ نے دلچسپ صورت اختیار کر لی ہے ۔ دراصل اس مہاگٹھ بندھن سے پہلے ہی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کانگریس پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ یہ صاف کرے کہ آیا بنگال میں کانگریس کا کیا موقف ہوگا ،جبکہ کجریوال کا کہنا ہے کہ کانگریس دہلی سرکار کے سلسلے میں اپنا موقف میٹنگ کے پہلے یا میٹنگ میں ہی واضح کرے اور یہ بھی بتائے کہ آیا وہ دہلی اور پنجاب کے انتخابات کی قربانی دے سکتی ہے یا نہیں ۔اس بیچ یہ خبر آ رہی ہےکہ کانگریس جو اب تک خاموش بیٹھی نظر آ رہی ہے ، مہا گٹھ بندھن کے پلیٹ فارم پر ان دونوں لیڈروں کے خلاف جوابی کارروائی کی حکمت عملی تیار کر چکی ہے۔ دراصل اروند کجریوال چاہتے ہیں کہ کانگریس آرڈیننس پر اس کی حمایت کرے اور راجیہ سبھا میں بل کی مخالفت کرے۔
اس کے لیے وہ بضد ہے کہ کانگریس کو 23 جون کی میٹنگ میں ہی اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ اسی طرح کجریوال یہ بھی چاہتے ہیں کہ کانگریس دہلی اور پنجاب چھوڑ دے، اور اس کے بدلے میں’ آپ‘ راجستھان اور مدھیہ پردیش چھوڑنے پر غور کر سکتی ہے ۔ اسی طرح مغربی بنگال میں ممتا بنرجی بھی اپنی شرائط پر کانگریس کو آنکھیں دکھا رہی ہیں۔ حالانکہ کانگریس ابھی تک خاموش بیٹھی ہے۔ لیکن یہ خاموشی صرف باہر کی طرف ہے۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہے اور یہ بہت ممکن ہے کہ ممتا بنرجی اور کجریوال کو 23جون کی میٹنگ میں ہی کانگریس کی طرف سے مناسب جواب ملے گا۔
عالم یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت جس کے ساتھ 2024 کے انتخابی معاہدے کی بات کرنے جا رہی ہے، وہی جماعتیں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف مسلسل حملہ آور ہیں بلکہ دباؤ بھی بنا رہی ہیں۔ ایسے میں کانگریس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انہیں کب اور کیسے جواب دینا ہے۔ اس کے لیے پارٹی نے اپنی جانب سے مکمل تیاریاں کر لی ہیں۔ کانگریس کے ترجمان اجے کمار کا کہنا ہے کہ ممتا اور کجریوال مودی کی طرز پر چلتے ہوئے سمجھ رہے ہیں کہ کانگریس ان ریاستوں میں کام کرنا بند کر دے جو کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تمام ریاستی حکومتوں کو اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مودی حکومت اور ان کی حکومت میں کچھ فرق ہے ۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو پنجاب میں AAP اور بنگال میں ترنمول کا رویہ مودی حکومت جیسا ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی اور کجریوال کو یاد دلایا جائے گا کہ انہوں نے مختلف ریاستوں میں الیکشن لڑ کر بی جے پی کو کس طرح فائدہ پہنچایا ہے۔ کیسے ممتا بنرجی کجریوال نے آرٹیکل 370، نائب صدر جیسے مسائل پر اپوزیشن سے مختلف موقف اپناتے رہے۔ اس سے بی جے پی حکومت کو مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں آرڈیننس کی حمایت حاصل کرنے سے پہلے انہیں مستقبل کے لیے ان تمام مسائل کو بھی صاف کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم کجریوال کے مطابق نہیں بلکہ اپنے مطابق صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد مزید ملاقاتیں ہوں گی۔ سال کے آخر تک اتحاد کی شکل سامنے آئے گی، تب پتہ چلے گا کہ اس میں کون ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر کانگریس تمام اپوزیشن جماعتوں کو مودی ہٹاؤ جیسے نعروں پر کام کرنے کے بجائے عوام سے جڑے مسائل، پروگراموں اور پالیسیوں کی بنیاد پر سیاسی لڑائی لڑنے کا مشورہ دے گی۔
یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کہ کانگریس بہت زیادہ جوش میں نہیں ہے ، اسے معلوم ہے کہ نریندر مودی کا مرکزی اقتدار پر قابض رہنا صرف کانگریس کے لئے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ اس سے پورے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔اور علاقائی سیاسی پارٹیوں کے تو وجود پر ہی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ایسے میں اگر ان کے پاس ایک موقع ہے جس میں کانگریس بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے اور آج بھی وہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے تو اسے اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لئے علاقائی پارٹیاں بلیک میل کرنے کی جو کوشش کر رہی ہیں یا اس کی کوشش میں ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ چاہے ترنمول کانگریس ہو یا عام آدمی پارٹی اس کو جمہوریت کو بچانے سے زیادہ اپنا قد بڑھانے کی فکر ہے ۔اور مجھے نہیں لگتا کہ ایسی پارٹیوں کے ساتھ محاذ بنانے کے بعد بھی کانگریس زیادہ دیر یا دور تک ان کے ساتھ چل سکتی ہے ۔
(شعیب رضا فاطمی)












