جبیں نازاں
______________________
سنا ہے تیری محفل میں رتجگا ہے
——————————
سیاسی حلقوں میں اس اجلاس کو "تاریخی تحریک” سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔۔اس تحریک کے روح رواں نتیش کمار ہیں ، جو گذشتہ کئی مہینوں سے ایک عظیم الشان کے لیے مسلسل کوشاں تھے- کافی جدوجہد اور انتھک محنت کے بعد اپوزیشن کی تقریباً تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کو ایک میز پر متحد کرنے میں کامیاب رہے _
امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بہوجن سماجوادی کی صدر مایا وتی ۔۔تلنگانہ کے کے سی آر ۔۔۔۔ وغیرہ بھی حکمراں جماعت کے خلاف صف آرا جماعت میں شمولیت اختیار کرلیں گے ۔۔وہ ابھی اپنے لیے ہموار میدان کی تلاش میں ہیں ۔۔
بہرحال! اپوزیشن جماعتوں کے اہم سرکردہ27 عظیم رہنماؤں کی شرکت( خیال رہےان میں پانچ ریاست کے وزیر اعلی بھی شریک ہیں )اپنے آپ میں انتہائی مثبت فکری نہج کو واضح کرتا ہے –
یہ اتحاد ایسا اتحاد کہ جہاں رہنماؤں کی اکثریت نے یہ پیغام عوام کو دینے کی کوشش کی کہ ہم اپنے مفاد پس پشت ڈال کر حکمراں جماعت کو شکست دینے کےلیے کمر بستہ ہیں – اپنا نقصان ہمیں گوارا ہے – لیکن ملک کی جمہوریت ۔ملک کی آئین۔ ملک کے بنیادی ستون کی مسماری ہمیں ہرگز گوارا نہیں ۔۔
موجودہ حکمراں نے غیر اعلان شدہ ایمر جینسی لگا رکھی ہے ۔۔جو اعلان شدہ ایمرایجینسی سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہی ہے –
یہ حکومت نعرہ دیتی ہے "بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ”
لیکن بیٹیاں کھلے آسمان تلے مئ جون میں تپائی جارہی ہیں’ برسات میں بھیگائی بھی جائیں تو تعجب نہیں ۔جنتر منتر پر بیٹھی ہوئی پہلوان بیٹیاں جنھوں نے پوری دنیامیں اپنی کارکردگی سے ہندستان کا علم لہرایا ، آج اپنے ملک کے قائم کردہ نظام سے لڑرہی ہیں ۔۔آج ہمارے وزیر اعظم کو ان بیٹیوں سے زیادہ اس ملزم کی ضرورت ہے ۔۔جس پر کئ ایف، آئی آر درج ہیں ۔۔
ڈیڑھ ماہ سے منی پور جل رہا ہے ۔”عوام پوچھ رہے ہیں یہ آگ کب بجھے گی !” وزیر اعظم امریکہ میں جاکر جواب دے رہے ہیں کہ ملک ہندستان امن و آشتی کا دیس ہے ۔۔نسلی تشدد ۔۔۔۔۔
شاہین باغ ، کسان تحریک ‘ اب جنسی تشدد کی شکار پہلوان بیٹیاں ، اس حکومت کی دین ہے – مہنگائی ‘ بےروزگاری’ کے علاوہ ۔۔۔
ملک کی صورت حال کے تناظر میں اپوزیشن جماعتوں کا متحدہونا وقت کی اہم ضرورت ہے _ اس اتحاد کی یہ پہلی کڑی تھی ‘ اگلے ماہ شملہ میں دوسرا اجلاس متوقع ہے –
اگر تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پہ متفق ہوجائیں کہ جس انتخابی حلقے میں جو سیاسی جماعت مستحکم ہے اسی جماعت کے امیدوار کو انتخاب میں موقع دیا جائے ۔۔ایک بوتھ ایک امیدوار،بمقابل حکمراں ۔تبھی حکمراں جماعت کو شکست دی جاسکتی ہے ۔۔بچپن میں ہم سب نے یہ کہانی پڑھ اور سن رکھی ہے ۔۔کہ تنہا شکاری جتنا بھی طاقتور ہو۔اگر پرندوں میں اتحاد ہو تو وہ جال لے کر اڑ جاتا ہے ۔۔شکاری ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے – ڈسکوری میں ہم نے دیکھا ہے ۔۔جب ہرن میں اتحاد ہوتا ہے تو شیر ناکام ہوجاتا ہے –
68%ووٹ کا بکھراؤ 32% کے ہاتھ اقتدار سپرد کردیتا ہے _ اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی 68% کو بکھرنے نہیں دینا ہے – آپسی رنجشیں , چھوٹے موٹے مفاد کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ۔ملک وعوام کے بہتر مستقبل اور فائدوں کی خاطر ۔۔۔
جس طرح 23/جون کے اجلاس کے پریس کانفرنس میں دیکھا گیا اروند کیجریوال غائب رہے ۔۔جس پر راہل گاندھی نے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا ۔۔
دوسری طرف حکمراں جماعت میں بے چینی دیکھی گئ جہاں خواتین و اطفال کے فلاح وبہبود کی مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نےپریس کانفرنس میں جس اس اجلاس کا تذکرہ کیا ۔۔ بی جے پی خیمہ کی گبھراہٹ ظاہر کرتی ہے ۔۔۔
وہیںوزیر داخلہ امت شاہ نے ایک ریلی میں کہا کہ "پٹنا میں فوٹو سیشن چل رہا ہے” اور بی جےپی جماعت کے صدر جے پی نڈا نے کہا کہ ۔ایسی بارات ہے جس میں دولہا ہے نہیں ۔۔۔
جب راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو لالو پرساد یادو نے اپنے مخصوص لب ولہجہ، مزاحیہ انداز میں راہل گاندھی کو مشورہ دیا ۔۔اب آپ کو شادی کر لینی چاہئے ۔۔تاکہ ہم لوگ باراتی بنیں ۔۔آپ کی ممی کی بھی خواہش ہے ۔۔راہل گاندھی نے ہنس کر ٹال دیا ۔۔وہاں موجود تمام راہنما بے ساختہ ہنس پڑے ۔۔۔جسے دیکھ کر واقعی حکمراں جماعت گنگنا اٹھی ۔۔
"ساقیا ! آج مجھے نیند نہیں آئے گی ۔۔۔۔ ”
بہر حال ! سیاسی فقرہ بازیوں سے ذرا الگ ہٹ کر ہمیں سوچنا چاہیے!
دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ اپوزیشن جماعتیں 23/جون کے اجلاس میں پیش کردہ خاکہ پر عمل پیرا ہوتی ہیں یا نہیں –
وہ ملک و عوام کے وسیع تر مفادات کے تئیں واقعی سنجیدہ ہے ، ۔۔یا انھیں اپنا مفاد عزیز ہے ۔۔۔؟












