شملہ/لکھنئو:شمالی بھارت میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے ،کئی ریاستوں کے حالات ابتر ہیں۔ اتر پردیش میں موسلا دھار بارش اور خراب موسم کیوجہ سے جانی نقصان کی خبر ہےریاست میںابتک 34 لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔اس جانی اور مالی نقصان پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں آسمانی بجلی گرنے، پانی میں ڈوبنے اور موسلادھار بارش سے ہوئے جانی نقصان پرافسوس ظاہر کیا اور متوفیوں کے افراد خاندان کو چار چار لاکھ روپے کی امدادی رقم فوری تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ریاست اترپردیش میں ریلیف کمشنر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں
کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 17، پانی میں ڈوبنے سے 12 اور موسلا دھار بارش کی وجہ سے 5 لوگوں کی موت ہوئی۔ باغپت،اٹاوہ، اناؤ، آگرہ اور بلیا میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ایک، جالون، کانپور دیہات، قنوج اور غازی پور میں دو دو اور مین پوری میں چار افراد کی موت ہوئی۔ سنت کبیر نگر میں ایک، بدایوں میں دو، بریلی میں چار اور رائے بریلی میں پانچ افراد کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی۔ ایٹہ، قنوج اور کوشامبی میں ایک ایک اور مظفر نگر میں دو افراد کی موت زیادہ بارش کی وجہ سے ہوئی ہے۔ادھر ہماچل پردیش میں گذشتہ تین دنوں سے مانسون کا بھیانک روپ دیکھنے کو مل رہا ہے، ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ حالات بے قابو ہو چکے ہیں۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے آبی ذخائر کو یکجا کر دیا ہے۔ ہماچل میں موسلادھار بارش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ پیر کی دوپہر تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چھ اضلاع میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ بارش کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس دوران لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے چھ قومی شاہراہوں سمیت 828 سڑکیں بند ہیں۔ اسی طرح 4686 پاور ٹرانسفارمر اور 785 واٹر اسکیمیں بند ہیں۔ منالی، سولن اور روہڑو میں بارش نے گذشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔درحقیقت ہماچل پردیش میں مسلسل تیسرے دن بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ موسلا دھار بارش کی وجہ سے ریاست میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بارش کے پیش نظر حکومت نے تمام تعلیمی اداروں میں پیر اور منگل (10 اور 11 جولائی) کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہماچل ہائی کورٹ اور تمام ضلعی عدالتوں میں بھی پیر کو چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔
موسمیاتی مرکز شملہ کے سائنسدان سریندر پال نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے میں بھی شدید بارش کا امکان ہے۔ چھ اضلاع چمبہ، کلو، شملہ، سرمور، سولن اور منڈی میں سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ جولائی کے مہینے میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران منالی، سولن اور روہڑو میں ہونے والی بارش نے گذشتہ 50 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
شملہ ضلع میں کل 9 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ کوٹ گڑھ، ٹھیوگ اور نیوز شملہ میں 24 گھنٹے میں 4 لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔ یہ تمام لینڈ سلائیڈنگ مکانات پر ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے کوگڑھ کے ٹھیوگ میں والدین، بیٹا اور پانچ افراد اور نیوز شملہ میں ایک لڑکی کی موت ہو گئی۔ کلّو کے نرمنڈ میں ایک کار حادثے میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی۔ چمبہ اور کلّو میں بھی خواتین اور مردوں کی موت ہوئی ہے۔ منڈی اور کلو میں تباہی ہوئی ہے۔ چنڈی گڑھ منالی نیشنل ہائی وے بند ہے۔ لیہہ منالی، شملہ ہاٹ کوٹی روہڑو سمیت چھ شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
ہماچل پردیش میں گذشتہ 48 گھنٹے سے جاری موسلادھار بارش سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وزیر اعلی ٹھاکر سکھویندر سنگھ سکھو ذاتی طور پر راحت اور بچاؤ کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں اور ریاست اور ضلع انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، تاکہ ہنگامی صورت حال میں لوگوں کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ اتوار کی شام وزیر اعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنروں سے بات کی اور متعلقہ اضلاع میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کرنے کی ہدایات دی۔ وزیر اعلیٰ نے صبح 4 بجے تک امدادی کارروائیوں پر نظر رکھی اور مختلف مقامات پر پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے حکام کو ضروری ہدایات دے رہے ہیں۔












