بنگلورو میں 26اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ
اختلافات کو حاشیہ پر رکھ کر عام انتخابات میں بی جے پی کو مرکز سے بے دخل کرنے کی طے ہوگی حکمت عملی
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سمیت اروند کجریوال کا کرناٹک میں پرتپاک استقبال
کرناٹک سے بی جے پی کا زوال شروع ہو چکا ہے ،2024انتخابات بی جے پی نہیں جیت سکے گی :سدھا رمیا
نئی دہلی ،17جولائی ،سماج نیوز سروس :عام انتخابات 2024 میں اپوزیشن جماعتوں نے مرکز سے بی جے پی کو بے دخل کرنے کا پختہ عزم کیا ہوا ہے ،اپنی اسی حکمت عملی کے تحت اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس حوالے سے 17اور 18جولائی کا دن کافی اہم مانا جارہا ہے ۔کل (آج)کرناٹک کے شہر بنگلورو میں اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہونی ہے جہاں لیڈروں کا پہنچناشروع ہو چکا ہے ۔آج کانگریس اور دیگر جماعتوں کے لیڈران بنگلورو پہنچے جہاں وزیر اعلیٰ سدھا رمیا نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا ۔مانا جار ہا ہے کہ پٹنہ میں ہوئی اپوزیشن جماعتوں کی پہلی میٹنگ میں ادھورےمدعوں پر اب بنگلورو میں بات ہوگی۔کانگریس کے ٹوئٹر ہینڈل سے کانگریس کے ان تینوں اہم لیڈران کا ایچ اے ایل ایئرپورٹ پر شاندار استقبال کیے جانے کی تصویریں پوسٹ کی گئی ہیں۔آج وزیر اعلیٰ کرناٹک نے کانگریس صدر کھڑگے اور محترمہ سونیا گاندگی کا بنگلورو میں پرتپاک انداز میں خیر مقدم کیا ۔ بتادیں کہ بنگلورو میں یہ میٹنگ پٹنہ میں بی جے پی مخالف سیاسی محاذ بنانے کے لیے گزشتہ ماہ ہونے والے اس طرح کے پہلے اجتماع کے بعد منعقد ہو رہی ہے ۔جبکہ یہ شملہ ،ہماچل پردیش میں ہونے والی تھی لیکن خراب موسم کا سامنا کررہے ہماچل میں اس کو منعقد نہیں کیا جاسکا اور اسے بنگلورو منتقل کردیاگیا۔پٹنہ میں اپوزیشن جماعتوں کا فیصلہ تھا کہ سیٹوں کے بٹوارے پر بات چیت کا دور شملہ میں منعقد کیا جائے گا ۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ سیٹوں کی تقسیم، ممکنہ مشترکہ پروگرام اور مرکز میں بی جے پی حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرنے کی حکمت عملی پر میٹنگ میں اتفاق رائے ممکن ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے علاوہ اروند کجریوال بھی بنگلورو پہنچ بھی چکے ہیں۔بتادیں کہ اس میٹنگ میں کم و بیش 26اپوزیشن جماعتیں شریک ہونگی ۔ یہ سبھی بی جے پی اور مودی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں سے ناراض ہیں۔ان کا مقصد بی جے پی کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اسے عام انتخابات میں اقتدار سے بے دخل کرنا ہے ۔لہذا سبھی کی یہ کوشش ہوگی کہ پٹنہ میں ہوئی میٹنگ کے سلسلہ کو آگے بڑھایا جائے اور عام انتخابات سے قبل پارٹیوں کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔دریں اثنا کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھا رمیا نے کہا ہے کہ کرناٹک سے بی جے پی کا زوال شروع ہو چکا ہے ،2024انتخابات بی جے پی نہیں جیت سکے گی۔وہیں کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے اس میٹنگ کے تعلق سے کہا ہے کہ آج ملک میں کئی اہم مسائل ہیں۔ ہم اقتدار کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت بچانے کے لیے ساتھ آئے ہیں۔ ہم اسی میٹنگ میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے لیے پالیسی پر بھی غور و خوض کریں گے۔ یہ میٹنگ گیم چینجر ثابت ہوگی۔بنگلورو میں ہو رہی میٹنگ کے پیش نظر آپ کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے اتحاد کو دیکھ کر بی جے پی کی نیند اڑ گئی ہے۔ حالانکہ ابھی تک یہ پتہ نہیں چلا ہے کہ آپ کی طرف سے میٹنگ میں شرکت کے لیے کون شرکت کرےگا۔بتا دیں کہ دہلی میں افسران کی پوسٹنگ اور تقرریوں کے حوالے سے مرکز کا دہلی حکومت کے خلاف آرڈیننس پر عام آدمی پارٹی کی حکومت نے کانگریس سے حمایت کی اپیل کی تھی جس پر کانگریس نے اس کو حمایت دےنے کا وعدہ کیا ہے ۔وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کانگریس کے اس وعدے پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا شکریہ ادا کیا ہے ۔حمایت نہیں دینے کی صورت میں اروند کیجروال نے اپوزیشن کی میٹنگ میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ااج کی میٹنگ کے حوالے سے جے رام رمیش نے کہا ہے کہ آفیشیل میٹنگ 18جولائی کو ہوگی ۔ میٹنگ میں این سی پی سربراہ شرد پوار اپنی بیٹی سپریا سولے کے ساتھ بنگلورو پہنچیں گے۔بہر کیف، اہم بات یہ ہے کہ اس وقت جب کہ کرناٹک میں اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہورہی ہے ،نئی دہلی میں 18جولائی کو اشوکا ہوٹل میں این ڈی اے کے لیڈروں کی ایک بڑی میٹنگ منعقد ہونے والی ہے ۔لہذااس میٹنگ کو کئی معنوں میںکافی اہم مانا جارہا ہے ۔کہا یہ بھی جارہاہے کہ این ڈی اے میٹنگ کے ذریعہ قوت بازو کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اپوزیشن کے فیصلوں کو پست کیا جاسکے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہا ہے کہ این ڈی اے کی میٹنگ مین28جماعتیں حصہ لیںگی۔اپوزیشن کی میٹنگ پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے جے پی نڈا کہا کہ اپوزیشن کے پا س نہ تو لیڈرہیں نہ کوئی نظریہ ہے۔












