نئی دہلی :23اکتوبر /سماج نیوز سروس:انڈیا اتحاد کی پارٹیوں کے مابین اختلاف کی خبروں کے درمیان یہ افواہ بھی اڑ رہی ہے کہ ممتا بنرجی اور اروند کیجریوال بہت جلد انڈیا محاذ سے الگ ہونے والے ہیں ۔یہ دونوں لیڈران بی جے پی سے سہم گئے ہیں ۔اور وہ درپردہ بی جے پی کے ساتھ ہیں بھلے ہی وہ این ڈی میں شامل نہ ہوں ۔لیکن پہلے تو کانگریس نے سماج وادی پارٹی سے بات کر کے اپنے اختلاف ختم کئے اور اب آج کیجریوال نے بھی مودی حکومت کے خلاف بیان دے کر اپنے ارادے ظاہر کرتے ہوئے گودی میڈیا کے ذریعہ اڑائے جانے والے افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے ۔عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ 2024 میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا سب سے بڑی حب الوطنی ہے۔ بی جے پی نے ملک کی ترقی کا ایک بھی کام نہیں کیا ہے۔ آج ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور…کرپشن تین بڑے مسائل ہیں۔لیکنبی جے پی نے ان تینوں کے لیے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ اب تک ملک میں کہا جا رہا تھا کہ ان کا کوئی متبادل نہیں لیکن اب انڈیا اتحاد وجود میں آ چکا ہے۔ یہ لوگوںکے لئے ایک بہت بڑا آپشن ہے۔دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اب ہمیں خود محنت کرنی ہوگی۔ جب سے انڈیا اتحاد بنا ہے، مجھے بہت سے لوگوں کے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ اگر یہ اتحاد زندہ رہا تو 2024 میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت نہیں بنے گی۔ اس لیے آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ہر گھر میں جائیں اور اپنے دوستوں، اپنے لوگوں، اور اپنی کالونی کے لوگوں سے بات کریں۔کیجریوال نے کہا کہ اندھے عقیدت مندوں کے ساتھ نہ الجھیں۔ ایک محب وطن آپ کی بات سنے گا اور آپ سے بات کرے گا۔ جو اندھا عقیدت مند ہے اس کا ملک سے کوئی تعلق نہیں، وہ ایک آدمی کی محبت میں گرفتار ہے اور صرف دو منٹ میں یہ پتہ چل جاتا ہے کہ کون محب وطن ہے اور کون اندھا عقیدت مند ہے۔ ‘جو اندھا عقیدت مند ہے وہ محب وطن نہیں ہو سکتاانہوں نے مزید کہا کہ جو اندھا عقیدت مند ہے وہ محب وطن نہیں ہو سکتا اور جو محب وطن ہے وہ اندھا عقیدت مند نہیں ہو سکتا۔ دونوں الگ الگ ذاتیں ہیں۔ اندھے عقیدت مند آپ کی بات نہیں سننے والے، ایسے میں آپ کو ان لوگوں سے بات کرنی ہوگی جو محب وطن ہیں اور لوگوں کے گھر گھر جا کر بات کریں۔ انڈیا اتحاد 2024 کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔کیجریوال نے کہا کہ دوسری پارٹیوں کے لوگ اکثر ان کے علاقے میں غنڈہ گردی کرتے اور بدسلوکی کرتے نظر آتے ہیں، اس لیے لوگ انہیں پسند نہیں کرتے۔ ہماری پارٹی کے رضاکار بہت مہذب لوگ ہیں۔ یہی عام آدمی پارٹی کی پہچان ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024 کے الیکشن آنے والے ہیں۔ ملک کے عوام نے 2014 اور 2019 میں بی جے پی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا تھا۔ اگر بی جے پی کے لوگ چاہتے تو ملک کو بے پناہ ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے تھے لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا ماحول چاروں طرف سے بہت خراب ہو چکا ہے۔ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اس سے پہلے معاشرے میں اس قدر پولرائزیشن کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اتنی لڑائیاں، غنڈہ گردی، کرپشن اور لوٹ مار کبھی نہیں دیکھی گئی۔ کہیں بھی امن نظر نہیں آتا۔اور امن نہ ہو تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس وقت ملک کا کوئی طبقہ ان سے خوش نہیں ہے۔ ہر کوئی اداس ہے۔ انہوں نے ملک کی معیشت سمیت سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سب سے بڑی حب الوطنی انہیں 2024 میں اقتدار سے ہٹانا ہے۔ تب ہی ملک ترقی کرے گا۔انہوں نے جو فیصلے کئے ، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ فیصلے کیوں کیے گئے ۔ وہ فیصلے کرتے ہیں یا ان کی جگہ کوئی اور فیصلہ کرتا ہے۔ جب نوٹ بندی ہوئی تو بہت سی افواہیں تھیں کہ بہت زیادہ بدعنوانی ہو رہی ہے۔ 30-30 فیصد کمیشن لے کر نوٹ بدلے جا رہے ہیں۔ عام لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں لیکن بڑے لوگوں کے پچھلے دروازوں سے نوٹ بدلے جا رہے تھے۔ سات سال بھی نہیں گزرے تھے کہ انہوں نے دو ہزار روپے کے نوٹ بھی بند کر دیے۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا کہ وہ دو ہزار روپے کا نوٹ کیوں لے کر آئے تھے؟ اس قسم کی ڈیمونیٹائزیشن دنیا کے کسی ملک میں نہیں دیکھی گئی۔ 2016 میں نوٹ بندی کی وجہ سے، ہندوستان کی معیشت کم از کم 10 سال پیچھے چلی گئی ہے۔ لوگوں کے کاروبار، کارخانے اور بزنس بند ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج پورے ملک کے تاجر غمزدہ ہیں اور سب کہتے ہیں کہ پہلے کاروبار اچھا چلتا تھا۔ اب کاروبار کو زبردست نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے پہلے نوٹ بندی کی اور پھر جی ایس ٹی لائے۔












