بھوپال، 30 اکتوبر : کانگریس کی ترجمان اور پارٹی کے سوشل میڈیا ڈپارٹمنٹ کی ترجمان سپریہ شرینیت نے مدھیہ پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت پر شرح نمو میں مبینہ طور پر گھپلہ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران محترمہ سپریہ شرینیت نے کہا کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ 18 سال میں بڑے بڑے گھپلے کئے لیکن اب حکومت نے ریاست کی ترقی کی شرح کے ساتھ بھی گھپلہ کیا ہے ۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے الزام لگایا کہ ترقی کی شرح میں تقریبا 2.5-2 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے . اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ ترقی دکھا کر قرضے لیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے نیتی آیوگ کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش کے تقریباً 35 فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے ہیں۔مدھیہ پردیش میں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق 5 سال سے کم عمر کے 37 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اجولا یوجنا گیس کنکشن ان لوگوں کو دیے گئے جو خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ایسے خاندانوں کی تعداد 82 لاکھ ہے ۔ وزارت زراعت کی پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش میں ایک کسان روزانہ 55 روپے کماتا ہے ۔ یعنی تمام صحت اور سماجی انڈیکس بتاتے ہیں کہ ریاست کو غربت کے گڑھے میں دھکیل دیا گیا ہے ۔کانگریس کی ترجمان نے اپنی بات کی تائید میں کئی مبینہ ثبوت بھی پیش کئے ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ وباکے اثرات نے 2020-21 اور 2021-22 میں مدھیہ پردیش سمیت پورے ملک کی معیشت کو گہرا دھچکا پہنچایا ہے ۔ مدھیہ پردیش کی ترقی کی شرح -3.37 فیصد تک گر گئی تھی۔ انہوں نے حکومت پر قرضے لینے اور بدعنوانی میں خرچ کرنے کا بھی الزام لگایا۔












