ستنا، 9 نومبر : وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک بر پھر بدعنوانی کے معاملے پر کانگریس پرزور دار حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے بدعنوانی کے دور میں بچولیوں کی موج تھی، لیکن پارٹی کی بدقسمتی تھی کہ عوام نے 2014 میں دہلی میں ایک ‘چوکیدار’ بیٹھا دیا، جس نے کانگریس کی ان تمام سرگرمیوں پر تالا لگادیا۔مسٹر مودی مدھیہ پردیش کے ستنا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ریاستی انتخابات میں ہر ووٹ تری شکتی کی طاقت سے بھرا ہوا ہے ۔ ایک ووٹ یہاں دوبارہ بی جے پی کی حکومت بنانے جا رہا ہے ، وہی ووٹ دہلی میں مودی حکومت کو مضبوط کرے گا اور وہی ووٹ بدعنوان کانگریس کو مدھیہ پردیش کی حکومت سے سو کوس دور لے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ووٹ سے تین کمال ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس بار ریاستی انتخابات بہت دلچسپ ہیں۔ اس بار ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مائیں بہنیں کرنے والی ہیں۔ ووٹنگ میں ابھی دن باقی ہیں لیکن اس سے پہلے ہی کانگریس کے جھوٹ کا غبارہ پنکچر ہو کر پھٹ گیا ہے ۔ اس کی ہوا نکل گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب غبارے کی ہوا نکلتی ہے تو وہ ادھر ادھر جاتا ہے ، کانگریس لیڈروں کا بھی یہی حال ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں وہ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں عظیم الشان شری رام مندر کی بات ہوتی ہے ۔ اسی سلسلے میں، سندرکانڈ کی لائن’رام کاجو کنہیں بنو، موہی کہاں وشرم’ کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ یہ سطر ان کے ذہن میں بار بار آتی ہے اور انہیں متاثر کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت جس عیقدت سے رام مندر بناتی ہے اسی لگن سے چار کروڑ گھر بناتی ہے ۔ اگر حکومت ایک عظیم الشان پارلیمنٹ کمپلیکس بناتی ہے ، تو 30 ہزار پنچایتوں کی عمارتیں بھی اسی آئین کی تعظیم کے ساتھ بناتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 3 دسمبر کو بی جے پی کی حکومت واپس آنے کے بعد پردھان منتری آواس یوجنا پر کام میں مزید تیزی آئے گی۔ اگر عوام نے غریب کے بیٹے کو دہلی بھیجا ہے تو وہ غریبوں کے لیے کام توکرے گاہی۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے چار کروڑ گھر بنائے ، لیکن اپنے لیے گھر نہیں بنایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے عوام کا پیسہ 2جی، کوئلہ، دولت مشترکہ، ہیلی کاپٹر گھوٹالوں میں جاتا تھا، لیکن جیسے ہی بی جے پی کی حکومت آئی مودی نے یہ سب روک دیا۔اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ کانگریس کیسے غریبوں کا حق چھینتی ہے ، اس کی مثال فرضی مسفیدین گھوٹالہ۔ جتنی مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی آبادی ملا کرہے ، کانگریس نے ملک میں اتنے فرضی فائدہ اٹھانے والے بناکر پیدا کردئے تھے ۔ تقریباً 10 کروڑ نام ایسے تھے جو درحقیقت پیدا نہیں ہوئے تھے لیکن کانگریس حکومت ان کے ناموں پر پیسے نکالتی تھی اور یہ رقم پارٹی والوں کی جیبوں میں جاتی تھی۔ غریب کو راشن کی دکان پر پہنچنے پر معلوم ہوتا کہ اس کا راشن کوئی اور لے گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کانگریس کی بدقسمتی ہے کہ 2014 میں عوام نے دہلی میں چوکیداربیٹھا دیا اور کانگریس کے فرضی فائدہ اٹھانے والے اسکام پر بریک لگ گیا۔ حکومت نے 100 کروڑ فرضی مستفیدین کو باہر کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا اتنا بڑا نقصان ہوگیا، اسی لیے وہ انہیں اتنی گالیاں دیتے ہیں۔عوام سے اپیل کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ کانگریس جہاں بھی آئی تباہی ہی لے کر آئی۔ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو بی جے پی حکومت کی تمام عوامی فلاحی اسکیمیں بند ہوجائیں گی۔مدھیہ پردیش کانگریس کے دونوں بڑے لیڈر کمل ناتھ اور دگ وجے سنگھ کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ کانگریس چلا رہے یہ دونوں اب ‘کپڑا پھاڑ’ لیڈر بن گئے ہیں۔ انہیں صرف ریاستی کانگریس پر اپنے بیٹوں کو قبضہ کروانا ہے ۔












