شعیب رضا فاطمی
فلسطین میں اسرائیل کا آپریشن جاری ہے اور اس نے ساری دنیا کے ان ممالک کو ٹھینگا دکھا کر اپنا آپریشن جاری رکھا ہے جو انسانی جانوں کے اطلاف پر کئی اسلامی ممالک کو تباہ وبرباد کر چکے ہیں ۔
اسرائیل حماس جنگ کے دوران ایک بار پھر یہ بات ساری دنیا کے سامنے کھل کر آگئی کہ اس دنیا کو چند ممالک ڈنڈے کے زور پر چلاتے رہے ہیں اور ان دنوں یہ ڈنڈا امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہے ۔یو این او ان دونوں ممالک کے خلاف عالمی برادری کی طرف سے بننے والے پریشر کو بھاپ کی شکل میں اڑانے کا کام کر رہا ہے ۔ساری دنیا کی آنکھوں کے سامنے حماس کو ختم کرنے کے نام پر اسرائیل کی حیوانی فوج گذشتہسوا مہینے سے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے لیکن دنیا کے ممالک میٹنگ اور مذمتی قرار داد سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ۔یہ سب اسی دنیا میں ہورہا ہے جس د نیا میں نائن الیوین کے بعد ترقی یافتہ کہے جانے والے امریکی پٹھو ممالک افغانستان کے ذرے ذرے کو روندنے کے لئے نکل پڑے تھے ۔اسر دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کو کھنڈہر بنا دیا تھا ۔لیکن یہ سب اس لئے ممکن ہوا تھا کہ زخم خود امریکہ کو لگا تھا اور زخم لگانے کا الزام بن لادین پر لگا تھا ۔
دنیا میں ابھی بہت سے سفید پوش ممالک ایسے ہیں جو کہتے رہتے ہیں کہ حماس نے اسرائیل پر حملہ کرنے میں پہل کی ہے اور اسرائیل اس کا انتقام لے رہا ہے ۔لیکن یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو سرعام بولا جا رہاہے ۔کیا اسرائیل 7اکتوبر کے پہلے ایک پر امن ملک تھا اور فلسطینیوں کے ساتھ اس کے خوشگوار تعلقات تھے ؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسرائیل اپنے متعین حدود کو ربڑکی طرح پھیلاتا نہیں جا رہاہے ؟
کیا یہ بھی جھوٹ ہے کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کے لئے اسرائیل نے ان کی زمین کو جیل میں تبدیل نہیں کر دیا ہے ؟
کیا یہ بھی سچ نہیں ہے کہ جب سے اسرائیل کا وجود عمل میں آیا ہے اسرائیلی فوج نے لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی مسلمانوں کو موت کی نیند نہیں سلایا ہے ؟
اور پھر بھی اگر دنیا یہ کہے کہ اسرائیل پر حماس کا حملہ جنگ کو ہوا دینے کی حماقت تھی تو پھر ایسا کہنے والوں کو ہم سوائے ظالم کے اور کچھ نہیں کہ سکتے ۔اب یو این او کا ایک تازہ ڈرامہ سامنے آیا ہے ۔خبر ہے کہ
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے بتایا ہے کہ انہیں پانچ ممالک کی طرف سے فلسطینی علاقوں کی صورت حال کی تحقیقات کے لیے درخواست موصول ہوئی ہے۔ کریم خان نے کہا کہ درخواست جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، بولیویا، کوموروس اور جبوتی کی طرف سے دی گئی ہے۔
یاد رہے آئی سی سی پہلے ہی 13 جون 2014 سے جنگی جرائم کے سلسلے میں ریاست فلسطین کی صورت حال سے متعلق تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔لیکن ان ساری تحقیقات کے نتائج کب سامنے آئینگے ؟اور کیا ان اداروں کے ذریعہ قائم کی گئی ان کمیٹیوں کے اندر اتنی ہمت ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی سخت کاروائی تو دور اسے ظالم بھی کہ سکیں ۔جبکہ ساری دنیا کی آنکھوں کے سامنے
سات اکتوبر سے اسرائیل مسلسل غزہ کی پٹی پر بمباری کر رہا ہے اور جس سے ان 42 دنوں میں 12000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ بمباری سے اسکول، ہسپتال اور پناہ گزین کیمپ کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں طبی عملے کے 200 ڈاکٹر، نرسز اور پیرامیڈیکس بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی جارحیت میں سول ڈیفنس کے 22 اہلکار اور 51 صحافی بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 3,750 سے زیادہ ہو گئی ہے جن میں 1,800 بچے بھی شامل ہیں جو ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
لیکن ان تمام حقائق کی موجودگی کے باوجود دنیا کے ممالک ابھی تحقیقات ہی کر رہے ہیں ۔
اور یہ تحقیقات ہوتی ہی رہینگی اس وقت تک فلسطینیوں کی نسل کشی کا اسرائیلی مشن پورا نہیں ہو جاتا۔
ReplyForward |












