بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے اپنے یوم پیدائش پر کہا میں ابھی سیاست سے سبکدوش نہیں ہوئی ،دلت ، پسماندہ ، غریب اور اقلیتوں پر جتائی امید ،2022؍کو بھول کر 2007؍کے نتیجہ پر نظر
مایاوتی نے اپنے بیان میں اور کیا کہا
میں اپنی آخری سانس تک پارٹی میں رہوں گی
کارکنوں کو گمراہ کن بیانات پر توجہ نہیں دینی چاہئے
اعلی ذات کے لوگ بی ایس پی کو نہیں دیتے ووٹ
ہمارا ووٹ فیصد بھی کم ہو جاتا ہے جو ٹھیک نہیں ]
نئی دہلی : عام انتخابات سے عین قبل مایاوتی نے انڈیا اتحاد میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا اور اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی تنہا انتخابات میں اترے گی ۔ اس اعلان سے یقینی طور پر انڈیا اتحاد کو جھٹکا لگا ہے جبکہ یہ بی جے پی کے لیے خوش آئند ہے ۔ مایاوتی نے کہا کہ وہ انتخابات کے بعد طے کریں گی کہ کس کے ساتھ جانا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جانا۔ واضح رہے کہ درمیان میں یہ خبر آئی تھی کہ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے اور سیٹ شیئرنگ پر بات چل رہی ہے لیکن آج کے اعلان سے شاید سارے دروازے بند کر دیے ۔ انھوں نے لکھنؤ میں اپنی سالگرہ کے موقع واضح کیا کہ ان کی پارٹی آئندہ انتخابات میں کسی بھی پارٹی سے اتحاد یا کسی اتحاد کا حصہ ہونے کے بجائے تنہا دلت، پچھڑوں، غریب اور اقلیتوں کے ساتھ الیکشن لڑے گی۔ساتھ ہی بی ایس پی سپریمو نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وہ سیاست سے ریٹائر نہیں ہورہی ہیں۔بلکہ اپنی آخری سانس تک وہ پارٹی کو تقویت فراہم کرنے کے لئے کام کرتی رہیں گی۔پارٹی کارکنوں کو اس طرح کی گمراہ کن ، بے بنیاد پروپیگنڈے پر دھیان نہیں دینا چاہئے ۔اپنی 68ویں یوم پیدائش کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ میں اس بات کو واضح کردینا چاہتی ہوں کہ ہماری پارٹی لوک سبھا انتخابات تنہا پوری تیاریوں کے ساتھ،دلت، پچھڑوں، غریب اور اقلیتوں کی طاقت کے ساتھ لڑے گی۔بی ایس پی اپنے سپریمو کی یوم پیدائش کو یوم عوامی بہبود کے طور پر منارہی ہے ۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ بی ایس پی نے سال 2007 میں تنہا الیکشن لڑ کر ریاست میں اکثریت کے ساتھ حکومت بنائی تھی۔اس لئے اس تجربہ کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے ہماری پارٹی لوک سبھا انتخابات تنہا لڑے گی اور ملک کی پونجی وادی، ذات وادی، تنگ و فرقہ پرست سوچ رکھنے والی سبھی پارٹیوں سے اپنی دوری بھی بنا کر رکھے گی۔ساتھ ہی سال 2007 کے اسمبلی انتخابات کی طرح اگر لوک سبھا انتخابات آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے بغیر ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے منعقد ہوئے تو ان کی پارٹی یقینا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔مایاوتی نے دعوی کیا کہ بی ایس پی اتحاد کے بجائے تنہاالیکشن اس لئے لڑتی ہے کیونکہ اس پارٹی کی اعلی قیادت ایک دلت کے ہاتھ میں ہے جن کے تئیں زیادہ تر پارٹی کی ذات والی ذہنیت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی ہے ۔اور یہی خاص وجہ ہے کہ اتحاد کرکے الیکشن لڑنے میں بی ایس پی کا ووٹ اتحادی جماعت کو تو چلا جاتا ہے لیکن ان کا اپنا بیس ووٹ و خاص کر اپر کاسٹ کو ووٹ بی ایس پی کو ٹرانسفر نہیں ہوپاتا ہے ۔بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ پارٹی کا ماننا ہے کہ اتحاد کر کے الیکشن لڑنے سے ان کی پارٹی کا فائدہ کم و نقصان زیادہ ہوتا ہے اور اس سے پارٹی کا ووٹ فیصد بھی کم ہوجاتا ہے اور پھر بی ایس پی سے اتحاد کرنے والی پارٹی کو پورا فائدہ پہنچ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں زیادہ تر پارٹیاں بی ایس پی سے اتحاد کر کے الیکشن لڑنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ مہینے پارٹی کی آل انڈیا میٹنگ میں میں اتفاق رائے آکاش آنند کو اپنا وارث ہونے کا اعلان کیا تھا۔اور اس وقت سے یہ غلط اور بے بنیاد خبر پھیلائی جارہی ہے کہ بی ایس پی سپریمو سیاست کو خیربادکہنے والی ہیں۔جس میں ذرہ برابر سچائی نہیں ہے ۔ میں اپنی آخری سانس تک پارٹی کی مضبوطی کے لئے کوشاں رہونگی۔












