یوپی سمیت پورے ملک میں عام انتخابات کی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے اور یوپی ان تمام سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے ۔ایسا لگتا ہے جیسے بھارت کے باضابطہ ہندو راشٹرا بننے سے پہلے ہی دارالسلطنت یوپی کے ایودھیا میں منتقل ہو چکا ہے ۔ایودھیا میں جس طرح تعمیری کام ہو رہے ہیں ،سڑکیں بن رہی ہیں ،چوراہوں پر مجسمے لگائے جا رہے ہیں ،روشنی کا انتظام ہو رہا ہے ،ہوٹلس اور ریستوران کھل رہے ہیں اس سے ایودھیا کے راجدھانی بن جانے کا گمان ہونا حیرت انگیز قطعی نہیں ۔ایک طرف صرف یوپی نہیں بلکہ پورے ملک کے ہندوؤں کو ایودھیا کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے دوسری طرف بی جے پی نے یوپی کے مسلم ووٹرس کو اپنی جانب ملتفت کرنے کے لئے "شکریہ مودی بھائی جان کے نام سے ایک پروگرام لانچ کیا ہے جو یوپی کے 80 پارلیمانی حلقوں کے مسلم ووٹرس کے لئے مخصوص ہے ۔یہ بات درست ہے کہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ۔مودی جی کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو یہ خلیج اور بڑھی ہے ۔خاص طور پر یوپی میں جہاں ایک ایسا وزیر اعلی لاکر بٹھا دیا گیا ہے جسے اسلام اور مسلمان دونوں کے نام سے ہی چڑ ہے ۔بلڈوزر بابا کے نام سے مشہور ہوچکے موصوف کے بلڈوزر کا رخ مسلمانوں کے گھروں کی جانب ہی رہتا ہے ۔80اور 20فیصد کے مابین اس کھلی سیاسی جنگ کا اعلان بھی یوپی کے موجودہ وزیر اعلی نے گذشتہ انتخابی ریلی میں کیا تھا ۔بی جے پی کا ہندوستانی مسلمانوں کو لے کر یہ نظریہ اس طرح بھی واضح ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے پورے ملک میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیتی ۔لیکن اس بار مزاج یار کچھ بدلا بدلا نظر آ رہا ہے ۔”شکریہ مودی بھائی جان” کے نام سےیوپی کے پارلیمانی حلقوں میں پرگرام چلانا عین ممکن ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے بعد اٹھنے والے جئے شری رام کے نعروں کی شدت کو تھوڑا کم کر نے کی حکمت عملی ہو ،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے انتخابی پروگرام سے کیا یوپی کے مسلمان ووٹرس بی جے پی کو ووٹ دینگے ؟یہی وہ اہم سوال ہے ۔جس کو مودی بھائی جان کمپین کی وجہ بھی سمجھا جا رہا ہے ۔رواں سوال میں ہونے والے انتخاب کی ایک سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انتخاب 2014اور 2019کے عام انتخاب سے قطعی الگ ہے ۔ماضی کے دونوں عام انتخاب میں بی جے پی این ڈی اے کے اپنےجن حلیفوں کے ساتھ انتخاب لڑ رہی تھی ان میں شیو سینا ہو اکالی دل ہو یا جے ڈی یو اس بار ان سے بی جے پی کو لڑنا بھی ہے اور جیتنا بھی ۔جبکہ دوسری طرف اس بار کانگریس کے ساتھ ملک کی 28اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی کو دعوت مبارزت دینگی ۔جہاں تک سوال یوپی کا ہے تو یہاں کی 80 پارلیمانی نشستیں کسی بھی پارٹی کو دہلی تک پہنچانے میں کلیدی رول ادا کرتی ہیں ۔بی جے پی یہ جانتی ہے کہ اسے اگر تیسری بار سرکار بنانی ہے تو سب سے پہلے یوپی کی تمام سیٹوں پر اپنی دعویداری کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہوگا ۔لیکن یوپی میں اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سماج وادی پارٹی ہے اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ اس بار بھی 20فیصد مسلمانوں کا ووٹ جانا طئے ہے لہذا کسی بھی صورت سے ان بیس فیصد ووٹوں کی مضبوط دیوار میں شگاف ڈالنا بہت ضروری ہے ۔یوپی میں مسلمانوں کے ووٹ بینک کو منتشر کرنے کے لئے بی ایس پی بھی اس بار پوری کوشش کریگی کیونکہ ابھی اس نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ نہ تو این ڈی اے کے ساتھ جائے گی اور نہ اینڈیا کے ساتھ ۔یہ قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ بہن مایا وتی کسی بھی جھگڑے میں پڑنے کے بجائے دور سے تماشہ دیکھینگی اور بعد از انتخاب جہاں بھی انہیں اپنا مفاد نظر آئے گا ادھر چپک جائینگی ۔لیکن بی جے پی ابھی بھی مطمئین نہیں ہے اس لئے وہ شکریہ مودی بھائی جان "کا ڈرامہ کر رہی ہے جہاں بی جے پی میں شامل مسلم خواتین اسٹیج پر آکر مسلم خواتین کو یہ بتائینگی کہ نریندر مودی کے دور حکومت میں جو پروگرام اور پالیسی مسلم خواتین کے لئے بنائے گئے ہیں ان سے مسلم خواتین کو کتنا فائدہ ہوا ہے ۔اس میں سب سے اہم طلاق والا مدعا ہوگا جو بقول بی جے پی نریندر مودی کا ماسٹر اسٹروک ہے ۔”شکریہ بھائی جان "یوپی کے مسلمانوں کا دل جیتنے کے لئے بنایا تو گیا ہے ،لیکن یہ کس طرح ممکن ہے جب کہ بی جے پی مسلمانوں پر اتنا بھی بھروسہ نہیں کرتی ہے کہ وہ انہیں اپنی پارٹی کا امیدوار بنائے ۔سوال کرنے والے تو یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا بی جے پی سپریمو کا ذہن اتنا کشادہ ہو گیا ہے کہ وہ شکریہ بھائی جان کہنے والی خواتین کو اس بار بی جے کے ٹکٹ سے نوازینگے ؟












