نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:امروہہ فائونڈیشن کے زیرِاہتمام انڈیا اسلامک کلچر سینٹر دہلی میں بر صغیر کی معروف شاعرہ صبیحہ سنبلؔ کے دوسرے مجموعۂ کلام’’فن اگر مکمل ہو‘‘ کی رسمِ اجراء عمل میں آئی۔واضح ہو کہ صبیحہ سنبلؔ عصرِ حاضر میں منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ نسائی ادب کی ایک بڑی آواز ہیں۔اس پروگرام میں جہاں صبیحہ سنبلؔ کی نئی کتاب کی رونمائی کی گئی وہیں امروہہ فائونڈیشن کی جانب سے معروف ادیبہ کشور جہاں زیدی،معروف شاعر متینؔ امروہوی اور معروف نقاد و دانشور حقانی القاسمی کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔پروگرام کی صدارت پروفیسر اختر الواسع نے کی جب کہ مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر شہپر رسول،معروف شاعر حمید گوہراور معروف اردو داں کامنا پرساد شامل ہوئیں۔اس پروگرام میں صبیحہ سنبلؔ کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے حقانی القاسمی نے کہا کہ بلا شبہ عصرِ حاضر میں صبیحہ سنبلؔ کی شاعری اہلِ نقد و نظر کو متاثرکرتی ہے ان کی شاعری کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ریختی کی نہیں بلکہ ریختہ کی شاعری ہے۔اس سلسلے سے صبیحہ سنبلؔ نے کہا کہ فن کبھی مکمل نہیں ہوتابس عروج تک ضرور پہنچتا ہے۔اس لئے قلم کار کو لگاتار اس فن میں اپنی کاوشیں پیش کرتے رہنا چاہئے۔رسمِ اجراء کے بعد ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا جس میں دہلی اور بیرونِ دہلی کے شعراء نے کلام پیش کیا۔پروگرام کی نظامت ریڈیوانائونسراور شاعر عرفان اعظمی نے کی۔آخر میں امروہہ فائونڈیشن کے بانی اور پروگرام کے منتظم فرمان حیدر نقوی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔












